11 فروری 2026 - 10:34
اسرائیل آج پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے / ایران امام خامنہ‌ای کی قیادت میں ہمیشہ سر بلند اور مستحکم رہے گا، شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: ایران نے 47 سالہ دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور مستحکم اور باعزت رہا ہے اور ترقی کر رہا ہے اور مستضعفین کی امید ہے۔ امام خامنہ‌ای (حفظہ اللہ) نے اسلامی جمہوریہ ایران کو سائنسی ترقی اور طاقت پر مبنی مؤثر ممالک کے راستے پر ڈال دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے حاج علی سلہب (مشہور بہ الحاج مالک) کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا: "الحاج علی سلہب جہادی محاذوں پر ایک جہادی کمانڈر تھے۔ وہ بقاع کے فرزند تھے۔ انھوں نے 1983 سے مقاومت میں شمولیت اختیار کی اور بہت سی ذمہ داریاں نبھائیں اور ان کی موجودگی نمایاں تھی۔"

انھوں نے تکفیریوں کے خلاف جنگ میں الحاج مالک کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "تکفیریوں کے خلاف جنگ میں الحاج مالک کا اہم اور مؤثر کردار تھا۔ وہ آزادی سے پہلے اور بعد کے بہت سی مزاحمتی کارروائیوں میں شریک اور 2006 کی 33 روزہ جنگ میں بھی شامل رہے۔"

محور مقاومت میں ایران کا کردار

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ایران میں اسلامی انقلاب، سنہ 1979ع‍ میں فتح کے بعد، دنیا کے مستضعفین کے ساتھ کھڑا ہو گیا، خطے میں مقاومت و مزاحمت کو زندہ کیا، اور آزادی کے لئے پیارے فلسطین کا پرچم بلند کیا۔"

انھوں نے مزید کہا: "ایران نے 47 سال دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور مستحکم اور باعزت رہا ہے اور ترقی کر رہا ہے اور مستضعفین کی امید ہے۔ امام خامنہ‌ای (حفظہ اللہ) نے اسلامی جمہوریہ ایران کو سائنسی ترقی اور طاقت پر مبنی مؤثر ممالک کے راستے پر گامزن کر دیا ہے۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "اسلامی جمہوریہ اپنی استقامت، ـ خاص طور پر اسرائیلی جارحیت کے مقابلے ـ میں، فتح یاب ہوئی ہے اور معزز امام خامنہ‌ای (حفظہ اللہ) کی مستحکم قیادت میں برقرار رہے گی۔"

شیخ نعیم قاسم نے شیعیان پاکستان پر تکفیریوں کے حالیہ دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے مزید کہا: "میں پاکستانی قوم کو اس جرم پر تعزیت پیش کرتا ہوں جو ایک منحرف داعشی نے مسجد اور حسینیہ خدیجۃ الکبریٰۜ میں دھماکہ کرکے کیا۔"

لبنان میں مزاحمت کی پوزیشن اور قانونیت (Legitimacy)

شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا: "لبنان میں ہماری مزاحمت خدا کی راہ میں جہاد اور جارحیت کے مقابلے میں، سرزمین، عزت اور وقار کا دفاع و تحفظ ہے اور یہ ایک جائز مزاحمت ہے جس کی قانونیت خدا کی طرف سے ہے۔ فلسطین سے متعلق ہر چیز لبنان اور خطے سے متعلق ہے کیونکہ "اسرائیل" پورے خطے کے ممالک میں پھیلنے کے لئے فلسطین پر انحصار کرتا ہے۔ اسرائیلی دشمن ایک کینسر ہے، اور بین الاقوامی قانون جب "اسرائیل" کی بات کرتا ہے تو اسے ایک قابض ریاست سمجھتا ہے۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اعلان کیا کہ "اگر لبنانی حکومت خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا چاہتی ہے، تو اسے ایک حامی کے طور پر مقاومت کی ضرورت ہے کیونکہ مقاومت کے پاس تجربہ اور عزم ہے۔ چنانچہ یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ دیکھ لے کہ مقاومت کس طرح اس کا ساتھ دے سکتی ہے اور وہ کس طرح مقاومت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "کوئی بھی لبنان کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں، اسے حکم نہیں دے سکتا۔ غیر مسلح ہونا اسرائیل اور امریکہ کے مفاد میں ہے، نہ کہ لبنانی حکومت کے مفاد میں۔ مقاومت قومی معاہدے میں شامل ہے، اور قومی معاہدے کا آرٹیکل 3 "کسی بھی وسیلے سے" "لبنان کی ـ اسرائیلی قبضے سے ـ آزادی کی بات کرتا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی صورت حال کا جائزہ اور مزاحمت کی تسلسل پر زور

شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا: "اسرائیلی ریاست آج، تمام سہولیات اور بین الاقوامی حمایت کے باوجود، پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے، اور یہ ریاست لبنان، غزہ، ایران اور یمن میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی ہے۔"

انھوں نے واضح کیا: "مقاومت کی بنیاد جانفشانی اور قربانی ہے، لیکن جو کچھ مقاومت حاصل کرتی ہے وہ حکومتیں حاصل نہیں کر سکتیں: نجات، آزادی و خودمختاری، سربلندی اور عزت۔ یہ ایک خزانہ اور ایک ذخیرہ ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔"

نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا: "امریکہ آج پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ یہ ملک نہ صرف کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا ہے، بلکہ دشمن اور قومیں اسے نہیں چاہتیں۔ ہمارے لئے یہ اہم ہے کہ "اسرائیل" کی کوئی سرحد نہ ہو اور یہ ریاست غیر مستحکم رہے، اور فلسطینیوں کی یہی استقامت اور ہماری اپنی استقامت خود بخود، دشمن کو اپنا مقصد حاصل نہیں کرنے دیتی۔  جو مقاومت پر گذری ـ پیجرز دہشت گردانہ حملے سے لے کر دو سیدوں، سید حسن نصر اللہ و سید ہاشم صفی الدین، ـ بہت بھاری ہے، لیکن ہم سر بلند رہے۔"

انھوں نے حزب اللہ کے عوام کے معاملات اور جائے پناہ فراہم کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا اور پارلیمانی انتخابات بروقت منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معاشی معاملات پر زیادہ توجہ دے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha