23 فروری 2026 - 21:38
شہید نصراللہ اور امام خامنه‌ای کے درمیان محبت و عقیدت کا رشتہ قائم تھا / ہم ثابت قدم ہیں / ہم دونوں نتائج کے لئے تیار ہیں: فتح یا شہادت،شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم  نے حزب اللہ لبنان کے دو سیکریٹری جنرلوں شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی عظیم الشان تشییع جنازہ اور تدفین کی پہلی برسی کے موقع پر العہد کے ساتھ انٹرویو میں سید حسن نصراللہ کو آسمان سے سر ملاتا ہؤا پہاڑ قرار دیا، اور ان کے رازدار دوست اور رفیق کار، سید ہاشم صفی الدین کو مقاومت کا سہارا اور ستون قرار دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ خبر رساں ادارہ اہل بیت(ع) ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آج حزب اللہ کے دو عظیم الشان شہداء، سید حسن نصراللہ اور سید ہاشم صفی الدین کے تاریخی تشییع جنازہ کی برسی ہے۔ اس شاندار دن کے بے شمار مناظر، اور بیروت کے وہ نظارے ـ جس نے شاید اپنی تاریخ میں اتنا بڑا مجمع کبھی نہ دیکھا ہو ـ یادوں میں نقش ہو گئے ہیں۔ 23 فروری، وہ دن جب عوام نے سید المقاومہ سے وداع کیا۔

جن دنوں لبنان غاصب صہیونی ریاست کے خطرات کے سائے میں تھا، لوگوں نے بغیر کسی خوف کے تشییع جنازہ کے راستے میں مارچ کیا۔ انھوں نے اپنے چہرے مبارک تابوتوں کی طرف موڑ لئے اور جیسے ہی شہداء کے پاکیزہ پیکر نمودار ہوئے، گلے جذبات سے بھر گئے اور پورے راستے میں تجدید بیعت کے طور پر ہاتھ بلند ہوتے رہے، گویا ان کے دل ان کے سینوں سے نکل کر شہیدوں کی پیروی کرنے لگے تھے۔ یہ منظر ایک تجدید شدہ عہد تھا، نہ کہ حتمی وداع۔ امتِ سید نے "ہم اپنے عہد پر قائم رہیں گے" کے عہد کی تجدید کی، اور یہ تشییع جنازہ، جیسا کہ حزب اللہ کے دبیرکل جناب شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا، "مقاومت جاری رکھنے کا عہد اور پیمان تھا۔"

اس شاندار اور تاریخی تشییع کی پہلی برسی پر، شیخ نعیم قاسم نے لبنان کی العہد نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سید حسن نصراللہ کو آسمان سے سر ملاتا ہوا پہاڑ قرار دیا، اور ان کے رازدار رفیق، سید ہاشم صفی الدین کو مقاومت کا سہارا قرار دیا۔

شیخ قاسم، مقاومت کے شہید راہنماؤں کی عظمت کو یاد تازہ کرتے ہوئے، مقاومت کے سفر کے آغاز کی طرف لوٹتے ہیں اور ان رہنماؤں کی زندگی کو یاد کرتے ہیں، گویا کہ یہ سب کل کی بات ہو۔ کئی دہائیاں گذر گئیں، لیکن شیخ آج بھی انہیں شوق سے یاد کرتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں اس لئے بات کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ قریب سے رہ چکے ہیں، ان کی مثالی خصوصیات نے ان کی یادداشت پر ایسی تصاویر نقش کر دی ہیں کہ وقت انہیں مٹا نہیں سکتا؛ بلکہ یہ تصاویر زیادہ پختہ اور زندہ م پائندہ ہو جاتی ہیں۔

شیخ الشہدا، شیخ راغب حرب، سرزمین جنوب [لبنان] کے فرزند ہیں، جیسا کہ سیکرٹری جنرل انہیں ابن الجنوب کہہ کر پکارنا پسند کرتے ہیں، شیخ الشہداء سے لے کر مقاومت اسلامی کے سید الشہدا، سید عباس موسوی تک، جو سب کے محبوب اور ہردلعزیز تھے، اور جنہوں نے اپنی خالص تبلیغی آگاہی سے منطقۃ البقاع کو زندہ کیا، اور نہ صرف مقاومت کے ستون "شہید عماد مغنیہ" کے ساتھ، بلکہ وہ تمام لوگ جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے، اور وہ مسلسل کام کے طریقوں کو فروغ  دینے اور صلاحیتوں کو تیار کرنے میں مصروف رہتے تھے۔

شیخ قاسم، العہد نیوز ویب سائٹ کے ذریعے، شہداء کی یاد سے لے کر مقاومتی عوام تک، محبت اور وفاداری کے پیغامات منتقل کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو چھپاتے نہیں ہیں کہ جب سے انھوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، عوام سے ان کی محبت اور بڑھ گئی ہے، کیونکہ وہ ان کے اہل خانہ ہیں اور تحریک مقاومت اور شہداء کے فرزند ہیں۔

مکالمے کا متن:

سوال: دو شہید رہنماؤں کے عظیم الشان جنازے کی پہلی برسی پر، وہ مناظر 'دردِ فراق' اور 'عہدِ وفا کی تجدید' کے درمیان ایک 'لمحۂ اتحاد' کی مانند نظر آئے۔ اس دن کی کون سی یادیں آپ کے ذہن میں محفوظ ہیں؟ اور آپ کے خیال میں کروڑوں کے اس اجتماع کے کیا سیاسی نتائج برآمد ہوئے، اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر؟

جب جناب سید حسن (رضی اللہ عنہ) 27 ستمبر 2024 کو شہید ہوئے، تو میں نے جناب سید ہاشم (رضی اللہ عنہ) سے ان کی تدفین کی جگہ اور جنازے کے بارے میں بات کی جو ہم چند دنوں میں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ تدفین میں جلدی کرنا مستحب ہے۔ تاہم، اسرائیلی بمباری کی شدت نے ہمیں اس بات پر آمادہ کیا کہ ہم جنازے کو حالات معمول پر آنے تک، ممکنہ طور پر ایک ہفتے کے لئے، ملتوی کرنے پر رضامند ہو جائیں۔ پھر جناب سید ہاشم کی شہادت کی لرزہ خیز خبر آئی، جو 4 اکتوبر 2024 کو مرجہ میں اپنے گھر پر صہیونی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔

اس وقت، اسرائیلی فضائی حملوں کی شدت کی وجہ سے ـ جو ان کی شہادت کی جگہ پر جاری رہے تاکہ ان تک رسائی کو روکا جا سکے، ـ ہمیں ان کے انجام کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ان کے جسم مطہر کی بازیابی کے بعد بھی، اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے، ہمارا جنازے کی تقریب منعقد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یہ تاخیر جناب سید ہاشم کی شہادت کے ساتھ مزید بڑھ گئی، کیونکہ سیکیورٹی کی صورت حال جنازے یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دیتی تھی۔

جب ہم نے جنازے کا وقت مقرر کیا، تو ہم نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی وقت اور انہی حالات کی طرف راہنمائی فرمائی تھی، کیونکہ اس تاخیر نے ہمیں دونوں مقدس مزارات کے لئے دو مناسب جگہیں منتخب کرنے اور ان دونوں عظیم اساتذہ کے شایانِ شان، جنازہ بپا کرنے کا موقع دیا، جو داخلی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شان کے مطابق ہو۔

یہ جنازہ انتہائی پرشکوہ تھا اور اس میں لاکھوں افراد کی غیر معمولی شرکت، لبنان اور خطے کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ عوام کی اپنے سید الشہدائے امت اور ان کے ساتھ سید ہاشم سے محبت بے مثال تھی۔ دنیا نے جو کچھ دیکھا، اس نے لبنان کے عوام کی زندگیوں میں مقاومت کی جڑوں کی گہرائی کو عیاں کیا اور اس راستے پر ثابت رہ کر گامزن رہنے کے پختہ عزم پر براہ راست اثر ڈالا۔ "ہم اپنے عہد اور پیمان پر ہیں" کا نعرہ حقیقت اور مستقبل دونوں کی عکاسی کرتا تھا۔

یہ جنازہ حلف وفاداری اور مقاومت کو جاری رکھنے، مقاومت کی صلاحیتوں کی تعمیر نو میں اقدامات کا امکان دوبارہ حاصل کرنے اور اس کے گرد عوامی اتحاد کا اعادہ کرنے کے عہد کی تجدید تھی۔ اس کی سیاسی اہمیت اس میں ہے کہ تحریک مقاومت - خواہ قیادت ہو، جنگجو ہوں یا عوام - قائم و دائم ہے اور طاقتوروں کی جنگ محض ایک منظر ہے اور اس تحریک نے، دو محترم شخصیات کی قیادت میں، جو کچھ پیش کیا ہے، وہ، وہ خون ہے جو مقاومت اور اس کے وقار کو زندہ کرنے کے لئے بہایا گیا ہے۔ یہ نظریاتی، قومی اور جان نثارانہ مقاومت، ـ شدیدترین ضربیں سہنے، قربانیاں دینے یا دشمن کی سازشوں کے باوجود ـ ناقابلِ شکست ہے۔ یہ مقاومت حقیقت پر اور حقیقت کے لئے، قائم کی گئی ہے اور جو لوگ مقاومت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ خواہ شہادت کے ذریعے ہو یا فتح کے ذریعے، فتح کے مستحق ہیں۔

سوال: اس جنازے کے ذریعے منتقل ہونے والے پیغامات کے تناظر میں، امریکہ کے جارحانہ موقف، خاص طور پر اس کی افشا شدہ درخواستیں کہ جنازے پر بمباری کی جائے، عیاں ہو گئیں۔ آپ اس موقف کے پس منظر اور نتائج کو کس نظر سے دیکھتتے ہیيں؟

جواب: صہیونی ریاست ایک متکبر اور استعماری ادارہ ہے جسے پہلے برطانیہ اور پھر امریکہ نے بین الاقوامی اور مغربی حمایت کے ساتھ پروان چڑھایا۔ یہ ریاست امریکہ کے زیرِ انتظام ہے اور بنیادی طور پر اس کے مفادات کی خدمت کرتی ہے۔ امریکہ کا ارادہ تھا کہ اسے خطے میں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرے تاکہ خطے کے ممالک اور عوام پر غلبہ حاصل کیا جا سکے اور ساتھ ہی پورے فلسطین میں اسرائیلی وجود کو قانونی حیثیت دے کر فلسطینی کاز کو ختم کیا جا سکے۔ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور پھر جولان کی پہاڑیوں کو اس کا حصہ ماننے، دو ریاستی حل ترک کرنے، غزہ کے خلاف امریکی حمایت یافتہ تباہ کن جنگ اور مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع جیسے اقدامات، فلسطینی قوم پر ظلم کے ساتھ، سب امریکہ کے اس فیصلے کو طشت از بام کرتے ہیں کہ وہ خطے پر طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

لبنان کے خلاف جارحانہ جنگ بھی ایک امریکی جنگ ہے جو اسرائیلی جارحیت کے ذریعے امریکی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ یہ بات 27 نومبر 2014 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، اسرائیلی جارحیت کے جاری رہنے کے انتظام اور اسی کے ساتھ لبنانی حکومت پر اپنا سیاسی حل مسلط کرنے کے لئے سیاسی دباؤ ڈالنے اور مقاومت کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں عیاں تھی، تاکہ اسے تباہ کیا جا سکے۔

ٹرمپ کا نعرہ، 'طاقت کے ذریعے امن،' کا مطلب ـ طاقت کے ذریعے ممالک کو نوآبادی بنانا اور ان پر قابو پانا، ان کو سفاکیت اور وحشیانہ طریقے سے استعمال کرنا ـ ہے، اور کنٹرول کے تابع کرنے پر مجبور کرنا تاکہ وہ کسی صورت میں بھی اپنا دفاع نہ کرسکیں۔ یہاں، "عظیم تر اسرائیل" کا منصوبہ امریکی تسلط سے ہم آہنگ رہتا ہے، جو "اسرائیل" کو آلہ کار کے طور پر اس وقت تک استعمال کرتا ہے جب تک وہ امریکی بالادستی کے مقصد کی تکمیل کرتا ہے، اور جب "اسرائیل" عمل کرنے سے قاصر ہو تو وہ براہ راست مداخلت کرتا ہے، جس کی مثال ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی 12 روزہ جنگ ہے۔

"اسرائیلی" ریاست کو روزانہ ہر قسم کے ہتھیاروں کی فراہمی، ان کو لے جانے والے بحری بیڑے، امریکی فوجی کمانڈ کی طرف سے براہ راست فوجی ہم آہنگی اور انتظام، اور "اسرائیل" کی سلامتی کی آڑ میں سیاسی حرکتیں، یہ سب براہ راست امریکی انتظام کی علامتیں ہیں، جو کسی بھی مقاومت، کسی بھی آزادی کی تحریک اور اس نئی امریکی نوآبادی کی امریکی خواہش پر کسی بھی قسم کے احتجاج کو مسترد کرتا ہے۔

سوال: سیاسی اثرات سے ہٹ کر، وداع کا لمحہ خاص انسانی جہات کا حامل تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو ان دو شہید رہنماؤں کو قریب سے جانتے تھے۔ سید حسن نصراللہ کی تدفین اور ان سے عوامی وفاداری کے مناظر کو ایک سال گذر جانے کے بعد، آپ ان کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات اور ان کے ساتھ اپنے طویل تجربے کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟

جواب: میں 1987 سے سید الشہدائے امت جناب سید حسن (رضی اللہ عنہ)، کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتا تھا، میں بطور نائب سربراہ ایگزیکٹو کونسل ان کی صدارت کے دوران اور بطور رکن کونسل ان کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ جب جناب سید عباس (رضی اللہ عنہ) نے ایک سال سے بھی کم عرصے کے لئے معاملات سنبھالے، تو ہم کونسل میں کے رکن اور ان کے ساتھ تھے۔ پھر، فروری 1992 میں سید عباس (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کے شہید سید حسن (رضی اللہ عنہ)  کے یوم شہادت تک، نائب سیکرٹری جنرل کے طور پر،  31 سال تک خدمات انجام دیتا رہا۔

ہم ایمانی بھائی، راستے کے ساتھی اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) اور ان کے بعد امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پرچم تلے مصروف عمل تھے۔ ہم نے مقاومت کے ہر مرحلے، اس کی مشکلات، خطرات، پیچیدگیوں، فتوحات اور قربانیوں کا مل کر ایک ساتھ سامنا کیا۔ میں نے کئی بار ان سے کہا کہ "میں آپ سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں" اور انھوں نے کئی بار مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ یہ ہمارے تعلقات کی سطح کو ظاہر کرتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر تھے اور مسلسل مشاورت اور مستقل تعاون کی صورت میں نمایاں ہوتا تھا تھا۔ سید المقاومہ کو اعلیٰ ترین اعزاز ملا ہے، لیکن میں نے ذاتی سطح پر بہت کچھ کھو دیا ہے۔ میں نے ایک پناہ گاہ، ایک رہنما، ایک ممتاز شخصیت اور ایک درخشاں ذہن کھو دیا ہے۔ یہ فقدان، قربت اور تعامل کا فقدان ہے، لیکن میں اللہ کی قضا و قدر پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے ان کی غیر موجودگی میں ہمیشہ ان خصوصیات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

سوال: شہید سید ہاشم صفی الدین کے بارے میں، جنہوں نے حزب اللہ اور مقاومت کے تنظیمی اور عملی ڈھانچے میں بنیادی کردار تھا، ان کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا تھا؟ اور ذاتی طور پر، ان کی شہادت کے بعد آپ نے کیا کھویا؟

جواب: میں مسلسل جناب سید ہاشم (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تعامل میں تھا، کیونکہ وہ ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ تھے اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ ـ جو کہ پارلیمانی ایکشن کونسل کا سربراہ تھا ـ ہم آہنگی کرتے تھے۔ ہم تمام تنظیمی کمیٹیوں میں ساتھ ہوتے تھے جو ڈھانچوں کے بارے میں بطور 'نامزد نمائندگان کونسل' اور کبھی رپورٹر کے طور پر اور اکثر سیکرٹری جنرل، سید حسن (رضی اللہ عنہ) کی سربراہی میں, فیصلے کرتی تھیں۔

ہم مقاومت اور قیادت کی راہ پر، ان ذمہ داریوں اور قیادتوں میں ساتھ تھے جن کے لئے آگاہی، حکمت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نے مجھے ایک ایسے باشعور، عہد کے پابند اور باریک بین شخصیت ـ جو سب کچھ مقاومت تحریک اور اس کے عوام کی خدمت میں تھا ـ کے ساتھ تعاون کرنے سے ـبہت لطف اندوز ہونے کا موقع دیا، ۔ مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے؛ وہ حمایت کا ایک ستون تھے اور ان شاء اللہ، ہم ان کی تعمیر کردہ اور قائم کردہ چیزوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

سوال: اگر حضرت آیت اللہ شہید سید نصراللہ کے ساتھ ایک طویل رفاقت اور مشترکہ ذمہ داری کا آپ کا رشتہ رہا ہے، تو یہ راستہ ولایت کے راستے کی پابندی سے جدا نہیں تھا، ایسی پابندی جو حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے ساتھ تعلق میں واضح طور پر عیاں ہے، خاص طور پر ان دنوں میں جب ہم اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ تو آپ شہید نصراللہ (رضی اللہ عنہ) اور امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے باہمی تعلق کو کیسے بیان کریں گے؟

جواب: حضرت سید حسن (رضوان اللہ علیہ) انقلاب اسلامی کے رہبر معظم، امام خامنہ ای (دامت برکاتہ) سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور پورے اشتیاق کے ساتھ آپ کے ایک ایک لفظ کے منتظر رہتے تھے، ان الفاظ کی کی پیروی کرتے تھے، ان کا تجزیہ کرتے تھے اور ان سے استفادہ کرتے تھے اور کبھی کبھار انہیں بھائیوں اور عوام کے سامنے دہراتے تھے۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) بھی اس محبت اور اس یقین کی رو سے اس محبت و عقیدت کا جواب اس اہلیت اور مقام و منزلت کی بنا پر دے دیتے تھے جو حضرت سید حسن (رضوان اللہ علیہ) کو حاصل تھا۔

رہبر انقلاب اسلامی کو سید پر، ان کے درست فیصلوں، تجربے اور موقف کی درستگی پر، مکمل اعتماد تھا۔ سید شہید (رضی اللہ علیہ) رہبر کے حوالے سے لوگوں کو یاددہانیاں کراتے تھے اور ذمہ دار اہلکاروں اور بھائیوں کو ان کی اطاعت اور حمایت کی ترغیب دلاتے تھے، کیونکہ وہ امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے نائب اور ہمارے ولی امر ہیں۔ رہبر معظم سے سید شہید کا تعلق ایمان کی بلند ترین سطح، مقصد کے لئے قربانی اور ادراکی ہم آہنگی نیز عملی تعاون سے متصف تھا۔

سوال: اس پرشکوہ جنازے کی یاد دلاتے ہوئے، گہری وفاداری کا وہ لمحہ جس نے عہد و پیمان کی تجدید کی اور رہنماؤں کے سفر کی اجتماعی یادداشت کو اس کے تمام مراحل میں، زندہ کیا، حالیہ تعزیتی تقریبات ہمیں اس تحریک کے آغاز کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ان آغاز میں، شہید شیخ راغب حرب کا نام نمایاں ہے۔ آپ ان کی شخصیت کو اس نسل سے کیسے متعارف کروائیں گے جو ان کے زمانے میں نہیں رہی؟ اور بانی مرحلے میں ان کی موجودگی کو کس چیز نے ممتاز کیا؟

جواب: امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی قیادت میں 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح کے ساتھ، حضرت شیخ راغب حرب (رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے واضح طور پر امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) سے وفاداری اور بیعت کا اعلان کیا اور اس بابرکت انقلاب سے وابستگی کا پرچار کیا۔ وہ اس میں حقیقی ایمان، اخلاص اور مظلومین کے مقاصد سے وابستگی کو مجسم ہوتا ہؤا دیکھتے تھے۔ حضرت شیخ نے لبنان میں ایرانی انقلاب کی حمایت کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ایران میں کئی کانفرنسوں میں شرکت کی۔

جہاں تک لبنان کی سرزمین پر ان کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو وہ ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اسرائیلی دشمن کے خلاف مقاومت کی حمایت کی اور مقاومت کی تمام شکلوں کو استعمال کیا، جس میں زمین پر جمے رہنا اور مقبوضہ علاقے کے ساتھ براہ راست مقابلہ کرنا، شامل ہے۔ ان کا قول ـ کہ "ہمارا موقف ہی ہمارا ہتھیار ہے اور دشمن سے مصافحہ کرنا [اور ہاتھ ملانا] اسے تسلیم کرنے کے مترادف ہے" صرف ـ اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ حضرت شیخ، سرزمین جنوب کے فرزند اور علمائے جبل عامل کی نسل سے تھے۔ وہ عوام کی روزمرہ زندگی میں، ان کی غربت میں، کھیتی باڑی میں، راتوں کے جاگنے میں، میل جول میں، غریبوں میں، اور سب سے بڑھ کر، مقاومت کے جنگجوؤں کی حمایت اور عملی طور پر، اور پشت پناہی کے ذریعے ان کی مدد میں شریک زندگی گذارتے تھے۔

سوال: اسرائیلی دشمن کے خلاف مزاحمت اور زمین پر جمے رہنے کے جذبے  کے موقع پر ـ جسے شہید شیخ راغب حرب نے جنوب میں مجسم کیا تھا ـ ابتدائی مراحل میں مقاومت اسلامی کے سید الشہدا، سید عباس الموسوی کا بنیادی کردار دیکھا گیا، جنہوں نے اپنے تبلیغی اور جہادی کردار کے ساتھ ساتھ، تنظیمی کام کی بنیاد رکھنے میں بھی کردار ادا کیا۔ تشکیل کے اس مرحلے میں آپ ان کے کردار کی کیا تشریح کرتے ہیں؟ اور ان کا منفرد کردار کیا تھا؟

جواب: جناب سیکرٹری جنرل اور مقاومت کے سید الشہدا، سید عباس الموسوی (رضوان اللہ علیہ) نے اپنی خالص تبلیغی آگاہی سے منطقۃ البقاع کو زندہ کیا۔ ان کا کردار شہید عالم دین سید محمد باقر الصدر (رضوان اللہ علیہ) اور پھر امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہ) سے بہت متاثر تھا، جنہوں نے شروع ہی سے ان کی بھرپور جوش، محبت اور لامحدود قربانی کے ساتھ، حمایت کی۔

سید عباس ان 9 ارکان میں سے ایک تھے جو 1982 میں گروہ کے ترجمان کے طور پر، امام خمینی (رحمہ اللہ) کے ہاتھ پر بطور رہبر اور ولی،  بیعت کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے، اور وہ 1992 میں اپنی شہادت تک، یعنی مسلسل دس سال کا عرصہ، حزب اللہ کی پہلی کونسل کے رکن رہے۔

ان کی کار ان کا متحرک گھر تھی اور وہ وادی بقاع، بیروت، جنوب، دمشق، زبدانی ـ اور جہاں بھی کام تقاضا کرتا، ـ سفر میں رہتے تھے۔ وہ نہ تھکنے والے، سب کے محبوب اور سب کے نزدیک مقبول تھے، جیسا کہ وہ سب کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے۔ ان کا کوئی ذاتی پروگرام نہیں تھا۔ انھوں نے کوشش کی کہ سیکرٹری جنرل کا عہدہ شہید سید حسن (رضی اللہ عنہ) کو دیا جائے، لیکن سید الشہدائے امت نے اپنے استاد سے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، چنانچہ جناب سید عباس (رضی اللہ عنہ) 1991 کے وسط میں سیکرٹری جنرل بن گئے۔

جب مجلس شوریٰ تشکیل ہوئی اور میں اس کا سیکرٹری جنرل بنا، تو ایک نیا عہدہ بنایا گیا: نائب سیکرٹری جنرل۔ ایک اجلاس میں جہاں فرائض طے کئے جا رہے تھے، انھوں نے اس عہدے کے لئے میرا نام تجویز کر کے مجھے حیران کر دیا۔ چنانچہ میں نے اعتراض کیا کیونکہ انھوں نے پہلے مجھ سے مشورہ نہیں کیا تھا، لیکن انھوں نے کہا: "میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ رہیں؛ یہ ایک ذمہ داری ہے اور امید ہے کہ آپ قبول کریں گے۔" ایسے پاکباز اور مخلص انسان کے سامنے جو اللہ تعالیٰ سے وفادار تھا، میں انکار نہیں کر سکا۔

سوال: سید عباس کی شہادت نے مقاومت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن لمحہ رقم کیا۔ ان کی شہادت نے مقاومت کے راستے پر کیا اثر ڈالا؟ اور ان کے خیالات اور نقطہ نظر کے وہ کون سے پہلو ہیں جو ان کی شہادت کے بعد بھی زندہ ہیں؟

جواب: دو وصیتیں، حزب اللہ کی ساخت میں ان کے حصے کو مختصراً بیان کرتی ہیں: اول ان کا یہ قول: "بنیادی وصیت، مکتب مقاومت کا تحفظ ہے" اور دوسری، عوام سے خطاب ہے: "ہم اپنی جانوں سے آپ کی خدمت کریں گے"۔

چنانچہ حزب اللہ کا ڈھانچہ مقاومت کو ترجیح دینے اور عوام کی خدمت کرنے پر مبنی ہے اور یہ ان کی میدانی سرگرمیوں میں جھلکتا ہے۔ وہ اسرائیلی دشمن کے خلاف آپریشن شروع ہونے سے پہلے مقاومت کے مجاہدین سے ملنے کے خواہاں تھے اور سیکرٹری جنرل بننے سے پہلے، انھوں نے جنوب میں شوریٰ کونسل کا نمائندہ منتخب کیا تاکہ مقاومت کے کام سے قریبی تعلق قائم رہے۔

عوام کی خدمت میں، ان کا جذبہ فیاضانہ تھا، وہ عوام کی ضروریات کی پیروی کرتے تھے، ان کا بوجھ کم کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے، اور کی مدد کرتے تھے، سماجی سرگرمیاں انجام دیتے تھے اور ان کی خدمت کے لئے ادارے قائم کرتے تھے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ جماعت، تحریک حزب اللہ کو عوامی مسائل کے میدان میں مجسم کرتی ہے۔ یہ جماعت، امور و معاملات کی ایک تنظیم ہے اور یہ خود مقصد نہیں ہے۔ بلکہ مقصد، مقاومت اور عوام کی خدمت کے ذریعے سرزمین کی آزادی ہے، چاہے وہ آنکھوں کے پلکوں ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ یہ جماعت عوام کے لئے اور عوام کے ساتھ ہے اور یہی ان کے خیالات اور نظریات کا ثمرہ ہے۔

ان کی شہادت ایک موڑ تھی، جس نے نے اس بھاری قیمت کو دکھایا جو مقاومت کے راستے پر چلنے والے ادا کرتے ہیں، اور یہ استقامت کا محرک بن گئی، خاص طور پر جب یہ کامیابی اسلام کے لئے قربان ہونے والے مرد، سید عباس (رضی اللہ عنہ) جیسے شخص کے ذریعے حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا؛ مؤمنوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا۔ ان میں سے بعض نے اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے [اپنے عہد میں] کوئی تبدیلی نہیں کی۔" (سورہ احزآب، آیت 23۔)

سوال: سیکورٹی اور فوجی میدان میں، شہید کمانڈر الحاج عماد مغنیہ کا نام ایک نمایاں ذہین انسان کے طور پر سامنے آیا جنہوں نے میدانی کارکردگی کی ترقی میں کردار ادا کیا۔ ان کے تجربے کو کس چیز نے ممتاز کیا؟ اور وہ کیونکر مقاومت کی تاریخ کے نمایاں ترین اور بااثر ترین کمانڈروں کی صف میں شامل ہو گئے؟

جواب: جہادی عمل مقاومت اسلامی کی بنیاد ہے اور یہ ہمارا بنیادی دینی فریضہ ہے جو تمام دیگر فرائض پر مقدم ہے، اور ہر اس چیز کی بنیاد ہے جو اس فریضے سے وابستہ ہیں؛ اور وہ ہے مقبوضہ سرزمین کی آزادی اور فلسطین کی حمایت کے لئے اسرائیلی دشمن کے خلاف مقاومت و مزاحمت۔ الحاج عماد مغنیہ (رضی اللہ عنہ) غیر معمولی سیکیورٹی اور فوجی اہلیت، نوجوانی سے عملی تجربے اور امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے راستے اور امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت سے وابستہ خالص اسلامی عہد کے حوالے سے ممتاز شخصیت تھے۔ اس چیز نے انہیں حزب اللہ میں جہادی قیادت کی صف اول تک پہنچا دیا اور وہ مقاومت میں سیکیورٹی اور فوجی امور سے متعلق تمام معاملات میں سید حسن نصر اللہ (رضی اللہ عنہ) کے معاون و مددگار تھے۔

انھوں نے اپنا اثر ان اہلکاروں پر مرتب کیا جنہیں انھوں نے تربیت دی تھی اور جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ وہ مسلسل کام کے طریقوں کو ترقی دینے اور صلاحیتیں پیدا کرنے میں مصروف رہتے تھے، استعدادوں کی نشاندہی کرتے تھے اور انہیں پروان چڑھاتے تھے، اور اپنی قابل اور بااثر قیادت میں انہیں اہم ذمہ داریاں سونپ دیتے تھے۔ وہ تمام لوگ جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے اور مقاومت کے بہت سے رہنماؤں، ـ چاہے وہ جو شہید ہوئے چاہے وہ جو بقید حیات ہیں، ـ نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ ان کے شاگرد تھے اور انہوں نے ان سے تربیت حاصل کی تھی۔

الحاج عماد نے مقاومت کے اس نقطہ نظر کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور انتہائی اہم مرحلے میں قیادت سنبھالی جو آزادی پر منتج ہؤا، اور صلاحیتوں کو حاصل اور متنوع اہلکاروں کو اکٹھا کیا۔ شاید ان کی سب سے درست توصیف وہی ہے جو حضرت سید اعلیٰ (رضی اللہ عنہ) نے 2008 میں ان کی شہادت کے بعد کی۔ جنہوں نے انہیں دو فتوحات (2000 کی آزادی اور 2006 کا وعدہ صادق) کا سپہ سالار قرار دیا۔

سوال: شہید رہنماؤں کی عظیم الشان اور عدیم المثال تعظیم اور حزب اللہ کی بے لوث قربانیوں کے ساتھ، عوام کا مقاومت سے عہد اور قیادت کے گرد اجتماع مضبوط تر ہوتا ہے اور آپ کو ان کی بے لوث حمایت کا یقین دلاتا ہے۔ آپ ان سے کیا وعدہ کرتے ہیں؟ اور عوام کو، جو سفینۂ مقاومت کی قیادت کے لئے آپ کی دانشمندی پر بھروسہ کرتے ہیں، آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب: تحریک حزب اللہ اور مقاومت اسلامی کی قیادت کی ذمہ داری بہت عظیم ہے اور اس تحریک میں عوام کا کردار مرکزی اور بنیادی ہے۔ یہ تحریک انہی کی ہے اور وہ اس کی شہ رگ حیات ہیں۔ میں اس حقیقت کو چھپانا نہیں چاہتا کہ یہ ذمہ داری قبول کرنے کے بعد، عوام سے میری محبت اور بڑھ گئی ہے، کیونکہ وہ میرے اہل خانہ اور تحریک مقاومت اور شہداء کے فرزند ہیں۔ پہلے ہی لمحے سے، میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ میں ان کے تئیں اپنا فرض ممکنہ بہترین طریقے سے ادا کروں گا، ان صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق جو اس نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ میری زندگی میں اللہ، قیادت، مقاومت اور عوام کے سوا کسی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے تاکہ ان شاء اللہ ہم سب مل کر امام مہدی (علیہ السلام) کے سپاہیوں میں شامل ہو سکیں۔

میں جانتا ہوں کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن ہم نے طاقتوروں کے خلاف جنگ میں مل کر استقامت کی ہے اور آنے والے پندرہ مہینوں میں حالات کے مطابق صبر و تحمل سے کام لیں گے۔ جب کسی بھی اقدام کا وقت آئے گا، ہم تردد نہیں کریں گے۔ ہمارا راستہ روشن ہے: سرزمین ہماری ہے اور دفاع اور ہمارا مقاومت کا حق جائز ہے۔ ہم ثابت قدم رہیں گے اور خود کو دونوں نتائج کے لئے تیار رکھیں گے: فتح یا شہادت، اور امام منتظَر (عَجَّلَ اللُہ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشَّریف) کے انتظار کے لئے تیار ہیں۔ شکست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، خواہ ہم کتنی ہی قربانیاں دے دیں۔ "وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ؛ اور فتح و کامیابی نہیں ہے مگر اللہ کی جانب سے جو بہت غلبہ پانے والا ہے انتہائی حکمت والا کی طرف سے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha