27 جنوری 2026 - 15:24
امریکہ اسرائیل کا حلقہ بگوش غلام؛ دنیا کا مستقبل ایران، چین اور روس کا ہے

ریٹائرڈ امریکی پروفیسر جیمز فیٹزر کہتے ہیں: "میں نے اپنی پوری زندگی کے دوران امریکہ کو ایک زبردست ملک سے اسرائیل کی سرکش ریاست کا حلقہ بگوش غلام بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایران، چین اور روس مسقبل کے ترجمان ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "امریکہ کا زوال" کے عنوان سے تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

اس سیمینار کے ایک مقرر ریٹائرڈ امریکی پروفیسر جیمز ایچ فٹزر جیمزفٹزر (Professor James H. Fetzer) تھے جنہوں نے کہا:

میں سنہ 1940ع‍ میں پیدا ہؤا، میں نے اس دور میں نے اس دور میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو دیکھا جو کسی وقت ایک اچھا خاص ملک تھا اور رفتہ رفتہ سرکش اسرائیلی ریاست کا حلقہ بگوش غلام بن گیا؛ یہ میرے لئے ایک نفرت انگیز تجربہ تھا۔ میں نے پورے فخر کے ساتھ امریکی میرینز کے افسر کے طور پر کام کیا اور میرا خیال تھا کہ ہم دنیا میں "خیر" کی طاقت ہیں قائم کرنا چاہتی ہے۔ میرے اندر شکوک و شبہات نے ویتنام کی جنگ سے جنم لینا شروع ہوئے۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ ہمیں اس جنگ میں نہیں کودنا چاہئے تھا؛ اور البتہ صورت حال اس کے بعد قابل قبول حد تک خراب سے خراب تر ہو گئی ہے۔ میں جان ایف کینڈی کے قتل کیس کے بارے میں تحقیقات میں شامل ہؤا اور میں نے کشف کر دیا کہ ہمارے اپنے سرکاری ادارے، "سی آئی اے، فوج، مافیا، تیل کی کمپنیاں، اسرائیل، کاسٹرو مخالف کیوبن دھڑے" اس قضئے کے پیچھے پیچھے تھے؛ لیکن یہ سب لینڈن بی جانسن کے کردار کے زیر اثر ہؤا جو پورے امریکیوں کا صدر بننا چاہتا تھا۔ اس نے يوایس ایس لبرٹی پر حملے کا المیہ رونما ہونے کی اجازت دے دی۔ میرے خیال میں وہ خفیہ طور پر ایک یہودی تھا اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بھی اسرائیلی مفادات کی سمت میں آگے بڑھا رہا تھا۔

اور ہاں! اس کے بعد سنہ 2000 میں انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی تاکہ ڈک چینی اور جارج ڈبلیو بش اقتدار حاصل کر سکیں، اس لئے کہ ڈک چینی 11 ستمبر اور اس کے بعد کے واقعات کا عینی گواہ ہو، ایسے واقعات جو اسرائیل کے ہاتھوں ـ سی آئی اور اور نوقدامت پسندوں، وزارت دفاع اور موساد کی مدد سے ـ رقم ہوئے۔

یہ تمام تر پروگرام پہلے سے منصوبہ بند ہو چکے تھے تکہ امریکی افواج کو مشرق وسطیٰ کی طرف کھینچا جا سکے اور اسرائیل ان سے معاصر عرب حکومتوں کے خاتمے کے لئے استعمال کر سکے؛ وہ ممالک جو پورے خطے پر اسرائیلی تسلط کے مقابلے میں توازن قائم کرتے تھے، اور پھر ایرانی قوم کے خلاف۔

شام کا انتظام ـ بشار الاسد کی کایا پلٹ کے بعد ـ اسرائیلی فوج کے سابق افسروں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ صورت حال ان لوگوں کے لئے بہت توہین آميز اور شرمناک ہے، صرف ایران ہے جو طاقتور اور خودمختار رہ گیا ہے۔

میں وہ شخص ہوں جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی اور تین مرتبہ انہیں ووٹ دیا۔ میں نے ان کی سیاسی بیانات پر اعتماد کیا جو کہتے تھے کہ "میں ان احمقانہ جنگوں کا خاتمہ کروں گا؛ سرحدوں کو بند کروں گا؛ اور اندرونی سطح پر بڑی بڑی رعایتیں لاؤں گا۔" لیکن جو کچھ انھوں نے کر دکھایا، وہ یہ تھا کہ انھوں نے جنگوں کو جاری رکھا ہے اور فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کی حمایت کی ہے؛ ایسی جنگ جس میں میں نسل کشی کے جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اور ریاست ہائے متحدہ نے اس جرم کی حمایت کرکے شریک جرم بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالت انصاف اور سب، نے درست نتیجہ اخذ کیا ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل نسل کشی میں مصروف ہے اور امریکہ اس نسل کشی کا حامی ہے۔

ایران طاقتور، کھڑا ہے، امریکہ نے ایران پر حملہ کیا لیکن لاحاصل تھا۔ ایران آج کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لئے پہلے سے زیادہ تیار ہے؛ اس نے چین سے 40 جدید ترین لڑاکا طیارے چین سے خرید لئے ہیں اور میزائل شکن اور طیارہ شکن نظامات حاصل کر لئے ہیں جس کی وجہ سے ایران مشرق وسطیٰ میں ایک عظیم قوت بن گیا ہے۔ اسرائیل کے موجودہ حملوں ـ بالخصوص ممالک کی قیادت کے یکجا قتل کرنے کی کوشش ـ جیسے انصار اللہ یمن کے قائدین پر حملہ، لبنانی قائدین پر حملوں، قطر میں فلسطینی قیادت پر حملے ایرانی راہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش ـ سے معلوم ہتا ہے کہ اسرائیل مطلقاً پاگل ہوچکا ہے اور بہت شدت سے طاقت کا پیاسا ہے۔ نیتن یاہو کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ اس کا مقدر جنگ سے منسلک ہے اور جنگ کا خاتمہ اس کی سیاسی زندگی کا خاتمہ ہے۔

یوکرین کی مضحکہ خیز جنگ کے لئے امریکہ کی جاری حمایت ناقابل یقین ہے، لیکن ٹرمپ یہ کام کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ روس اور اس کے صدر پوتن کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گا۔ منطقی اور [قابل یقین] نہیں ہے لیکن پوتن نے ماضی میں نیٹو اور مغرب کی طرف دوستی کا ہاتھ پھیلایا تھا اور حتی کہ روس نے نیٹو میں شمولیت کا عندیہ دیا تھا۔ اب جب ہم ماضی پر نظر ڈالتے ہیں، کس قدر یہ منظر مُضحِک نظر آ رہا ہے۔ زیلینسکی نے امریکہ سے صرف اپنے مفاد کے لئے امریکہ سے فائدہ اٹھایا ہے، بالکل اسرائیلیوں کی طرح جو پہلے دن سے ہی ہمیں ہمیں (یعنی امریکیوں کو) ایک سونے کے بچھڑے کی شکل میں دیکھتا ہے [سامری والا بچھڑا]۔ وہ ہمارا خون چوستے ہیں، اور ہم میں سے کچھ بھی باقی نہيں چھوڑتے سوائے ایک سب سے بڑا فلاحی نظام اور عالمی شیردار گائے کے۔ اسرائیلی جن ممالک سے نفرت کرتے ہیں ان کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے ہیں۔ یہ میرا جذباتی نعرہ نہیں ہے بلکہ بنیامین نیتن یاہو کا اپنا قول ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ

·  زیلنسکی یوکرین کو نئے اسرائیل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

·  ہم جانتے ہیں کہ مسئلے کا سب سے اہم حصہ یہی تھا۔

·  ہم جانتے ہیں کہ ان جنگوں کا مقصد یہی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ یورپیوں نے حیرت انگیز حماقت کا ثبوت دیا: ایسی جنگ میں الجھ گئے جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے؛ یہاں تک کہ وہ اس جنگ کے لئے تیار نہیں ہیں، اس میں فاتح نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ روس جو جنگ کی مکمل تیاری رکھتا ہے، جنگ کے درپے نہیں ہے۔

ان سب کا آخری نتیجہ کیا ہوگا؟ بدقسمتی سے، کہنا چاہوں گا کہ طاقت میں نا اہلی جو ٹرمپ کی طرف سے دکھائی دے رہی ہے، صورت حال ہرگز ہرگز حوصلہ افزا نہیں ہے۔

یہ بھی کہتا چلوں کہ حالیہ واقعات میں سب سے زیادہ مثبت واقعہ چارلی کرک (Charles James Kirk) پر جعلی فائرنگ کا واقعہ تھا۔ وہ در حقیقت "قتل" نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ امریکی قدامت پسند سیاسی مبصرہ "کینڈیس اووینز" (Candace Amber Owens Farmer) ـ جس نے پیچھے سے ویڈیو بنائی تھی، ـ کہتی ہے کہ کوئی خون موجود نہیں تھا. ایک اسکویب (Squib) [1] خون پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا؛ کرک کا سینہ پھولا ہؤا تھا، اسکویب پھٹ گیا اور وہ پشت کے بل گر گئے۔ لوگوں نے سوچا کہ انہیں گولی لگی ہے۔ ان کو اس آدمی سے دھوکہ ہؤا جس نے دعویٰ کیا کہ گویا گولی اسی نے چلائی ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر امیجنگ کے ذریعے خون کی تصویرکشی کی گئی۔ لیکن یہ خون کپڑے میں جذب نہيں ہؤا؛ گویا لباس کے اوپر پڑا خون ہے؛ کیونکہ خون واقعی صرف لباس کے اوپر ہے۔

لیکن جو بات حیرت انگیز ہے، شواہد اور رسمی بیانیے کے باوجود، سب کا خیال ہے نیتن یاہو اس واقعے کے پیچھے ہے۔ نیتن یاہو نے فوری طور پر چارلی کرک کی میراث، سرگرمیوں اور پس منظر کو اسرائیل کے حق میں ضبط کرنے کی کوشش کی، گویا چارلی کرک ہنوز اسرائیل کے حامی تھے!؛ حالانکہ وہ اس کیمپ سے خارج ہو گئے تھے۔

چارلی کرک نیتن یاہو سے نفرت کرتے تھے۔ انھوں نے یہ سب کینڈیس، ٹاکر کارلسن (Tucker Swanson McNear Carlson) اور "کلیٹن کٹیری" (Clayton Cuteri) سے کہہ دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ غزہ کی جنگ ایک بہت بڑی غلطی ہے، حتیٰ انھوں نے ٹرمپ سے آمنے سامنے بھی کہا تھا کہ انہیں ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔

نیتن یاہو نے چارلی کرک کو 150 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی تاکہ وہ اپنے موقف کو ترک کر دیں، غزہ کی نسل کشی کی طرف راغب و مشتاق ہوجائیں اور اسرائیل پر کسی بھی قسم کو "یہود دشمنی" سمجھیں۔ لیکن چارلی ایسا نہيں کرنا چاہتے تھے، وہ اس کام کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہیں "چاندی اور سیسے [پیسہ لو یا مر جاؤ]" کے دوراہے پر کھڑا کر دیا گیا، لیکن اس نے نکلنے کا راستہ تلاش کر لیا۔

واقعے کی تفصیلات بہت دلکش ہیں، لیکن جو کچھ اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ قتل خواہ واقعی ہو خواہ جعلی، پوری دنیا کا خیال ہے کہ یہ اسرائیل کا کام ہے، کیونکہ "اسرائیل اس طرح کے کام کرتا ہے۔"

یہ واقعہ پوری دنیا میں ایک "نظر ثانی" کا موجب بن گیا ہے؛ ایک نظر ثانی پوری دنیا میں، ممالک کے اندر "اسرائیل کی پوزیشن" پر؛ یہاں تک کہ "آج یہ بات امکان کی حدود سے باہر نہیں ہے کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ سے نکال باہر کرے اور وہ اس کا مستحق بھی ہے۔" اور ہاں! "میں یہ کہتے ہوئے بہت غمگین ہوں کہ "امریکہ بھی اسی رویے کا مستحق ہے" ٹرمپ نے نہ صرف اس جنگ کو ختم نہيں کیا ہے بلکہ انھوں نے حالات کو مزید بدتر کر دیا ہے۔ ٹرمپ میرے خیال میں گمراہ ہو گئے ہیں۔ بعید نہیں ہے کہ ان کی عمر میں سے کچھ زیادہ عرصہ باقی نہ بچا ہو۔ ایک دفعہ چھ یا سات دن مکمل طور پر منظر عام سے غائب رہے اور یہ واقعہ بالکل غیر معمولی تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہیں ایک اہم میڈیکل چیک اپ سے گذرنا پڑا ہے۔ اور پھر جب اس غیر حاضری کے بعد منظر عام پر آئے تو ہم دیکھا کہ ان کے میڈیا ترجمان وغیرہ رو رہے ہیں، اور یہ رد عمل ایک مہلک بیماری کی تشخیص کی نشانی ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ دل کا اِمتلائی دورہ  (Congestive Heart Failure [CHF]) ہے؛ تو کیا جے ڈی وینس کی کارکردگی بہتر ہوگی؟

ہمیں یہاں امریکہ میں، آزادی اظہار کی ضرورت ہے؛ آزآدی اظہار کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ آج روس میں، ایران میں، حتیٰ کہ ـ شرط رکھتا ہوں کہ ـ شمالی کوریا میں، آزآدی اظہار امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے؛ کس قدر حیرت انگیز ہے یہ!

چنانچہ میں مجھے موقع دیجئے کہ کہہ دوں کہ روس، ایران اور چین مستقبل کے ترجمان ہیں۔ ڈالر کی قدر تیزی سے گر رہی ہے۔ برکس (BRICS) تنظیم تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ برکس ایک زیادہ منصفانہ برادری ہے جو روئے زمین پر ظہور پذیر ہو رہی ہے، اور اس کی قیمت امریکہ کو ادا کرنا پڑے گی۔ امریکی نقصان اٹھائیں گے؛ اور ہماری زندگی کا معیار تیزی سے گر جائے گا۔ یہ وہ مصیبت ہے جسے ہم نے خود ہی اپنے اوپر اتار دیا ہے۔ ہماری حکومت المناک ہے، ہماری پالیسیاں المناک ہیں۔ محاصل (Tariffs) کا استعمال کچھ اس طرح سے ہے کہ ہم نے تجارتی لین دین کو سیاسی کر دیا۔ سوفٹ (Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication [SWIFT]) کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا۔ دنیا ڈالر کا متبادل تلاش کرنے پرمجبور ہوئی اور آج ڈالر کو ترک کر رہی ہے۔ ہم اس کے مستحق ہے؛ ہم نے خود ہی یہ سب کچھ کیا ہے۔ اگر امریکہ کوئی کردار ادا نہ کرے تو باقی دنیا کی صورت حال یقینا بہتر ہوگی۔

اور میں، میں ایران کے ساتھ کھڑا ہوں؛ میں فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوں؛ میں روس کے ساتھ کھڑا ہوں؛ اور میری واحد آرزو یہ ہے کہ میرا ملک بھی اصولی طور پر پلٹ آئے جسے کسی زمانے میں "بہترین" سمجھا جاتا تھا۔

شکریہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ مصنوعی خون کی چھوٹی سے تھیلی خاص طور پر فلموں میں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha