12 مارچ 2026 - 05:18
ایرانی انتباہ؛ دوسرا بین الاقوامی بینک بھی دبئی سے بھاگ کھڑا ہؤا

اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے اس بیان کے بعد کہ خطے کے عوام امریکی اور اسرائیلی بینکوں سے دور رہیں، خلیج فارس کی ریاستوں کی مالی منڈی کو زبردست دھچکا لگا اور امریکہ کا سٹی بینک، دوسرا بین الاقوامی بینک ھا جس نے دبئی برانچ کو کارکنوں سے خالی کر دیا اور اس کے دروازے بند کر دیئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں میں ایک بینک پر امریکی ـ اسرائیلی حملے کے بعد مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ خطے کے عوام امریکی اور اسرائیلی بینکوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں، جس کے بعد فرانسیسی خبر ایجنسی نے رپورٹ دی کہ امریکہ کا سٹی بینک دوسرا بین الاقوامی بینک تھا جس نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی دبئی کے دو علاقوں میں اپنے شعبوں ترک کردیں: دبئی فائنانس سینٹر (DIFC) اور آوڈ میتھا (Oud Metha

رپورٹ کے مطابق، دبئی میں تعینات دو دوسری بڑی کمپنیوں کے کارکنوں نے بھی اپنے دفاتر ترک کر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی جب اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے نے بیان دیا کہ خطے کے عوام امریکی اور اسرائیلی بینکوں اور مالی مراکز سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔

سٹی بینک کے فرار سے پہلے برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ (Standard Chartered) نے دبئی کے بین الاقوامی مالی مرکز (DIFC) میں اپنے دفاتر سے انخلا کا آغاز کیا تھا۔

دبئی کی مالی منڈی میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا بڑا کردار ہے اور اس نے اپنی سرگرمیاں ـ سیکورٹی رسک ـ کی بنا پر معطل کر دیں۔

بینک ایچ ایس بی سی نے بھی قطر میں اپنی سرگرمیاں اگلے اعلان تک، معطل کر دیں اور اپنے گاہکوں کو ایس ایم ایس دے کر اس اقدام کو ـ علاقائی کشیدگیوں کی بنا پر ـ احتیاطی اقدام قرار دیا۔

یہ سیکورٹی پیشرفت ایسے حال میں سامنے آ رہی ہے کہ ایران پر امریکی ـ صہیونی جارجیت اور خطے میں امریکہ کے اقتصادی اور فوجی مفادات پر ایران کے وسیع پیمانے پر حملے جاری ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قطر اور امارات کو اس وقت بیرونی سرمایہ بھاگ کر ہانگ کانگ اور سنگاپور میں منتقل ہونے کا سامنا ہے۔ کہا گیا تھا کہ امریکہ کو اپنے گھر میں گھونسلا مت بنانے دو مگر عرب ریاستیں اپنی قانونیت امریکی حمایت سے حاصل کرنے کے قائل تھیں، اور اب انہیں قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

ادھر دبئی میں بین الاقوامی مالی مرکز (DIFC) جو سنہ 2004ع‍ میں قائم ہؤا ہے، 290 بینکوں، 102 رسک کورنگ فنڈز، اور ویلتھ مینجمنٹ کی 500 کمپنیوں کا میزبان تھا۔

اس مرکز سے دو بڑے مغربی بینکوں کا فرار، خطے میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے لغے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha