24 اپریل 2026 - 23:34
ایران جھکے گا ہرگز نہیں / ایران ممکنہ جنگ کے لئے تیار ہے، ایران کو طویل جنگ میں بالادستی رکھتا ہے،غیر ملکی ذرائع

جنگ کے دوبارہ ـ ممکنہ ـ آغاز کے شواہد پائے جاتے ہیں، ایران بھی تیار ہے گوکہ کچھ مسلم ممالک تو امریکہ کے ساتھ ہیں، کچھ ان کی چاپلوسیاں کرنے میں امت مسلمہ کا وقت ضائع کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود جانتے ہیں کہ ایران پوری امت کی جنگ لڑ رہا ہے اور اگر خدا نخواستہ اس جنگ میں دشمن کامیاب ہؤا تو جابر دشمن کسی بھی عرب، ترک یا جنوبی ایشیائی مسلم ملک کو ہرگز نہیں بخشیں گے اور سب سے پہلے اپنے چاپلوسوں کو روند ڈالیں گے، حالانکہ اگر وہ ایران کے دوش بدوش کھڑے ہوجائیں تو دشمن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس خطے سے بھگانے میں ان کا بھی کردار ہوگا جسے تاریخ فراموش نہیں کرے گی؛ بہرحال یہ جنگ اسلامی جمہوریہ ایران تنہا لڑ رہا ہے اور اس کی فتح کے آثار بالکل نمایاں ہیں اور اگر پھر بھی جنگ ہوئی تو یہ واحد 'اسلامی ملک' اپنا کام جاری رکھے گا لیکن بظاہر مسلمان ممالک کی آج کی بے حسی کو بھی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کو جھکانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششیں لاحاصل رہیں اور عوام، حکمران اور فوجی قوتیں امریکی حرص و لالچ کے مقابلے میں یکجہتی کے ساتھ استقامت پر زور دے رہے ہیں۔ 
شواہد:
مغربی ذرائع نے لکھا: 
"ایران امریکہ کے مقابلے میں، طویل مدتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اس طویل مدتی اور فرسودہ کرنے والی جنگ (War of attrition) میں اپنی بالادستی ثابت کر چکے ہے؛ کیونکہ وہ درخواست کئے بغیر، رعایتیں حاصل کر سکتا اور اگلے مطالبے کی طرف بڑھتا ہے، جو کہ ایرانیوں کا ایک جنگی فن بن گیا ہے۔"

امریکی سینٹ میں ٹرمپ کی جنگجوئی کے خلاف ہونے والی رائے شماری پانچویں بار ناکام ہوگئی اور جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لئے اس کے ہاتھ کھلے ہیں۔

اس وقت دہشت گرد حکومت ریاست، پریشان حالی اور حیرت کی حالت میں، اپنے جرائم جاری رکھنے کے لئے اتحادی تلاش کر رہی ہے۔

دہشت گرد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لئے یورپیوں کی کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "بہتر یہ ہے کہ وہ یورپ میں کم ہی چمکیلی کانفرنسیں منعقد کریں اور کم بولا کریں۔ کشتی پر سوار ہوجائیں اور لڑیں۔ یہ جنگ ہم سے زیادہ، ان کی جنگ ہے۔ یورپ کو آبنائے ہرمز کی ہم سے بہت بڑھ کر، ضرورت ہے۔"

اسی اثناء میں، انڈونیشیا نے بھی ـ مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی حفاظت کے لئے ـ برطانیہ اور فرانس کے مجوزہ منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

ادھر امریکی ذرائع کے اندازوں کے مطابق، "مذاکرات کے رک جانے کی حالت میں، ایران امریکہ کے مقابلے میں، طویل مدتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اس طویل مدتی اور فرسودہ کرنے والی جنگ (War of attrition) میں اپنی بالادستی ثابت کر چکے ہے؛ کیونکہ وہ درخواست کئے بغیر، رعایتیں حاصل کر سکتا اور اگلے مطالبے کی طرف بڑھتا ہے، جو کہ ایرانیوں کا ایک جنگی فن بن گیا ہے۔"

امریکی سی بی ایس چینل نے بھی جنگ کے لئے ایران کی مکمل تیاریوں پر زور دیا ہے اور لکھا ہے

- "ٹرمپ اور پینٹاگون کی تشہیری مہم کے برعکس، ایران نے جنگ کے لئے بہت ساری فوجی اہلیتیں محفوظ کر رکھی ہیں۔

- یہاں تک کہ جنگ بندی سے پہلے بھی ایران نے اپنے نصف سے زائد لانچرز اور بیلسٹک میزائلوں کو اب تک ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا!

- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے 60 فیصد سے زائد جنگی اثاثے میدان میں موجود اور آپریشنل ہیں جن میں تیزرفتار اور ہلاکت خیز کشتیاں بھی شامل ہیں۔

- ایران کی دو تہائی فضائیہ بھی آپریشنل ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی مغربی ذریعے کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہیں اور یہ مغربی ذرائع کے اپنے اندازے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha