بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مذکورہ ذریعے نے مزید بتایا کہ چونکہ فریق مقابل نے عہد شکنی کی اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ صہیونی دشمن کی جنگ بندی نہیں ہوئی بلکہ دعویٰ کیا گیا کہ لبنان اس جنگ بندی میں شامل نہیں ہے چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کو معطل کر دیا۔
اس ذریعے نے کہا کہ: ایران نے آبنائے ہرمز کے لئے تین شرطیں رکھی ہیں:
1۔ آبنائے ہرمز سے داخل اور خارج ہونے والے جہازوں کو غیر فوجی ہونا چاہئے اور فوجی جہازوں کی آمد و رفت منع ہے اور تجارتی جہازوں پر لادا گیا مال ایران دشمن ممالک سے متعلق نہیں ہونا چاہئے۔
2۔ جہاز صرف ایران کے متعین کردہ راستے سے گذریں گے۔
3۔ جہازوں کو ایرانی افواج کے ذمہ دار اداروں سے ہم آہنگی کرنے کے بعد گذرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ سینٹکام نے بھی ابتداء ہی سے آبنائے ہرمز پر سپاہ پاسداران کے کنٹرول کو تسلیم کرلیا ہے۔
اس ذریعے نے اعلان کیا یہ مسئلہ لبنان میں جنگ بندی سے منسلک تھا لیکن اگر امریکہ کی طرف ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رہا تو یہ امریکی اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور آبنائے ہرمز بند ہوجائے گا۔
ادھر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی نئے ترتیب کا اعلان کیا جس کے اہم نکات یہ ہیں:
- آبنائے ہرمز میں جہازرانی سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کنٹرول میں ہے اور جہازرانی اسی فورس کی اجازت سے ہوگی۔
- صرف سول تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گذر سکتے ہیں
- فوجی جہازوں کی آمد و رفت بدستور منع ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا: سول جہازرانی فی الحال ایران کے مقررہ ضوابط کے تحت ممکن ہے، تاہم جہازرانی ایران کی حکمرانی کے تحت ہوگی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا: آبنائے ہرمز سے جہازرانی ایران کے متعینہ قواعد کے ذریعے ممکن ہے، امریکی محاصرہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، اگر محاصرہ نہ اٹھایا گیا تو آبنائے ہرمز بند ہو سکتا ہے، اور جہازرانی ایران کی مسلح افواج کی نگرانی میں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ