سید عباس عراقچی
-
وعدہ صادق-4؛
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازرانی کے لئے، مشروط ـ عارضی طور پر کھول دیا
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے ایک قریبی ذریعے نے فارس خبر ایجنسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وساطت سے ہونے والی جنگ بندی کے تحت، طے یہ تھا کہ ایران کی شرطوں کی تکمیل پر آبنائے ہرمز کو بھی عارضی طور پر اور مشروط طور پر کھول دیا جائے گا۔ / امریکی محاصرہ جاری رہا تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوگا۔
-
پاکستانی آرمی چیف کی ایرانی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، فریقین کے درمیان تعطل ختم ہونے کے قریب ہے اور جلد کسی معاہدے کا امکان ہے۔
-
ایران اور امریکہ مذاکرات ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی گفتگو کا محور
ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ایک ٹیلیفونک رابطے میں اہم علاقائی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط اور خطے کی تازہ صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
-
وعدہ صادق-4؛
اگر امریکہ نیتن یاہو کی خاطر احمق بننا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں / ہم بدگمانی کےساتھ مذاکرات میں شامل ہونگے
ڈاکٹر عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے اسلام آباد روانگی سے قبل، ایکس نیٹ ورک پر اپنے پیغام میں مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے طفل کُش اسرائیلی وزیر اعظم کی سازش سے خبردار کیا / انھوں نے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران پوری بدگمانی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو رہا ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
ٹرمپ کی بے بسی اور گالی گلوچ: اس لعنتی آبنائے کو کھول دو / ایرانی حکام کا رد عمل
اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامیوں نے ٹرمپ کو پاگل پن سے دوچار کر دیا ہے۔ اس نے آج مؤمن ایرانیوں اور آبنائے ہرمز کو تین گالیاں(جن کا وہ خود ہی مستحق ہے)، دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا: "اس لعنتی آبنائے کو کھول دو، پاگل حرامزادو!"
-
امریکہ سے مذاکرات کی خبریں بے بنیاد، جنگ بندی قبول نہیں، عراقچی کا الجزیرہ کو انٹرویو
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات وہ ہوتے ہیں جب دو ممالک کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے باضابطہ گفتگو کریں
-
وعدہ صادق-4؛
مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لئے ایرانی شرائط پر ذرائع ابلاغ کی چہ می گوئیاں
بعض ذرائع نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لئے اس ملک کی شرائط بیان کی ہیں / وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ صرف ذرائع ابلاغ کے اندازے ہیں / پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی نے کہا: آبنائے ہرمز میں ہماری مہمان نوازی اختتام پذیر ہو گئی۔
-
وعدہ صادق-4؛
ایران پر مسلط کردہ امریکی-صہیونی جنگ کی کچھ مختصر مگر اہم خبریں
عراقی قبائل کی درخواست / سلامتی کونسل میں اشتعال انگیز حرکتوں پر عراقچی کا انتباہ / صہیونی عیسائی مارکو روبیو کی گستاخی / کوئینسی تھنک ٹینک کی فکرمندیاں / خلیج فارس میں ایک صہیونی جہاز تباہ / ایران آئل ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی دو گنا ہو گئی / عراقی مجاہدین کی درجنوں کاروائیاں / صدر ڈاکٹر پزشکیان عراق کا شکریہ ادا کیا / امریکہ میں، 'ٹرمپ کی جنگ' کی مخالفت جاری ہے
-
ایران کم از کم چھ ماہ جنگ کے لیے تیار ہے:عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی فوج زمینی جنگ میں بھاری نقصان کے ساتھ شکست کھائے گی اور ایران ہر ممکن دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
-
عراقچی کا سعودی عرب کو پیغام،خطے سے امریکی افواج کے انخلا کا وقت آ گیا
امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں مکمل طور پر نکال دیا جائے۔
-
وعدہ صادق-4؛
خطے کے ممالک کے ہوٹل اڈوں سے بھاگ کر آننے والے فوجیوں کو خدمات فراہم نہ کریں عراقچی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا: خلیج فارس کی عرب ریاستیں اپنا امن و سکون خطرے میں ڈالنے والے [بھگوڑے امریکی[ فوجیوں کو خدمات فراہم نہ کریں۔
-
تل ابیب، اسرائیلی وزارت جنگ کے ہیڈکوارٹر پر حزب اللہ کا میزائل حملہ
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے تل ابیب کے مرکز میں واقع اسرائیلی وزارت جنگ کے ہیڈکوارٹر کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
-
وعدہ صادق-4؛
امریکی مفادات کہیں بھی ہوں، ہمارے نشانے پر ہونگے، سید عباس عراقچی
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ، سید عباس عراقچی نے قومی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جہاں بھی امریکی مفادات نظر آئیں گے، ہم انہيں نشانہ بنائیں گے۔
-
امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے:ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایرانی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دشمن نے ایران تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی عوام کی یکجہتی اور اتحاد نے امریکہ کو اس کے اہداف میں ناکام بنا دیا۔
-
خلیج فارس میں عدم تحفظ دشمن کی جارحیت کا نتیجہ ہے:عراقچی
عراقچی نے خلیج فارس اور آبناے ہرمز کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں عدم تحفظ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا نتیجہ ہے۔
-
عباس عراقچی کی عُمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ٹیلیفونک گفتگو
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی عُمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ٹیلیفونک بات چیت ہوئی۔
-
وعدہ صادق-4؛
جنگ بندی نامنظور
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا: "ہمیں سب سے پہلے اپنے عوام کی حفاظت کرنا چاہئے؛ ہم ان دوستوں کی خاطر اپنے عوام کی جانوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے جو غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
وٹکاف کا جواب
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی نے کہا: "مسٹر وٹکاف کا مجھ سے آخری رابطہ، سفارت کاری کے قتل اور ایران پر ایک دوسرا غیر قانونی حملہ کرنے کے بارے میں اس کے موجر (Employer) کے فیصلے سے قبل کا ہے۔۔
-
ایران کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا شکریہ، خودمختاری کے دفاع کا عزم دہرا دیا
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری ثابت قدمی سے کھڑا ہے۔
-
امریکی وزیرِ جنگ کے بیان پر ایران کا سخت ردعمل
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے وزیرِ جنگ کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “بغیر رحم” جیسی زبان طاقت کا اظہار نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن اور جنگی قوانین سے ناواقفیت کی علامت ہے۔
-
ایران نے نہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا نہ مذاکرات کی درخواست دی:ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے نہ تو جنگ بندی کی درخواست دی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
-
ملک کی مسلح افواج ہر کاروائی کا بدلہ لیں گی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے قومی انفراسٹرکچر پر کیے گئے حملے کا جواب دیا جائے گا اور ملک کی مسلح افواج اس کارروائی کا بدلہ لیں گی۔
-
وعدہ صادق-4؛
جنگ رمضان 1447؛
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے X پیغام نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقتور افواج اسرائیل کو جارحیت کی سزا دے رہی ہیں؛ ہم نے ابھی اس کام کا آغاز کیا ہے۔
-
سعودی حکام نے ایران کے خلاف سہولت کاری فراہم نہ کرنے کا یقین دلایا ہے، عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سعودی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اور سعودی حکام نے اطمینان دلایا ہے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے نہیں دی جائے گی۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
ٹرمپ کو حیران کرنے کے لئے ایرانی اچنبھے، کم نہیں ہیں
مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے کے مطابق، امریکی صدر کو توقع تھی کہ تہران امریکی فوجی سازوسامان کو دیکھ کر ہتھیار ڈال دے گا۔ اس معاملے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب سید عباس عراقچی کی جانب سے مناسب جواب دیا گیا ہے۔ لیکن ٹرمپ کے لئے ـ جو ایران سے بہت حد تک ناواقف ہیں ـ ایران کے پاس اچنبھے بہت ہیں، جن کا انہیں رفتہ رفتہ سامنا ہوگا!
-
عباس عراقچی کا ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل، ثبوت کے ساتھ بات کرنے کا مطالبہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو ایران کی فراہم کردہ معلومات پر شک ہے تو وہ ثبوت کے ساتھ بات کرے۔
-
ایران کا پُرامن جوہری حق ناقابلِ مذاکرہ ہے:عراقچی کا دوٹوک اعلان
جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق ناقابلِ مذاکرہ ہے اور اسے کسی بھی سیاسی دباؤ کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔
-
ایرانی وزیر خارجہ کا قطر کے اقدامات کی تعریف، خطے میں استحکام کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے قطر کے وزیر خارجہ و وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کی خطے میں استحکام اور امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
-
وزیر خارجہ عراقچی: ایران منصفانہ معاہدے کے لیے بھی تیار ہے اور جارحیت کے مقابلے کے لیے بھی
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے تازہ ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک منصفانہ ایٹمی معاہدے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے اور دشمنوں کے جارحیت کے سامنے دفاع کے لیے بھی۔
-
ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلۂ خیال
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان استنبول میں ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کی گئی۔