بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امام ہادی (علیہ السلام) کا جشن ولادت ایک موقع ہے کہ ایک بار پھر اس عظیم امام کے گرانقدر ورثے پر غور کریں؛ وہ امام جنہوں نے زیارتِ جامعہ کبیرہ کے ضمن میں فرد اور معاشرے کی ہدایت کے لئے ایک جامع منشور مرتب کیا ہے۔ اگر ہم آج کی انفرادی، خاندانی اور سماجی زندگی کے بہت سے نقائص اور مسائل کو چند بنیادی محوروں میں سمیٹنا چاہیں تو تین بنیادی چیلنجوں کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں؛ وہ چیلنجز جن میں سے ہر ایک کے لئے امام ہادی (علیہ السلام) نے ایک روشن اور نجات بخش راستہ فراہم فرمایا ہے۔
1۔ فہم کا بحران؛ ناسمجھی سے لے کر کج فہمی تک
بہت سی لغزشیں وہاں سے شروع ہوتی ہیں جہاں انسان حقیقت کو صحیح طور پر نہیں سمجھتا۔ کبھی وہ جانتا نہیں اور کبھی اس سے بھی زیادہ خطرناک، نہیں جانتا کہ نہیں جانتا (اپنی لاعلمی سے لاعلم ہوتا ہے)۔ بہت سے اختلافات، غلط فیصلے اور فکری انحرافات کی جڑیں ناقص فہم یا کج فہمی (Misapprehension) میں پیوست ہوتی ہیں۔
امام ہادی (علیہ السلام) نے زیارتِ جامعہ کبیرہ میں "ولائی فہم" کو اس بحران سے نکلنے کا راستہ قرار دیا ہے؛ ایسی فہم جو اہل بیت (علیہم السلام) کے نور کے سرچشمے سے سیراب ہوتی ہوتی ہے۔ جہاں ہم پڑھتے ہیں:
"كلامكُم نورٌ وَأَمرُكُم رُشدٌ"
یعنی آپ کا کلام نور (روشنی) ہے اور آپ کا فرمان رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے۔"
جو معاشرہ ثقافتی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی معاملات میں اپنی رائے و نظر کو الہی معیارات کے مطابق ترتیب دیتا ہے، وہ کم ہی فکری خطاؤں اور کج فہمیوں مبتلا ہوتا ہے۔
2۔ پروگرام اور منصوبے کا بحران؛ بے مقصدیت سے لے کر غلط راستوں تک
کوئی بھی معاشرہ راہنما نقشے کے بغیر منزل تک نہیں پہنچتا۔ ہمارے مسائل کا ایک حصہ وسائل کی قلت کی وجسہ سے نہیں ہے، بلکہ صحیح پروگرام کی عدم موجودگی یا غلط راستوں کے انتخاب سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان خواہ کتنا ہی پرعزم کیوں نہ ہو، اگر اس کے پاس راہنما نہ ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو غلط راستوں پر صرف کرے۔
امام ہادی (علیہ السلام) اس مسئلے کا حل بھی الہی ہدایت کی پیروی میں دیکھتے ہیں۔ زیارتِ جامعہ کبیرہ میں ہم سیکھتے ہیں کہ اہل بیت (علیہم السلام) زندگی کے پیشوا اور راہنما ہیں۔ جب ہمارے فیصلوں اور پروگراموں پر الہی معیارات حکم فرما ہو جائیں تو ترجیحات صحیح طریقے سے ترتیب دی جاتی ہیں؛ واجبات و فرائض اپنا مقام پا لیتے ہیں، مُحَرَّمات کو ترک کیا جاتا ہے اور لوگوں کی خدمت ایک بنیادی اصول کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔
3۔ استقامت کا بحران؛ بڑے اہداف، چھوٹے ارادے
بہت سے لوگوں کی بڑی تمنائیں ہوتی ہیں، لیکن وہ ان تک پہنچنے کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتے؛ راستے کے آغاز میں پرجوش ہوتے ہیں، لیکن راستے میں تھک جاتے ہیں۔ معاشرہ بھی اسی طرح ہے؛ ترقی اور پیشرفت صبر، استقامت، اور مقاومت و پائیداری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
امام ہادی (علیہ السلام) نے یہاں بھی ایک شفابخش نسخہ پیش کرتے ہیں: امام اور محاذِ حق کے ساتھ ہمراہی، معیت اور ہم رکابی قائم و دائم رکھنا۔ جو انسان خود کو حق ذیل میں متعارف کراتا ہے، مشکلات کے مقابلے میں کم ہی متزلزل ہوتا ہے۔ استقامت، ایک بلند مقصد اور ایک الہی راہنما کے باہمی پیوند، کا نتیجہ ہے۔
امام ہادی (علیہ السلام) کا پیغام 'ہمارے آج' کے لئے واضح ہے:
اگر ہم ترقی یافتہ معاشرہ، صحت مند خاندان اور کامیاب زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں تین سرمایوں کی حفاظت کرنا ہوگی:
"صحیح فہم، صحیح پروگرام اور صحیح راستے پر استقامت عزم۔
فہم جس کے فیض کا سرچشمہ الہی ہدایت ہو،
پروگرام جو اللہ کے اولیاء کی رہنمائی کی روشنی میں ترتیب دیا جائے اور
عزم و ارادہ ارادہ جو مشکلات میں بھی قائم و دائم اور برقرار رہے۔
یہ تین اصول نہ صرف ہمارے بہت سے انفرادی اور سماجی مسائل کا حل ہیں، بلکہ ایک روشن مستقبل کی تعمیر کےلئے راہنما نقشہ بھی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: محمد مہدی ماندگاری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ