30 مئی 2026 - 18:17
عبدالباری عطوان: لبنان میں اسرائیل کی تیسری بڑی شکست قریب آ رہی ہے

رأی الیوم کے مدیر کا دعویٰ، حزب اللہ کے ڈرون اسرائیل کے لیے بڑا چیلنج بن گئے، جنگ کے پھیلاؤ کی دھمکیاں الٹا تل ابیب کے لیے مہنگی پڑ سکتی ہیں

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معروف فلسطینی تجزیہ کار اور روزنامہ رأی الیوم کے مدیر عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ اداریے میں کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ان کے بقول یہ جنگ بالآخر اسرائیل کے لیے ایک اور بڑی ناکامی پر منتج ہو سکتی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے اسرائیل لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور 2 مارچ سے اب تک ہونے والی بمباری میں 3 ہزار 300 سے زائد افراد شہید جبکہ 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

عطوان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی ضمانتیں اور سفارتی کوششیں لبنان کو اسرائیلی بمباری سے بچانے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے لبنانی حکام اور امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر الضاحیہ بیروت کا حصہ ہے تو پھر اس پر مسلسل حملوں کو کیوں روکا نہیں جا سکا۔

حزب اللہ کے ڈرون اسرائیل کے لیے دردِ سر

عبدالباری عطوان نے اپنے اداریے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مؤثر مقابلہ نہ کر سکنے کا اعتراف کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور حزب اللہ کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل اسموٹریچ نے دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ کے ہر حملے کے جواب میں لبنان میں درجنوں عمارتیں تباہ کی جائیں گی۔

عطوان کے مطابق، یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیل کو میدانِ جنگ میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

"تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے"

فلسطینی تجزیہ کار نے لکھا کہ اسرائیل ماضی میں 2000ء اور 2006ء میں لبنان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا، اس لیے موجودہ جنگ میں بھی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں۔

ان کے مطابق اسرائیل اگر گزشتہ چار دہائیوں کے دوران حزب اللہ کو ختم نہیں کر سکا تو موجودہ فوجی مہم بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتی ہے۔

عبدالباری عطوان نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے جدید ڈرون اور میزائل صلاحیتیں اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شمالی فلسطینِ اشغالی مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔

لبنان اسرائیل کے لیے مشکل محاذ

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت ایک ایسے محاذ میں الجھ چکا ہے جہاں نہ مکمل فتح حاصل کر پا رہا ہے اور نہ ہی آسانی سے پسپائی اختیار کر سکتا ہے۔

عطوان کے مطابق جنگ کے مزید پھیلاؤ سے اسرائیل کو مزید فوجی اور سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ مزاحمتی قوتیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے آخر میں لکھا کہ موجودہ صورتحال کا حتمی نتیجہ آنے والا وقت ہی واضح کرے گا، تاہم ان کے بقول لبنان میں جنگ کا پھیلاؤ اسرائیل کے لیے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha