بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ذرائع نے ایک تصویر شائع کی ہے جس میں ایک مجرم صہیونی فوجی کو جنوبی لبنان میں دبل نامی قصبے کے نواح میں حضرت عیسیٰ(ع) کا مجسمہ توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس تصویر نے ـ جسے X نیٹ ورک پر اب تک 60 لاکھوں نے دیکھا ہے ـ عیسائی دنیا میں غم و غصے کی وسیع لہر دوڑائی ہے۔
صہیونیوں نے اس تصویر کو مصنوعی ذہانت کی تخلیق قرار دینے کی ناکام کوشش کی لیکن معلوم ہؤا کہ یہ تصویر بالکل حقیقی ہے۔
دینی علائم اور مقامات پر صہیونی فوجیوں اور آبادکاروں کے حملوں پر مغرب کی مجرمانہ خاموشی پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔
صہیونی پارلیمان "کنیسٹ" کے ایک عرب فلسطینی رکن احمد التیبی نے فیس بک پر لکھا: "جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجاگھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں، اور مکمل استثنیٰ کے ساتھ مقبوضہ قدس شریف میں عیسائی علماء کے منہ پر تھوکتے ہیں، وہ حضرت عیسیٰ(ع) کا مجسمہ توڑنے اور اس کی تصویریں شائع کرنے سے کیونکر دریغ کریں گے؟ شاید ان نسل پرستوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے سیکھ لیا ہے جو دھڑلے سے حضرت عیسیٰ(ع) اور پوپ لیو کی شان میں گستاخیاں کرتا رہتا ہے۔"
اب تک بہت سے اکیڈمکس اور مصنفین نے اس مجسمے کی توہین کی مذمت کی ہے۔
صہیونی فوجیوں نے غزہ میں تمام تر مساجد اور گرجاگھروں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے گذشتہ ایک سال کے دوران 45 مساجد پر حملے کئے ہیں یا انہیں نقصان پہنچایا ہے۔
مذہبی آزادی کے اعداد و شمار مرکز (The Religious Freedom Data Center [RFDC]) نے جنوری 2024ع سے ستمبر 2025ع تک، مقبوضہ فلسطین میں 201 عیسائیوں پر تشدد کے مستند واقعات ریکارڈ کر لئے ہیں۔
عام طور پر آرتھوڈاکس یہودی اس طرح کے تشدد آمیز اقدامات کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی عیسائی پادریوں یا عیسائیت کی علامتوں کے حامل افراد کو نشانہ بنایا ہے۔
ان واقعات میں عیسائیوں کو مختلف طریقوں سے آزار و اذیت کا نشانہ بنایا گیا، ان کے منہ پر تھوکا گیا، انہیں دشنام طرازی کا نشانہ بنایا گیا، ان کے اموال کو تباہ کیا گیا یا انہیں مارا پیٹا گیا۔
اس طرح کے زیادہ تر واقعات مقبوضہ قدس شریف کے مشرقی علاقے میں رونمائے ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ