بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کو آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی بحالی کے طور پر پیش کیا اور اس پر جشن منایا اور سوشل میڈیا پر لکھا: "دنیا کے جہازو! اپنے انجن اسٹارٹ کرو! اور تیل کا بہاؤ جاری ہو!"
دوسرا اور آخری حصہ:
نیویارک ٹائمز کی مکمل رپورٹ کا خلاصہ درج ذیل ہے:
پس منظر اور معاہدہ:
ایران اور امریکہ کے درمیان جون 2026 میں ایک غیر رسمی مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لئے "اپنی زیادہ سے زیادہ کوشش" کرنے کا وعدہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور اس پر جشن مناتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جہاز اپنے انجن اسٹارٹ کریں اور تیل کا بہاؤ جاری ہو۔
ایران کا مؤقف:
مگر نیویارک ٹائمز کے مطابق، یہ معاہدہ دراصل ایران کے اس مؤقف کو تسلیم کرتا ہے جو اس نے جنگ کے دوران واضح کیا تھا کہ ایران کا آبنائے پر مکمل کنٹرول ہے۔ شق نمبر 5 میں یہ شرط شامل کی گئی کہ ایران مستقبل میں آبنائے کے انتظام کے لئے عمان اور خلیج فارس کے دیگر ممالک سے مشاورت کرے گا، جسے ایرانی حکام اپنی سالمیت اور حکمرانی کی توثیق سمجھتے ہیں۔
تناؤ اور حملے:
جب چند ہفتے بعد ایران کی اجازت کے بغیر کچھ ٹینکرز نے آبنائے سے گذرنے کی کوشش کی تو ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اس آبی گذرگاہ کو "امریکی مداخلت کے خاتمے تک" بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے جواب میں ایران پر فضائی حملے کئے، اور سینٹکام نے 140 اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ہفتہ وار حملوں کی تعداد 310 تک پہنچا دی۔ [ایران نے بھی تقریبا ڈیڑھ گنا زیادہ حملے کرتے ہوئے خلیج فارس کی ریاستوں اور اردن میں اچھے خاصے امریکی اڈوں کو تباہ کیا، عمان کی بندرگاہ دقم پر واقع امریکی بحری تنصیبات کو ناکارہ کر دیا، کئی ریڈاروں اور پیٹریاٹ سسٹمز کو ناکارہ کر دیا، امریکی بحریہ کے جہازوں کو زبردست حملوں کا نشانہ بنایا اور کچھ امریکی ذرائع نے بحریہ کے کچھ سینئر افسران کی ہلاکت اور جہازوں کی تباہی کا اعتراف کیا۔]
معاشی اور عالمی اثرات:
جنگ سے پہلے دنیا کی تیل اور مائع گیس کا 20 فیصد حصے کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی تھی۔ معاہدے کی مبینہ ناکامی پر عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بار پھر مکمل جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مخالفین کا نقطۂ نظر:
سابق امریکی سفیر مائیکل ریٹنی کا کہنا ہے کہ ایران اس بند کو اپنے لئے "دیرپا کنٹرول کی واضح منظوری" سمجھتا ہے اور وہ اس اوزار کو اپنے ہاتھ میں برقرار رکھنے کے لئے جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ سابق مذاکرات کار ڈینس راس نے بھی واضح کیا کہ ایران کی تشریح یہ ہے کہ "آبنائے صرف اس کی اجازت سے کھلا ہے، صرف اس کے معین کردہ راستے سے جہازرانی ہوگی اور کوئی دوسرا راستہ قابل قبول نہیں ہے۔"
فوجی کشمکش:
امریکہ نے مئی 2026 میں "پروجیکٹ فریڈم" کے تحت جہازوں کو اپنی حفاظت میں گذارنے کی کوشش کی، مگر سعودی عرب کے ولی عہد نے ایران کے جوابی حملے کے خوف سے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس پر ٹرمپ نے 48 گھنٹوں کے اندر ہی یہ مہم ترک کر دی۔
دو راہداریاں اور مسائل:
اس وقت جہاز رانی کی کمپنیاں دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں:
• جنوبی راستہ (عمان کے ساحل کے قریب): امریکہ کا حمایت یافتہ متبادل، مگر سینٹکام کا اعتراف ہے کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ امریکی فوج تجارتی جہازوں کی حفاظت کرے گی۔
• شمالی راستہ (ایران کے قریب): ایران کا زیرِ کنٹرول راستہ، جس کے لئے ایران کے قائم کردہ "خلیج فارس کی نظامت آبی گذرگاہ" سے اجازت لینا لازمی ہے۔
نتیجہ اور مستقبل:
ماہرین کے مطابق دونوں فریقوں کی مسلسل فوجی رسہ کشی اور ایران کے اس اوزار کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے عزم کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں کے لئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ امریکہ ٹرمپ کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے کو مستقل طور پر حل نہیں کر سکا ہے، جبکہ ایران نے معاہدے کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنی عملداری کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: محمد رضا جعفری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ