بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسٹراٹیجک امور کے ماہر ڈاکٹر مہدی محمدی نے اپنی نئی آڈیو فائل میں میدان جنگ کی حالیہ پیشرفتوں کے بارے میں اپنے تجزیئے کے ضمن میں کہا: پہلا اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ہم ایک بار پھر جنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم کافی عرصے سے ان دنوں اور ان گھڑیوں کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے لئے تیار تھے۔ ایران کے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئے؛ کوئی حیرت اور اچنبھا نہیں ہے۔ ہم جانتے تھے کہ ہم اس دن تک پہنچیں گے اور حتیٰ کہ اس کی تفصیلات بھی ہمیں پیشگی معلوم تھیں۔
محمدی نے مزید کہا: حکومت اور مسلح افواج مکمل تیاری کے ساتھ، قابل ذکر مقدار میں ہتھیاروں اور نئے نقشوں اور منصوبوں کے ساتھ اس نئی جنگ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم ایک بہادرانہ جنگ میں مصروف ہیں اور مسلح افواج میں ایرانی قوم کے فرزند تاریخی سورماؤں کی طرح لڑ رہے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ دشمن ایک بار پھر ذلت کی سیاہ خاک میں دھنس جائے گا اور پشیمان ہو جائے گا؛ اگرچہ اس بار اس کی پشیمانی بھی اس کے کام نہ آئے گی۔
اسٹراٹیجک امور کے ایرانی ماہر ڈاکٹر مہدی محمدی کے تجزیئے کا خلاصہ درجہ ذیل ہے:
حصۂ دوئم:
محمدی نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور یہ بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے توانائی کے ذخائر انتہائی کم ہیں اور افراط زر کی شرح، خاص طور پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ کے لئے سنگین صورتحال پیدا کر دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایران نے اس بندش کے لئے ایک بہت ہی ذہین اور ہنرمندانہ منصوبہ تیار کیا ہے۔
امریکہ کی بحری ناکہ بندی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے درحقیقت ایران کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو محاصرے میں لے لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ صرف اپنے جہازوں کو اس ناکہ بندی سے گذار لے گا بلکہ اس کے پاس دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے، مکمل معلومات اور ہتھیار بھی موجود ہیں۔
ڈاکٹر محمدی نے کہا کہ اگر ایران ـ ناکہ بندی کی وجہ سے ـ تیل برآمد نہ کر پائے کرنے یا بنیادی اشیاء درآمد نہ کر سکے ـ تو خطے کی کوئی ریاست بھی تیل اور دیگر اشیاء برآمد یا در آمد نہیں کر سکے گی؛ اور ایران اپنی جوابی کاروائیوں میں، خطے کے ممالک کے تیل کے ذخائر اور برآمدی مصنوعات کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمدی نے بتایا کہ امریکی حملے جنوبی ساحلوں پر جاری ہیں لیکن وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہے ہیں اور ان کی کارروائیاں دشمن ہی کے لئے "آپریشنل تباہی" بن چکی ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم امریکی بحریہ کے زیرِ نگرانی غیر مجاز راستے سے گذرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکی فوج میں بنیادی طور پر لڑنے کی صلاحیت ہے ہی نہیں، اور وہ عراق اور افغانستان کی طرح خلیج فارس میں بھی ناکامی سے دوچار ہوگی۔ [اور انہیں یہاں سے بھی بے آبرو ہوکر نکلنا پڑے گا]۔
انھوں نے ایران کی جوابی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے سات ممالک میں 200 سے زائد حملے کئے ہیں اور حملوں کے لئے نئے اور پیچیدہ طریقوں سے استفادہ کیا ہے۔ دشمن کے پاس موجود پیٹریاٹ، ایجیس اور دیگر دفاعی نظامات اب بے کار ہو چکے ہیں اور دنیا کو ان نئے طریقے ایران سے سیکھنا ہونگے۔
محمدی نے یمن کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس جنگ میں یمن ایک نیا اور دانشمندانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے باب المندب بند کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور جہازوں کو انتباہات دیئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نہر سویز اور سعودی عرب کی ینبع آئل ٹرمینل بھی خطرے سے دوچار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز سب بند ہو گئے اور ینبع کی پائپ لائن بھی متاثر ہوئی تو عالمی توانائی کی منڈی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، اور یہی وہ منصوبہ ہے جس پر ایران مہینوں سے کام کر رہا تھا۔
انھوں نے آخر میں کہا کہ اس مرحلے پر صہیونی ریاست کا بنیادی مشن ایران میں قتل اور اندرونی بدامنی پیدا کرنا ہے، لیکن ایران اس کے لیے بھی تیاریاں کر چکا ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ