6 مارچ 2026 - 22:42
خلیج فارس میں امریکہ کی تذلیل؛ 'آئل ٹینکرز کی حفاظت کے وعدے' سے لے کر 'خطر سے فرار تک'

ٹرمپ نے ـ معلوم نہیں کس منطق کی بنیاد پر ـ وعدہ دیا تھا کہ وہ خلیج فارس میں آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لئے اپنی بحریہ کے جہاز تعینات کرے گا، لیکن ابراہام لنکن اور اس کے ساتھ والے ڈسٹرائر 350 کلومیٹر کے فاصلے تک آنے کے بعد ـ کچھ ڈرونز کے حملے کے بعد ـ سینکڑوں کلومیٹر تک پسپا ہوکر بھاگ گئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یہ آج کی زمینی حقیقت ہے کہ امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے  نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب کا کنٹرول عملی طور پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کو تفویض کر دیا ہے۔ لیکن اسی اثناء میں امریکہ کے ایپسٹینسٹ صدر نے اچانک اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کھول دے گا اور اپنے بحری جہاز 'خلیج فارس' بھیج کر آئل ٹینکرز کی حفاظت کا انتظام کرے گا، اور پھر اس نے خطے سے بھاگے ہوئے زخمی ابراہام لنکن طیارہ بردار جہاز کو بحر ہند سے دوبارہ اس خطے میں روانہ کر دیا جو خلیج فارس سے 350 کلومیٹر تک بھی آیا لیکن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے  اپنے کچھ ڈرونز بھیج کر اس جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بعد یہ جہاز ایک بار پھر اپنے محافظ جہازوں کے ساتھ، 1000 کلومیٹر تک پیچھے ہٹ گیا۔ بندرگاہوں میں تیل کے ذخائر بھر چکے ہيں، اور چونکہ تیل کی برآمد پر پابندی لگی ہے، اور تیل کی پیداوار رکنے والی ہے اور آبنائے ہرمز سے گذرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے، ٹرمپ کی شیخیوں کے باوجود۔

ابراہام لنکن: "آہنی مکّا" یا "متحرک ٹارگٹ"

یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار جہاز، بڑی تشہیری مہم کے ساتھ، اور 90 لڑاکا طیاروں اور ایک بڑے بحری بیڑے کی معیت میں، خطے میں آیا تھا توانائی کی ضمانت اور خطے سے تیل کی پرامن برآمدات کے لئے، لیکن اب ایک ہزار کلومیٹر پیچھے عمان کے کسی ساحل کے ساتھ، لنگر انداز ہو کر اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ یہ فاصلہ حرکت پذیری دکھانے کے لئے نہیں بلکہ اینٹی شپ بیلسٹک اور کروز میزائلوں نیز ڈرونز کے حملوں سے بچنے کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔

سپاہ پاسداران کی بحریہ نے خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں میزائل مشقوں کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور جنگ کی صورت میں کوئی بھی امریکی اور صہیونی جہاز جائز نشانہ سمجھا جائے گا، جس کے بعد ان کے تمام جہاز خلیج فارس سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

تیل کی منڈی کو دھچکا: فی بیرل قیمت 100 سے بڑھ جائے گی

ریسٹاڈ انرجی کمپنی کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ خلیج فارس کی بندرگاہوں کے تیل کے گودام بھر چکے ہیں، ہاربرز پر کوئی ٹینکر نہیں ہے، چنانچہ عرب ریاستوں کا تیل برآمد نہیں ہو پا رہا ہے، چنانچہ عرب ممالک اپنی پیداوار مجبور ہو کر کم کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمد و رفت میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ امریکہ میں پٹرول کے ایک گیلن کی قیمت 5 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ چنانچہ بہت ممکن ہے کہ تیل کی عالمی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ جائیں۔

جہاں جہاز ہیں وہاں خاموشی ہے

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ "ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی حفاظت کر لئے بھجوائی جائے گی۔" اس نے جہازوں کے لئے رسک انشورنس کا حکم بھی دے دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کس میں جرات ہے یا کون اتنا نادان ہے کہ اس کے وعدوں کا یقین کرے؟

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نہ صرف ٹینکرز کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ پرامن فاصلے پر کافی دور سے خلیج فارس کا نظارہ دیکھ رہا ہے جہاں کل (بروز جمعرات) سپاہ پاسداران نے خلیج فارس کے شمال میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنا کر نذر آتش کر دیا۔

فارمولا بڑا آسان ہے:

- ایران نے آبنائے ہرمز کا امن چھین لیا اور دنیا کی معیشت پر دباؤ کا ایک بڑا ذریعہ رقم کیا۔

- امریکہ تیل کی قیمتیں کم کرنے اور اگلے انتخابات سے پہلے پہلے افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لئے انرجی مارکیٹ میں چین و سکون کا محتاج ہے، لیکن اس وقت وہ بری طرح انفعالیت اور بے بسی سے دوچار ہے۔

نتیجہ:

تمام تر آئل ٹینکرز بندرگاہوں میں رہتے ہیں، جنگی بحری جہاز بھاگ جاتے ہیں اور تیل کی قیمتیں تیزی سے 100 ڈالر کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ٹرمپ نے حفاظت کا وعدہ دیا، اب اسے دو شرمناک آپشنز میں سے ایک کا انتخاب کرے گا: یا تو اپنے جہازوں کو خلیج فارس کی طرف بھیجے گا جو ایرانی میزائلوں، ڈرون طیاروں اور توپخانے کی زد میں ہے اور یوں وہ ان جہازوں کے انہدام کا خطرہ مول لے گا یہ پھر اپنے ٹینکرز کے جلنے اور تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرنے کا دور سے تماشا دیکھے گا۔ اب تک دوسرا آپشنز اختیار کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha