6 مارچ 2026 - 00:51
کوڈنیم 'یا حسن بن علی(ع)' کے ساتھ نئی کاروائی دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف / بھاری میزائل 'خرمشہر-4' تل ابیب کے مرکز پر لرزہ طاری کردیا + ویڈیو

جمعرات کی صبح سے شروع ہونے والی صہیونی-امریکی اہداف پر نئی میزائل-ڈرون کاروائی جاری رہی۔ تازہ ترین کاروائیوں میں بھاری بھرکم 'خرمشہر-4' میزائل نے مقبوضہ تل ابیب کے مرکز پر لرزہ طاری کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || جمعرات کی صبح سے شروع ہونے والی صہیونی-امریکی اہداف پر نئی میزائل-ڈرون کاروائی جاری رہی۔ تازہ ترین کاروائیوں میں بھاری بھرکم 'خرمشہر-4' میزائل نے مقبوضہ تل ابیب کے مرکز پر لرزہ طاری کر دیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان کے مطابق، امریکی صہیونی اہداف کے خلاف آپریشن وعدہ صادق-4 کے تازہ ترین مرحلے کی کاروائیاں میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے انجام پایا ہے۔

یہ کاروائی کوڈنیم 'یا حسن بن علی(ع)' کے ساتھ شروع ہوئی اور بیک وقت حملوں کی صورت میں انجام کو پہنچی اور مقبوضہ سرزمین میں نیز خطے میں صہیونی اور امریکی اہداف کی تباہی پر منتج ہوئی۔

سپاہ پاسداران کے بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ یہ کاروائیاں تسدیدی پالیسی اور بدنیتی پر مبنی جارحانہ کاروائیوں کے جواب کے تحت انجام پا رہی ہیں۔

صہیونی ریاست میں سائرن کی آواز تقریبا 24 گھنٹے مسلسل، سنائی دے رہی ہے۔

امریکی صدر نے 9000 فوجیوں کو خطے سے نکال لیا ہے یا یوں کہئے کہ 9000 امریکی فوجی ایرانی حملوں کے نتیجے میں بھاگ چکے ہیں۔

ابراہام لنکن طیارہ بردار جہاز ـ جو ایرانی کروز حملے کے بعد بحر ہند کے مشرقی پانیوں کی طرف بھاگ گیا تھا، تعمیر و مرمت کے بعد ایک بار پھر ـ پٹی ہوئی امریکی بحریہ کے حوصلے بڑھانے کے لئے ایرانی ساحل سے 350 کلومیٹر کے فاصلے تک آیا تھا لیکن سپاہ پاسداران کے کامیاب ڈرون حملے کے بعد دوبارہ بھاگ کر 1000 کلومیٹر کے فاصلے تک فرار ہو گیا ہے۔

ایرانی دفاعی نظام نے ایک ایف -15 امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرایا اور درجنوں ہرمس اور ایم کیو-9 ڈرون بھی مار گرائے گئے۔

امریکی اڈوں سے تشویشناک رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔

جمعرات 5 جون کو شائع ہونے والے بیان کے مطابق، سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے 'خرمشہر-4' میزائل نے صبح کے وقت تل ابیب کے مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس میزائل کے وارہیڈ کا وزن ایک ٹن ہے۔ تل ابیب کے علاوہ بن گوریون ائیرپورٹ اور اس اڈے میں واقع صہیونی فضائیہ کے اسکواڈرن 27 کے ہیڈکوارٹر کو بھی اسی قسم کے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ خیبر میزائل بھی استعمال کئے گئے۔

اس بیان کے مطابق، ایران کے تزویراتی میزائلوں کے ہراول دستے کے طور پر درجنوں ڈرون طیارے بھیجے گئے اور یوں ان میزائلوں نے صہیونی امریکی دفاعی نظامات کی ساتھ پرتوں سے گذر کر جارح دشمنوں پر جہنم کے دروازے کھول دیئے۔

اس سے پہلے وعدہ صادق کی اٹھارہویں لہر میں بحرین، امارات اور کویت میں 20 امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

عراق کے شمال میں واقع کردستان میں واقع علیحدگی پسندوں کو اڈوں کو بھی متعدد میزائلوں سے نشانہ بنا کر کامیابی سے تباہ کر دیا۔

امریکی اور صہیونی جارحین کو جنگ کے نئے قواعد کا سامنا ہے، اور وہ اب یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ انہیں کرنا کیا چاہئے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بزدل امریکی فوجی خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں اپنے اڈوں سے بھاگ کر ان ریاستوں کے شہری علاقوں میں چھپ گئے ہیں، اور سپاہ پاسداران بخوبی جانتی ہے کہ وہ کہاں پناہ لئے ہوئے ہیں اور انہیں ضرور شکار کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha