بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ دن دارالحکومت تہران سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام تر شہروں، بستیوں اور دیہی علاقوں میں کروڑوں انسانوں نے انقلاب اسلامی کے تیسرے رہبر معظم آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کے ساتھ بیعت کی غرض سے، اجتماعات اور ریلیوں کا اہتمام کیا؛ انسانوں کا ایک سمندر امڈ ایا اور صارفین نے X نیٹ ورک سمیت دوسرے سماجی نیٹ ورکس پر ان اجتماعات کی تصاویر شائع کرکے ایرانیوں کی قومی یکجہتی کی عکاسی کی اور ایران کی تقسیم کے بارے میں ٹرمپ کے اوہام کا مذاق اڑایا۔
برطانیہ میں مقیم صحافی احمد سلیمان نے اس بارے میں لکھا: "لاکھوں انسان تہران کے انقلاب اسلامی اسکوائر میں اکٹھے ہوئے ہیں، اور ایران کے نئے قائد و رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ بیعت کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر امریکی - صہیونی جارحیت کی مذمت کر رہے ہیں۔"

میڈیا کارکن ماریو نیفل نے لکھا: "انقلاب اسلامی اسکوائر میں عوام کا عظیم اجتماع دکھائی دے رہا ہے، تہران میں ایک عظیم اجتماع، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ بیعت کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔"
امریکی - صہیونی جارحیت کا انجام: نامعلوم
اسی حال میں، اخباری ـ تجزیاتی ویب گاہ ADAM نے اصفہان پر دشمن کے حملے کی ایک ویڈیو شائع کرکے لکھا: "ایرانی ـ جن پر مسلسل بمباری ہو رہی ہے ـ فخر و مباہات کے ساتھ بہادری سے کھڑے ہیں۔ ناقابل یقین مناظر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی اصفہان میں دشمن کی بمباری کے عین موقع پر "اللہ اکبر" کے نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ حقیقی ایمان ہے، یہاں کسی صورت میں بھی "رجیم چینج" نہیں ہوگی۔ یہ ملک ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحد ہے۔" ADAM نے ٹرمپ کی حماقت کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا: Well Done Trump!

رشیا ٹوڈے نے لکھا: "ایران کے قومی ٹیلی وژن سے خوفناک دھماکوں کی آوازیں براہ راست نشل ہوئیں تہران کے انقلاب اسکوائر کے بالکل قریب۔ ایرانی ہلے تک نہیں؛ یہی نہیں بلکہ زیادہ مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے پرچم زیادہ مضبوط انداز سے لہرانے لگے۔"

علاوہ ازیں ان اجتماعات میں خواتین کی تصاویر کو بھی وسیع پیمانے پر کوریج ملی اور ایران کی بہادر خواتین کی رجزخوانیوں کے بارے میں صارفین کی آراء کافی دلچسپ تھیں۔
افریقی صارفہ نورا نے لکھا: "یہ حقیقی وطن پرست ایرانی خواتین ہیں۔ نہ وہ ناپاک شہنشاہیت پرست، جو بھیک مانگتی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل اس ملک کے عوام کا قتل عام کریں۔"

گیبریل نے یورپ سے ایران کا پرچم شائع کرکے لکھا: "مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور اپنے ملک کی سالمیت کے دفاع کے سلسلے میں اتفاق و اتحاد، یہ وہ رویہ ہے جو ان عوام کو تاریخ کی درست سمت میں قرار دیتا ہے۔ ایرانی ہمارے ہیرو ہیں۔"

پورٹوریکو میں ایک اخباری - تجزیاتی ویب گاہ نے لکھا: ایرانی خواتین کی آواز سنو،

ایرانی خواتین: امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اپنی قبریں خود کھود لی ہیں، اور ہم ان میں ایک ایک کو دفنا دیں گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ