اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکا کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ایک مشکل اور کمزور پوزیشن میں آ گئے ہیں اور انہیں اس بحران سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بولٹن، جو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں قومی سلامتی کے مشیر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پالیسی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث ٹرمپ دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس تنازع میں ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں ان کی سیاسی اور سفارتی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اور وہ اس کشیدگی کو ختم کرنے کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں رکھتے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ان کارروائیوں کے جواب میں اپنے دفاع کے حق کے تحت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
ادھر بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ یا طویل کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے اور تیل و گیس کی سپلائی میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے، چاہے لڑائی مختصر مدت کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔
آپ کا تبصرہ