بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی دفتر خارجہ کے سابق سربراہ لارنس ولکرسن نے ججنگ فریڈم پروگرام کے ساتھ مکالمے میں کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی نوآبادیاں ایران زبردست میزائل ـ ڈرون حملوں کی زد میں ہیں
ولکرسن نے ابتداء میں ایران پر جارحیت کے سلسلے میں امریکی حکمرانوں کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے لکھا: "جنگ کی نوعیت ٹرمپ، ہیگستھ اور روبیو کے وہمیات سے بہت مختلف ہے۔ وہ شاید سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ مختصر ہوگی۔"

ولکرسن نے جنگ کے نتیجے میں، ایران کے اندر عدم استحکام اور حکومت کی تبدیلی کے امکان کو مسترد کیا اور کہا: "اس جنگ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے، یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔"
انھوں نے جنگ سے ایرانیوں کے تاثر کی تصدیق کی اور کہا: "جنگ طویل ہوگی اور آخرکار تم ـ امریکی اور اسرائیلی ـ کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر پاؤگے اور تم میں سے بہت سارے ہلاک اور زخمی ہوجائیں گے، تمہارا اربوں ڈالر کا جنگی سازوسامان، کسی بھی مقصد کے حصول کے بغیر، خرچ ہوجائے گا۔ اسرائیل کی قلع قمع ہوگی اور یہ واقعہ ابھی اسی وقت رونما ہو رہا ہے، خاص طور پر تل ابیب میں۔"
انھوں نے کہا: "امریکی حکام جنگ کی حقیقت سمجھنے سے عاجز ہیں۔ وہ صرف "بم پھینکنے" اور "طیاروں کی پرواز" کو سمجھتے ہیں۔"
ولکرسن نے خبردار کیا: "امریکہ کے دفاعی سسٹم کے لئے درکار گولہ بارود کے ذخائر بہت محدود ہیں، یہاں تک امریکی فوج کا چیف آف جنرل اسٹاف بہت فکرمند ہے اور کہتا ہے کہ جنگ تین ہفتوں سے زیادہ طویل ہونے کی صورت میں، ضروری گولہ بارود ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ چنانچہ امریکی گولہ بارود طویل عرصے میں ختم ہوجائے گا، پیٹریاٹ سسٹمز اور متعلقہ میزائل آٹھ یا 10 دن تک لڑنے کے لئے کافی ہیں اور ہم اپنے (کوریا جیسے) اتحادیوں کو نہتا کر رہے ہیں کیونکہ جب چاہیں ان ممالک میں تعینات دفاعی سسٹمز کو کہیں اور منتقل کر دیتے ہیں۔"
انھوں نے کہا: "بہت سے امریکی سیاستدان اس جنگ کو ایک اسرائیلی جنگ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس جنگ کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"
ان کا کہنا تھا: "مجھے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی نوابادیوں کی صورت حال کے بارے میں ایک 15 منٹ کی ویڈیو دیکھنے کو ملی، جو اسرائیل کی حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ وہ بالکل نیست و نابود ہو رہے ہیں۔"
ولکرسن نے کہا: "نیتن یاہو روپوش ہے، میرے خیال میں وہ 90 فیصد اوقات میں طیارے میں رہتا ہے اور بحیرہ روم پر مسلسل پرواز کرتا دکھائی دے رہا ہے، وہ جنگ سے دور رہنے کی کوشش کررہا ہے؛ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ثارگٹ نمبر 1 ہے۔"
انھوں نے کہا: "ایران تل ابیب پر مسلسل میزائل برسا رہا ہے، حملے بلاناغہ ہو رہے ہیں، یہ ایک عارضی اور وقتی حملہ نہیں ہے۔ متذکرہ بالا ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے اور آخری 60 سیکنڈوں میں کوئی دفاعی میزائل نہیں داغا جاتا اور ایرانی میزائل اسرائیل کی حدود میں آ کر مقررہ اہداف کو نشانہ بناتے ہيں۔"
انھوں نے مقبوضہ فلسطین میں شدید سینسرشپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "البتہ اسرائیلی حکام بہت جھوٹ بولتے ہیں۔ کوئی بھی ان کلپس کو کہیں بھیج نہیں سکتے۔ آپ حتی کہ انہیں الجزیرہ اور العربیہ میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔"
ان کا کہنا تھا: "اسرائیلی آبادکاروں کو ان چیزوں کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ حکام نے وہاں شدید سینسر شپ کا نفاذ کر لیا ہے اور ان کے اپنے تشہیروں کے بغیر کسی کو بھی نشانہ بننے والے مقامات کے قریب جانے اور ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔"
ولکرسن نے ایرانی وزیر خارجہ، سید عباس عراقچی کی اس بات سے اتفاق کیا کہ "اگر امریکہ نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو اسے ہزاروں لاشیں اٹھانا پڑیں گی۔"
انھوں نے امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بارے میں کہا: "ایران نے اس سلسلے میں بڑی کامیاب کاروائیاں کی ہیں گوکہ امریکہ اپنے نقصانات خفیہ رکھتا ہے۔"
انھوں نے معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "امریکی طیارہ بردار جہاز کی حفاظت پر مامور چار جہازوں میں سے ایک کو میزائل لگے ہیں اور یہ جہاز اس وقت جل رہا ہے۔ نیز اس گروپ کا ایک اور بڑا بحری جہاز بھی جل رہا ہے۔"
انھوں نے کہا: "امریکی بیڑا ایران کے قریبی پانیوں سے بھاگ کھڑا ہؤا ہے اور یہ خود ایران کی کامیاب کاروائیوں کا ثبوت ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ