شہادت امام خامنہ ای؛
حصۂ پنجم | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں شہید ہو گئے۔ اسی مناسبت سے رہبر انقلاب کے حالات زندگی پر مشتمل رپورٹ پیش خدمت ہے۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں جام شہادت نوش کر گئے۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) اس بارے میں فرماتے ہیں:
"میں مشہد میں اس شہر کے معاملات میں مصروف تھا، ان بھائیوں کے ساتھ جو مشہد میں عظیم عوامی سرگرمیوں میں ہم بھی شامل تھے اور فعالیت کررہے تھے۔ شہید مطہری نے کئی مرتبہ براہ راست ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کئی مرتبہ بالواسطہ پیغام دیا کہ میں تہران چلا جاؤں۔ میرا تصور یہ تھا کہ شاید ہمارے اپنے معمول کے کاموں کے لئے مجھے تہران بلا رہے ہیں ـ ہمارے بہت سے مشترکہ امور تھے، علمی، نظریات اور سیاسی شعبوں میں ـ اور میرا خیال نہیں تھا کہ یہ دعوت شورائے انقلاب کے لئے ہوگی اور کہہ دیتا تھا کہ آجاؤں گا۔ لیکن چونکہ مشہد میں الجھنیں کچھ زیادہ تھیں اور بہت سا کام میرے دوش پر تھا، میرا تہران کا سفر مسلسل مؤخر ہورہا تھا۔ یہاں تک کہ پیرس سے پیغام آیا کہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کا حکم ہے کہ میں تہران چلا جاؤں؛ چنانچہ تہران جانے کا ارادہ کیا، بالخصوص یہ کہ شہید مطہر نے ایک بار ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کچھ غصے کی کیفیت میں پیغام دیا کہ میں تہران کیوں نہیں جارہا ہوں، اور کس چیز کا انتظار کررہا ہوں؟
تہران میں مجھ سے کہا گیا کہ شہید مطہری کی رہائشگاہ پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کروں۔ اس اجلاس میں شورائے انقلاب کے تمام اراکین جمع ہوئے تھے اور وہاں جاکر مجھے معلوم ہؤا کہ میں بھی شوری کا رکن ہوں، اس وقت تک نہیں جانتا تھا"۔
البتہ شورائے انقلاب نے ان دنوں کے تقاضوں کی بنا پر بعض دوسرے افراد کو بھی رکنیت دی جو دوسرے سیاسی مکاتب سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے نقاب رفتہ رفتہ اتر چکے، لیکن جو افراد انقلاب کی اساس اور بنیاد تھے اور اصولوں اور حدود و معیارات کے نگہبان تھے، یہی برادران تھے۔
ان افراد نے بنی صدر کے مہروں اور لبرلزم کے شیدائیوں کے ساتھ کام کرنے کی تمام تر مشکلات کو انقلاب اور امت اسلامیہ کی مصلحتوں کی خاطر برداشت کیا اور سعی و کوشش کرکے معاملات کو سلجھایا۔ اور ساتھ ہی ضرورت کے وقت ان لوگوں کے مد مقابل ضرورت کے مطابق مزاحمت کی۔
امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی استقبالیہ کمیٹی
سنہ 1978-79ع کے تمام مظاہروں اور ریلیوں میں مرکزی کردار وہ ٹیمیں ادا کررہی تھیں جو شہید مظلوم آیت اللہ بہشتی، شہید آیت اللہ مطہری اور شہید محمد جواد باہنر اور ان کے رفقائے کار کے زیر انظام سرگرم عمل تھے۔
دوسرے شہروں میں بھی اصل اور مرکزی کردار شہید آیت اللہ صدوقی، شہید آیت اللہ دستغیب وغیرہ جیسے بزرگ علماء ادا کررہے تھے جو مرکزی راہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
خراسان کے مجاہد علماء میں امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) اہم ترین مرکزی حیثیت رکھتے تھے جو تمام مظاہروں اور ریلیوں کے محور و مدار کا کردار ادا کررہے تھے۔
یہ فعالیتیں اور کوششیں شاہ کے ملک سے فرار اور امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی ملک واپسی پر منتج ہوئیں۔ امام (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے استقبال سے متعلق امور کے انتظام و انصرام کے لئے "امام کی استقبالیہ کمیٹی" معرض وجود میں آئی جس کا مرکز تہران کا "مدرسۂ رفاہ" تھا۔
امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) ملک میں تشریف لائے مدرسۂ رفاہ اور "مدرسہ علوی" میں مختلف کمیٹیاں قائم ہوئیں یا پہلے سے قائم شدہ کمیٹیوں نے اپنا کام زیادہ نظم اور سنجیدگی سے جاری رکھا۔
آپ نے امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے دفترِ تبلیغات کا انتظام سنبھالا اور اس مہم کو ـ جو بہت صبرآزما اور دشوار تھی ـ بخوبی سر کیا۔
ان دنوں ہر جگہ سے مبلغین کے لئے درخواستیں آرہی تھیں اور ہر جگہ تبلیغ اور پشت پناہی کی ضرورت تھی، جبکہ اسی اثناء میں امام کی ملاقات کے لئے آنے والوں کی نظم و ترتیب اور پذیرائی، متعلقہ خبروں اور رپورٹوں کی تیاری اور ذرائع ابلاغ میں ان کی نشر و اشاعت کی ذمہ داری بھی تھی؛ سامراج کے پرانے مہروں اور بھیس بدل کر میدان میں آنے والے وابستہ اور بظاہر قوم پرست عناصر کی ابلاغی سازشوں کے سدّباب ـ بالخصوص مختلف النوع ٹولوں کا مقابلہ، ـ جو موقع پرستانہ انداز سے کسی محنت کے بغیر انقلاب کا پھل توڑنے اور اپنے آپ کو ملّت پر ٹھونسنے کے درپے تھے۔
ان پر ولولہ ایام کی واقعات کی یادوں کو ـ جن کا ہر لحظہ ایک تازہ خبر اور ایک نئے واقعے کا عکاس تھا، اور ہماری ملّت مستبدّین اور مطلق العنان شاہی ستم کے جلّادوں کے 2500 سالہ ستم کی جڑیں اکھاڑ رہی تھی ـ علیحدہ طور پر لکھنا چاہئے۔
اسلامی جمہوریہ کے ریڈیو سے پہلا مقالہ
امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے دفتر میں قابل قدر کام میں سے ایک جو انجام پایا "امام" کے عنوان سے ایک رسالہ تھا جس کے چند ہی شمارے امام کے تہران میں قیام کے وقت یادگار کے طور پر شائع ہوئے۔ امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) نے اس یادگار رسالے میں کئی مضامین اور مقالات لکھ کر چھپوائے اور دلچسپ امر یہ کہ 22 بہمن سنہ 1379ھ ش [بمطابق 11 فروری 1979ع] کو ریڈیو عوام کے قابو میں آیا تو جو مقالہ آپ نے "پہلی کامیابی کے بعد" کے عنوان سے لکھا تھا، ریڈیو سے پڑھا گیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی سرپرستی
سنہ 1979ع میں نو تأسیس سپاہ پاسداران کے درمیان اختلافات نمودار ہوئے، بعض بزرگوں کی ثالثی کی ناکام کوششوں کے بعد، امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) نے سپاہ پاسداران کی سرپرستی سنبھالی اور اختلافات کو حل کرکے مسائل کو سلجھایا۔
تہران کے امام جمعہ
ستمبر سنہ 1979ع میں آیت اللہ طالقانی کی وفات کے بعد، امام امت (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے ایک فرمان کے ذریعے آپ کو تہران کا امام جمعہ مقرر فرمایا۔
امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے فرمان کے ضمن میں بیان فرمایا:
"جناب عالی، جو بحمد اللہ اچھی ساکھ سے متصف اور علم و عمل کے لحاظ سے لائق و شائستہ ہیں، تہران کے امام جمعہ کے طور پر مقرر ہیں۔ خداوند متعال سے جناب عالی کے لئے ـ عوام کی راہنمائی اور ہدایت کے سلسلے میں ـ توفیق اور کامیابی کی التجا کرتا ہوں"۔
رکن پارلیمان
انقلاب اسلامی کے بعد کی پہلی مجلس شورائے اسلامی [1] کے انتخابات شروع ہوئے تو امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) نے تہرانی عوام کی جانب سے، بڑے اتحاد کے نامزد امیدوار کے طور پر، انتخابات میں شرکت کی اور چودہ لاکھ ووٹ لے کر عظیم اکثریت سے پارلیمان کے رکن بنے۔
ستمبر سنہ 1980ع میں اسلامی انقلاب پر عراق کی بعثی حکومت کی یلغار کے موقع پر آپ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی طرف سے اعلی دفاعی کونسل میں امام موصوف کے مشیر کے طور پر متعین اور محاذ جنگ میں حاضر ہوئے۔ اور منافقین اور بنی صدر کے عدم تعاون اور روڑے اٹکانے کے باوجود عوامی دفاعی نظام کو منظم کیا اور شہید ڈاکٹر چمران کے ہمراہ چھاپہ مار جنگی مرکز قائم کیا جس میں شامل دستے ہی عراق کے منظم بعثی جارحین کے خلاف جنگ کے ابتدائی ایام میں مؤثر و کارساز تھے۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) پر دہشت گردانہ حملہ
آپ مورخہ 28 اگست 1981ع کو (آیت اللہ بہشتی اور 72 بزرگان قوم کی شہادت سے ایک روز قبل) خانۂ خدا (مسجد ابوذر) عوام سے خطاب کررہے تھے کہ اسی اثناء میں منافقین کے بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بن کر شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل ہوئے۔ لیکن خداوند متعال نے ان کے پربرکت وجود کو ایران کی مسلم ملت کی خدمت کے لئے محفوظ رکھا اور بہت جلد صحت یاب ہوکر ہمیشہ کی طرح جوش و ولولے کے ساتھ مختلف مورچوں میں مصروف خدمت ہوئے۔
آپ کے دہشت گرانہ حملے کا نشانہ بننے کے بعد حضرت آمام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے آپ کے نام پیغام دیا جس کا متن حسب ذیل ہے:
"دشمنان انقلاب اسلامی نے آپ پر ـ جو کہ ذریت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہیں اور خاندان حسین بن علی (علیہ السلام) سے ہیں اور اسلام اور اسلامی ملک کی خدمت کے سوا کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے، اور محاذ جنگ پر ایک جان نثار سپاہی، محراب میں سبق آموز معلّم، جمعہ و جماعت میں زبردست خطیب، اور میدان انقلاب میں شفیق راہنما ہیں ـ قاتلانہ حملہ کرکے اپنی سیاسی سوچ، عوام کی حمایت اور ظالموں کی مخالفت [کے نعروں) کی سطح نمایاں کرکے دکھائی۔ انھوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ کرکے پورے ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں کروڑوں مخلص انسانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ یہ اس قدر سیاسی بصیرت سے محروم ہیں کہ پارلیمان اور نماز جمعہ میں آپ کی تقاریر کے فوراً بعد اس جرم کے مرتکب ہوئے اور ایسی شخصیت پر قاتلانہ حملہ کیا جس کی درستی اور سچائی کی دعوت کی ندا دنیا کی مسلمانوں کی سماعتوں میں گونج رہی ہے۔ انھوں نے اس غیر انسانی عمل کا ارتکاب کرکے خوف پھیلانے کی بجائے کروڑوں مسلمانوں کے عزم کو مزید پختہ اور ان کی صفوں کو مزید مستحکم کردیا۔ ان وحشیانہ اعمال اور ناپختہ جرائم کے باوجود کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ فریب خوردہ عزیز نوجوان ان کے جال سے چھٹکارا حاصل کریں؛ اور والدین اپنے عزیز نوجوانوں کو ان مجرمین کی خواہشوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں اور ان کے جرائم میں شریک ہونے سے باز رکھیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان جرائم کے ارتکاب نے ان کے نوجوانوں کو تباہ و برباد کردیا ہے اور ان کے نوجوان مٹھی بھر جرائم پیشہ لوگوں کی پیروی کرکے فنا ہورہے ہیں؟ ہم خداوند متعال کی بارگاہ میں اور حضرت بقیۃ اللہ (ارواحنا فداہ) کے حضور، فخر کرتے ہیں کہ ان سپاہیوں پر جو محاذ جنگ پر بھی اور محاذ جنگ کی پشت پناہی میں بھی، راتوں کو محراب عبادت اور دنوں کو حق تعالی کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔ میں آپ خامنہ ای عزیز کو تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں کہ آپ میدان جنگ میں عسکری لباس میں اور محاذ کی پشت پر لباس علماء میں ملبوس ہو کر اس مظلوم ملت کی خدمت میں مصروف رہے ہیں اور اللہ تعالی سے اسلام و مسلمین کی خدمت کے لئے آپ کی سلامتی کی دعا کرتا ہوں"۔
آیت اللہ شہید ڈاکٹر بہشتیؒ نے بھی اپنی شہادت سے چند ہی گھنٹے قبل اپنے ٹیلی گرام میں لکھا:
"ہمارے بھائی پر اسلام، انقلاب اور اسلامی وطن کے دشمنوں کا ناکام قاتلانہ حملے نے واضح کیا کہ اسلام اور ملت کے یہ قسم خوردہ دشمن اپنے منحوس و مذموم مقاصد کی راہ میں کسی بھی جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کرتے۔ دشمنی و عناد پر مبنی یہ کوششیں ان ان دشمنانہ کوششوں کے نتیجے میں ان بکے ہؤوں کے خلاف انقلابی ملت کا غیظ و غضب روز بروز مشتعل تر ہورہا ہے اور انہیں معاشرے میں تنہائی سے دوچار کرے گا۔ خداوند متعال سے التجا کرتا ہوں کہ جلد از جلد سلامتی کی نعمت ہمارے عزیز اور مجاہد بھائی کو لوٹا دے اور وہ اسلام کے مورچے میں اپنے جہاد کو جاری رکھیں"۔
صدر اسلامی جمہوریہ
صدر شہید محمد علی رجائی اور وزیر اعظم ڈاکٹر محمد جواد باہنر کی شہادت کے بعد آپ علماء اور انقلابی اداروں کی جانب سے بطور صدارتی امیدوار متعارف کرائے گئے اور عظیم اور بےمثل عوامی آراء سے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے صدر کے طور پر منتخب ہوئے۔
آپ کی صدارت کا دور ایسے وقت میں شروع ہؤا کہ ملک بہت حساس اور دشوار حالات میں گھرا ہؤا تھا۔ 72 راہنماؤں کی شہادت، وزرات عظمیٰ سیکریٹریت کے دھماکے میں شہید رجائی اور شہید باہنر کی شہادت، اوین جیل میں شہید محمد کچوئی کی شہادت، مسلسل دھماکوں اور دھشت گردانہ حملوں اور ان سے پیدا ہونے والی عمومی فضا، بنی صدر کی صدارت کے منفی اثرات، ملک کے بہت سے علاقوں پر کافر صدامی بعثیوں کا قبضہ اور ملک پر بیرونی معاشی پابندیوں نے مل کر پیچیدہ صورت حال پیدا کی تھی۔
امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ)، حضرت امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی نظر میں
(بحوالہ کتاب "مرجعیت از دیدگاه فقہا و بزرگان")
"۔ ۔ ۔ اگر تم تصور کرو کہ پوری دنیا میں اور تمام صدور اور بادشاہوں کے درمیان ایک فرد جناب خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کی طرح ڈھونڈ سکتے ہو جو اسلام کا پابند و متعہد اور خدمت گزار ہو اور اس کا قلبی عزم یہ ہو کہ اس ملّت کی خدمت کرے، تو ڈھونڈ نہیں سکو گے۔ انہیں میں طویل برسوں سے پہچانتا ہوں، اور جب تحریک کی ابتداء تھی وہ اس میں شامل ہوچکے تھے اور پیغامات پہنچانے کے لئے اطراف میں تشریف لے جایا کرتے تھے؛ اور اس کے بعد جب انقلاب عروج کو پہنچا تو آپ میدان میں حاضر تھے ہر جگہ اور آخر تک، اور اب بھی ہمارے لئے ایک نعمت ہیں اللہ کی طرف سے جو اس نے ہمیں عطا فرمائی ہے"۔ [2]
"جناب عالی (امام خامنہ ای) کو اسلامی جمہوریہ کا ایک مقتدر بازو سمجھتا ہوں، اور آپ کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں ایسا جو فقہی مسائل سے آشنا اور ان کے پابند ہیں اور ولایتِ مطلقۂِ فقیہ سے متعلق فقہی مبانی اور اصولوں کی سنجیدگی سے پشت پناہی کرتے ہیں۔ اور اپنے دوستوں اور اسلام کے [احکام و تعلیمات] اور اسلامی اصولوں کے پابند دوستوں کے درمیان ان نادر و کمیاب افراد میں سے ہیں کہ سورج کی طرح روشنی دیتے ہیں"۔ [3]
جناب ہاشمی رفسنجانی نقل کرتے ہیں:
"تین بنیادی اداروں کے سربراہوں، جناب وزیر اعظم اور الحاج سید احمد خمینی (رح) کی موجودگی میں، امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے ساتھ ہماری بحث اس موضوع پر تھی کہ "ہمیں بعد میں موجودہ اسلامی جمہوری آئین کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ممکن ہے کہ قیادت کا خلا پیدا ہوجائے"۔ امام نے فرمایا: "رہبری کا خلا پیدا نہیں ہوگا، کیونکہ آپ کے پاس آدمی موجود ہے"۔ پوچھا گیا کہ "وہ کون ہے؟"، آپ نے آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کی موجودگی میں ہی فرمایا: "یہی جناب خامنہ ای"۔
ایک دن میں ایک خصوصی ملاقات کے لئے امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کی خدمت میں حاضر ہؤا۔ اور چونکہ میں مسائل کے ذرا زیادہ بےپردگی سے بیان کرتا تھا، اسی لئے آپ کی جانشینی کے مسئلے اور پیش آنے والے ممکنہ مسائل کے متعلق سوال اٹھایا، تو ایک بار پھر آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا: "آپ کو تعطل اور رکاؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ اس طرح کے انسان "آیت اللہ خامنہ ای" آپ کے درمیان ہیں، آپ خود کیوں نہیں جانتے ہیں"۔
جناب الحاج سید احمد خمینیؒ نقل کرتے ہیں:
"جب آیت اللہ خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) شمالی کوریا کے دور پر تھے، تو امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) روئیدادوں کو ٹیلی ویژن سے دیکھ رہے تھے؛ کوریا کے دورے کا منظر، وہاں کے عوام کا زبردست استقبال، یا اسی دورے میں ان کی تقاریر اور مذاکرات؛ یہ سب امام کے لئے بہت دلچسپ تھا اور آپ نے فرمایا: "الحق کہ وہ رہبری کی اہلیت رکھتے ہیں"۔ [4]
مجموعی طور پر، کہا جاسکتا ہے کہ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کا امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) سے یہ خطاب کہ "جب آپ سفر پر نکلتے ہیں تو میں پریشان اور مضطرب رہتا ہوں جب تک کہ آپ پلٹ کر نہیں آتے، زیادہ دورے نہ کیا کیجئے"۔ [5]
زعامت
امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی رحلت کے بعد آنجناب کی راہنمائیوں اور مجلس خبرگان (ماہرین قیادت اسمبلی) کی کیاست اور ہوشیاری سے، ـ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) کی دلی خواہش کے برعکس ـ آپ ہی انقلاب اسلامی کے رہبر و راہنما کے طور پر منتخب ہوئے۔ مجلس خبرگان کے اجلاس کے دوران اور اس کے بعد، آپ کی علمی اور عملی شخصیت سے متعلق بہت سے پہلو امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے ساتھیوں اور مجلس خبرگان کے اراکین محترم کے زبانی منظر عام پر آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ