بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || حالیہ واقعات سے پہلے، ایران میں خارجہ پالیسی کسی مستقل قومی اصول کی بجائے، جماعتی مفادات اور بدلتی ہوئی حکومتوں کے بدلتے ہوئے رویوں کی تابع تھی۔
کچھ حکومتوں نے پابندیوں (Sanctions) کے عملی اثرات کو نظر انداز کیا لیکن حالات کے مطابق معیشت اور داخلی سیاست میں جنگی تیاری سے غفلت کی۔ دوسری طرف، ایسے سیاستدان بھی سامنے آئے جنہوں نے ملک کے تمام مسائل، حتیٰ کہ "لوگوں کے پینے کے پانی" جیسی معمولی چیزوں کو بھی امریکی رویوں سے مشروط کر دیا۔
یہ دو انتہائیں (افراط و تفریط) ملک کو خارجہ پالیسی کو "حیرت کے دور" میں لے گئی، خاص طور پر امریکیوں سے نمٹنے کے انداز میں۔ اس دور میں حکومتوں کی غلطیوں اور تجربوں کا خمیازہ سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ عوام کی تھالی اور قومی طاقت کے پیمانوں کو بھگتنا پڑا۔
اعتماد کا سراب اور بھاری قیمت
اس معرکۃ الآرائی کا بنیادی سبب "امریکہ کے ارادوں" کے بارے میں سیاسی دھڑوں کے نقطہ ہائے نظر کا اختلاف تھا۔ اصلاح پسند گروہ اور اعتدال پسند دھڑے کے کچھ حصے، ایران کے ایٹمی معاملے کو کوئی سیاسی بہانہ نہیں، بلکہ ایک "تکنیکی مسئلہ" سمجھتے تھے جو قانونی فارمولوں اور اعتماد سازی سے حل ہو سکتا ہے۔ اسی سوچ کی بنا پر، سعدآباد معاہدے (2003) اور بعد میں جوہری معاہدہ (2015 - JCPOA) میں "یک طرفہ طور پر کشیدگی کم کرنے" کی حکمت عملی اپنائی گئی۔
ایران نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے بھاری قیمت ادا کی۔ 11 ٹن سے زیادہ افزودہ یورینیم کا ملک سے باہر بھیجنا اور اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کے مرکز میں کنکریٹ ڈالنا، اس سوچ کی علامتیں تھیں۔ اس گروہ کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ اگر مغرب سے ایٹمی بہانہ چھن گیا تو اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا مشہور جملہ کہ "جان کیری کا دستخط ضمانت ہے"، اس دور کا منشور تھا۔ لیکن تلخ حقیقت بالآخر چھا گئی۔ اس وقت کے مرکزی بینک کے گورنر ولی اللہ سیف کا یہ اعتراف کہ "ایرانی معیشت کے لئے ایٹمی معاہدے کا حاصل 'تقریباً صفر' تھا،" خوش فہمی کی بنا پر اعتماد کی دیوار میں یہ پہلی دراڑیں تھیں۔
منظم بدعہدی اور اسٹراٹیجک انتباہات
امریکہ کا برجام سے نکلنا اور "برجام پلس" کا مطالبہ، اس بات کا ثبوت تھا کہ ایٹمی معاملہ محض ایک برفانی تودے کی نوک ہے۔ امریکہ کی حکمت عملی ایٹمی معاملہ حل کرنا نہیں، بلکہ "ایران کی طاقت کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر ختم کرنا" تھا۔ انہوں نے پابندیوں کے خاتمے کو "علاقائی اثر و رسوخ" اور "میزائل صلاحیت" پر مذاکرات سے مشروط کر دیا۔ بالکل وہی عناصر جو ایک پرآشوب علاقے میں ایران کی قومی سلامتی کی ضمانت ہیں اور جن کے بارے میں برسوں سے رہبر معظم انقلاب مختلف حکومتی عہدیداروں کو متنبہ کرتے آ رہے تھے۔
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی تنبیہ اور مذاکراتی جال
رہبر انقلاب نے 2021 میں بارہویں حکومت کے ساتھ آخری ملاقات میں، اسی مذاکراتی جال کی طرف دانشمندانہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: "وہ کہتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ پابندیاں ہٹ جائیں، تو ابھی اس معاہدے میں ایک جملہ شامل کر دو جس کا مطلب یہ ہو کہ بعد میں ان موضوعات پر ہم تم سے بات کریں گے اور معاہدہ کریں گے۔ اگر تم نے یہ جملہ شامل نہ کیا تو ابھی ہمارا تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
یہ جملہ کیا ہے؟ یہ جملہ بعد کی مداخلتوں کا بہانہ ہے۔ خود جوہری معاہدے کے بارے میں، اس معاہدے کی توسیع کے بارے میں، مختلف مسائل کے بارے میں، میزائلوں کے بارے میں، خطے کے بارے میں۔ اگر تم نے بعد میں کہا کہ نہیں میں اس بارے میں بحث نہیں کروں گا یا ملک کی پالیسی اجازت نہیں دیتی یا پارلیمان اجازت نہیں دیتی، تو وہ کہیں گے کہ بہت اچھا تم نے خلاف ورزی کی، تو پھر کچھ نہیں، معاہدہ کالعدم۔"
یہ گہرا تجزیہ بتا رہا تھا کہ اعلیٰ قیادت کے نقطہ نظر سے، امریکہ کا مقصد طرز عمل تبدیل کرنا نہیں، بلکہ ایران کی ساخت بدلنا اور اسے کمزور کرنا ہے۔ اس کے باوجود، جوہری معاہدے کی ناکامی اور یورپ کی بےعملی کے بعد بھی، ملک کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے کچھ حصے اسی پرانے طریقے سے معاہدے کی بحالی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ "میدان" اور "سفارت کاری" کے درمیان یہ ادراکی خلا، ایران کی خارجہ پالیسی کی کمزور کڑی بن چکا تھا۔
12 روزہ جنگ؛ امریکہ کی ننگی حقیقت کا سامنا
لیکن تاریخ ایک سخت گیر استاد ہے۔ جو چیز معاصر سیاسی تاریخ میں "12 روزہ جنگ" کے نام سے درج ہوئی، وہ ایک ایسا صدمہ تھا جس نے اس بکھرے ہوئے آشفتہ سپنے کو چکنا چور کر دیا۔ امریکہ کا فوجی حملہ، بالکل اسی وقت ـ جب مذاکراتی ٹیمیں سفارتی گفت و شنید میں مصروف تھیں، ـ ایک واضح اور دو ٹوک پیغام تھا، اور وہ یہ کہ: "امریکہ کے لئے، مذاکرات کی میز صرف حملے کی سمت معین کرنے کی آڑ ہے۔"
یہ واقعہ، اس صدی میں سفارتی عمل کے ساتھ اب تک کی سب سے بڑی غداری تھی۔ اس سے پہلے، انتہائی خوش فہم تجزیہ کاروں نے بھی کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ واشنگٹن سفارتی اشارے بھیجنے کے ساتھ ساتھ جنگ کا بٹن بھی دبا دے گا۔ یہ اقدام، ایرانی سیاستدانوں کے لئے وہی "حقیقت کا لمحہ" (Moment of Truth) تھا۔ ان حکمرانوں کو اچانک استکبار کے ننگے اور بے نقاب چہرے سے سامنا کرنا پڑا، جو شاید کل تک کے بعض سیاستدانوں کی طرح، تعامل اور تفاہم کے نمونے تلاش کر رہے تھے۔
ان 12 دنوں میں، جس چیز نے ایران کو بچایا اور اندازے بدل دیئے، وہ سفارت کاروں کی مسکراہٹ نہیں، بلکہ میزائلوں کی گرج اور ان کا امریکیوں اور صہیونیوں پر برسنا تھا۔ داخلی فسادات کے منصوبے کی ناکامی، نے ـ جو جنوری 2026 میں فوجی آپریشن کے ساتھ منسلک کیا گیا ـ تھا، ـ دشمن کے اڈوں پر کاری "فوجی" ضربوں اٹل فیصلے کے ساتھ مل کر، پانسہ ایران کے حق میں پلٹ دیا۔
نیا دور: آگ کی کھوکھ سے اتفاق رائے کی پیدائش
آج، 12 روزہ جنگ کی گرد تھمنے کے بعد، ہم ایران میں ایک "تمثیلی تبدیلی" (Paradigm Shift) دیکھ رہے ہیں۔ "میدان" اور "سفارت کاری" کا وہ جھوٹا دوہراپن جس نے برسوں ملک کی توانائی ضائع کی تھی، اب اس کی جگہ "میدان سفارت کاری کا معاون" اور "سفارت کاری، میدان کا تسلسل" کے نظریئے لے لی ہے۔
تبدیلیوں کے اس دور کا پچھلے 22 سالہ دور کے ساتھ بنیادی فرق یہ ہے کہ مذاکراتی ٹیم اور ملک کا سیاسی ڈھانچہ، اب فوجی آپشن کے اظہار سے گریز نہیں کرتا۔ وہ سابقہ "شرمندگی" یا "احتیاط" جو میزائل تجربے یا فوجی مشق کو مذاکرات میں رکاوٹ سمجھتی تھی، ختم ہو چکی ہے۔ ایرانی سیاستدان - اب جس فکر و جماعت سے بھی ہوں - اس پختگی تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں مسلح ہو کر مذاکرات کرنا ہیں؛ اور بھرا ہؤا، فائرنگ کے لئے تیار اسلحہ مذاکرات کی میز کا حصہ ہونا چاہئے۔
یہ قومی اتفاق رائے جو 20 سال پہلے سیاسی بصیرت سے حاصل ہونا چاہئے تھا، اب "قیمت" اور یقیناً "دشمن کی اسٹریٹجک غلطی" سے حاصل ہؤا ہے۔ امریکہ نے مذاکرات کی میز پر حملہ کرکے، ایران کی داخلی یکجہتی کی سب سے بڑی خدمت کی۔ انہوں نے "محض پائیدار سیاسی معاہدے کے امکان" کا وہم ختم کر دیا اور "مشترکہ تسدید و تخویف (Combined Deterrence)" نامی حقیقت کو زندہ کر دیا۔
ایران آج "حیرانی کے دور" سے گذر کر "اسٹریٹجک حقیقت پسندی" کے زمانے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نئے دور میں:
1۔ امریکہ کے تیوروں اور مسکراہٹوں سے بے اعتنائی:
ایران کی خارجہ پالیسی اب مشروط نہیں ہوتی۔ عوام اور مارکیٹ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکی پالیسی کا جوہر ہی جنگ جھگڑے پر استوار ہے اور وائٹ ہاؤس کے کرایہ دار بدلنے سے اس حکمت عملی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2۔ متحدہ داخلی رویئے:
اب کوئی میزائل پر لکھے ہوئے نعرے کو "سفارت کاری کی تباہی" کا نام نہیں دیتا، بلکہ سب اسے "سفارت کاری کی ضمانت" سمجھتے ہیں۔
3۔ ہر منصوبے کے لئے تیاری:
آج کا ایران بلند آواز میں اعلان کرتا ہے: "اگر امن چاہئے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے؛ لیکن اگر جنگ چاہئے تو ہم تمہارے میدان میں تمہارا استقبال کریں گے۔"
12 روزہ جنگ، اگرچہ تلخ اور مہنگی تھی، لیکن اس نے منافقت کے پردے ہٹا دیئے۔ اس جنگ نے واضح کرکے دکھایا کہ آج کی حقیقت پسند دنیا میں، "حق" چھیننا پڑتا ہے اور واشنگٹن میں صرف ایک زبان سنی جاتی ہے، وہ ہے "طاقت" کی زبان۔
آج ایران کے عوام اور سیاستدانوں اور دانشوروں کا امریکی پالیسیوں پر جو اتفاق رائے ہے، وہ "اعتماد" سے "تجربے" تک کے ایک مشکل راستے سے گذرنے کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسا تجربہ جو کہتا ہے کہ: "قومی سلامتی اور مفادات، لوزان اور جنیوا میں نہیں، بلکہ میزائل طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور مضبوط سفارت کاری کے دانشمندانہ امتزاج سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: خلیل عامری نیا
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ