25 اگست 2026 - 18:29
ایرانی عہدیداروں نے امریکی اقتصادی جنگ کے بارے میں کیا کہا؟

جہاں امریکی عہدیداروں کے خیال میں 'ایران کے خلاف بڑے مالی حملے' کا آغاز ہؤا ہے، وہیں ایرانی عہدیداروں نے اس کاروائی کو پہلے سے ناکام، قرار دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ، سید عباس عراقچی نے اسے وہ فلم قرار دیا جو پہلے دیکھی جا چکی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ؛ جمعرات 20 اگست 2026ع‍ کی صبح کو امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کے آغاز کا اعلان کیا اور اپنے سوشل نیٹ ورک 'ٹروتھ سوشل' کے سرکاری صفحے پر دعویٰ کیا کہ اس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تاریخ کی 'انتہائی کچل دینے والی اقتصادی کارروائی' شروع کر دی ہے۔

رپورٹ کا خلاصہ:

1۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈآکٹر سید عباس عراقچی (وزیر خارجہ):

• امریکی دھونس دھمکیاں، اس ملک کے اندرونی مالی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

• ناکام پالیسیوں کے اعادے پر پر اصرار مزید ناکامیاں واشنگٹن کی جھولی میں ڈال دے گا۔

• امریکی پابندیاں "پہلے دیکھی گئی فلم" ہے اور ماضی میں ناکام ہونے والی مہمات (مفلوج کرنے والی پابندیاں، زیادہ سے زیادہ دباؤر، غیر مشروط پسپائی وغیرہ) اسی فلم کی فلاپ ہونے والی قسطیں ہیں۔

• امریکہ کے پاس ایرانی عوام سے ـ احترام کے ساتھ ـ بات چیت کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

2۔ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف:

• امریکی پالیسی "منجمد (Frozen)" اور بے اثر ہے۔

• [انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا] جس طرح گوشت کی قیمت کنٹرول کرنے کے لئے منجمد گوشت درآمد کیا جاتا ہے، کیا امریکی حکام قرضوں، مکانات اور تنخواہوں کے لئے بھی "منجمد" حل (Frozen solution) لائیں گے؟

• منجمد خارجہ پالیسی معیشت کو بھی منجمد کر دیتی ہے، اور امریکہ کی یہ پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کا پھینکا ہؤا وہ بومرینگ (Boomerang) ہے جو واپس اس کے اپنے منہ پر لگے گا۔

3۔ سکریٹری اعلیٰ قومی سلامتی کونسل، میجر جنرل محسن رضایی:

• خبردار کرتے ہیں کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ تیل بھی نہیں نکل پائے گا۔

• ایران امریکی جنگ میں کسی بھی ملک کی شرکت یا حمایت کو "جنگی اقدام" تصور کرے گا۔

4۔ وزیر اقتصاد و خزانہ، سید علی مدنی زاده:

• ایران کی انتظامیہ نے پابندیوں سے نمٹنے کے لئے طویل عرصے سے منصوبہ بنا رکھا ہے اور مکمل تیار ہے۔

• یہ پابندیاں نئی نہیں ہیں اور ایران کے اقتصادی شریانوں کو نہیں کاٹ سکتیں۔

• خبردار کرتے ہیں کہ اس بار ایران صرف دفاعی نہیں بلکہ جوابی حملے کے لئے بھی تیار ہے اور ہم "کھیل کے قواعد" سے بخوبی واقف ہیں۔

5۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ترجمان، اسماعیل بقائی:

• امریکی اقتصادی جنگ "اقوام کی خودمختاری کی خلاف ورزی" اور "تمام ممالک کے خلاف اعلان جنگ" ہے۔

• یہ زباں بازیاں امریکہ کی بے بسی اور بدحالی کا نتیجہ ہے۔

• واشنگٹن کو ماضی میں اس قسم کی پالیسیوں ـ حتی کہ امریکی فوجی حملوں ـ کی ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔

• وہ چھ مہینوں سے جاری جنگ میں بھی ناکام ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں ہرا سکے۔

بقائی نے آج منگل 25 اگست کو جارج بش کے 2003 کے "مشن مکمل ہؤا  Mission Accomplished" والے عکس کو شائع کر کے ایران کے خلاف بیسنٹ کی طرف سے ایران پر اقتصادی دباؤ کے 'آخری مرحلے کے آغاز' سے متعلق بیانات پر ردعمل ظاہر کیا۔"

وضاحت: جارج بش کی یہ مشہور تصویر 2003 میں عراق جنگ کے بعد "مشن ایکمپلشڈ" (Mission Accomplished) کے بینر تلے لی گئی تھی، اور بقائی نے اسے طنزیہ طور پر شیئر کر کے امریکی پابندیوں کے انجام کو ماضی کی ناکامیوں سے تشبیہ دی۔

ایرانی عہدیداروں نے امریکی اقتصادی جنگ کے بارے میں کیا کہا؟

6۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، ڈاکٹر کاظم غریب آبادی:

• امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کہتا ہے کہ فوجی قوت ختم اور ایٹمی پروگرام مدفون ہے، پھر ایران کے خلاف "تاریخ کی سب سے بڑی مالی کارروائی" کیوں ضروری ہوئی؟

• بیسنٹ ہی بتا دے کہ یہ اعلان، امریکہ کی "فتح" کا اعلان ہے یا "شکست کا اعتراف"؟

7۔ نائب وزیر خارجہ اور سیاسی مطالعات مرکز کے سربراہ، ڈاکٹر سعید خطیب زادہ

• یہ امریکی کی طرف سے "تاریخی قومی-مذہبی جنگ" ہے۔

• اوباما کی "مفلوج کننده پابندیاں" بھی ناکام ہوئیں، اور نئی پابندیاں کے منصوبہ ساز بھی تاریخ کے کوڑے دان میں چلے جائیں گے۔

• یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایران پچھلی جنگوں کی طرح اس بار بھی فتح یاب ہوگا اور اس کے دشمن ناکامی کا منہ ایک بار بھر دیکھ لیں گے۔

8۔ وزارت خارجہ کا سرکاری بیان:

• امریکی اقدام "انسانیت کے خلاف جرم" اور "آزمودہ و ناکام پالیسی" کا اعادہ ہے۔

• تاکید کرتے ہیں کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع میں ثابت قدم ہے۔

• تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے پالیسی سازوں پر عائد ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha