30 اگست 2026 - 00:44
ایرانی قوم نے 40 روزہ جنگ میں عالم اسلام کو بڑا سبق دیا، سید عباس عراقچی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا: ایرانی عوام نے ۴۰ روزہ جنگ میں عالم اسلام کو یہ بڑا سبق دیا کہ اگر ہم متحد ہوں تو ہر ظلم کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی نے آج (ہفتہ) 29 اگست 2026ع‍ کو "روایت رحمت" کے آرٹ ایونٹ کی تقریب میں ـ جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت با سعادت کی 1500ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی ـ کہا: ایرانی عوام نے حالیہ جنگوں، ـ خاص طور پر 40 روزہ جنگ میں، ـ عالم اسلام کو بڑا سبق دیا اور وہ یہ کہ اگر ہم متحد ہوں تو ہر ظلم کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: ایران کے لوگوں نے ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا، 40 روز تک دنیا کی سب سے بڑی ظاہری فوج کے سامنے ڈٹے رہے، جس کو دوسرے ممالک اور ریاستوں کی مدد و حمایت بھی حاصل تھی۔

عراقچی نے کہا: 40 روز تک ڈٹے رہنا ایک معجزہ اور اور ساتھ ہی ایک سبق تھا، اور ایرانی عوام نے اپنی طاقت اور استقامت کو ثابت کرکے دکھایا اور ثابت کیا کہ اگر سب متحد ہوں تو فتح یاب ہیں۔ 40 روزہ جنگ داخلی اتحاد اور ہم آہنگی کا ایک قابل فخر نمونہ ہے۔

عراقچی نے مزید کہا: یہ داخلی اتحاد جاری رہے گا، وہ اتحاد اور ہم آہنگی جو عوام، مسلح افواج، حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان پیدا ہوئی اور اس استقامت کو جنم دیا، اور وہ کچھ کر دکھایا جس کا پوری دنیا میں کسی بھی یقین نہیں تھا۔

انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ دوسرے ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام ایرانی عوام کی استقامت اور ان کے پیدا کردہ معجزے کو سراہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں اس سرزمین کے تمام شہداء، خاص طور پر حالیہ جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا: رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) اللہ کی کی راہ میں 70 سالہ جدوجہد کے بعد شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس بڑے جرم کو بھول جائیں یا معاف کر دیں۔

وزیر خارجہ نے کہا: عالم اسلام کا اتحاد اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ہم اس اتحاد کو ہر صورت اور ہر مسئلے کے باوجود، جاری رکھیں گے۔

عراقچی نے کہا: سعودی عرب اور مصر عالم اسلام کے بڑے ممالک ہیں، جیسے ترکی، پاکستان اور دیگر، تمام اسلامی ممالک عالم اسلام کے بڑے خاندان کو تشکیل دیتے ہیں۔ جب ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب ایک جیسے، ایک رنگ اور ایک راستے پر ہوں۔ یقیناً اختلافات موجود ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: جیسا کہ کئی اسلامی ممالک کے ساتھ سنگین اختلافات ہیں، لیکن ان سارے اختلافات کو ایک بڑے مقصد کے لئے قربان کرنا ہوگا، تاکہ عالم اسلام اپنی قدر جان سکے اور بڑی طاقتوں کے تکبر اور نخوت کے سامنے کھڑا ہو سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha