بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر نے ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ہفتہ وحدت کے موقع اپنے پیغام میں لکھا: "جو سلامتی جو ماورائے علاقہ طاقتوں کی مداخلت پر مبنی ہو، نازک اور زدپذیر ہے / اغیار نہ کسی کو امن دے سکتے ہیں نہ ہی دینا چاہتے ہیں۔/ علاقائی معاہدے اس مرحلے کی نوید دیتے ہیں جہاں پڑوسی ممالک غیروں کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کریں۔"
مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر قالیباف کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہفتۂ وحدت عالم اسلام میں ایک عظیم اور تزویراتی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ وہ حقیقت جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی ولادت باسعادت سے سرچشمہ لیتی ہے۔ وہ نبیؐ جو انسانوں کو تفرقے سے توحید، دشمنی سے بھائی چارے اور جہالت و انتشار سے آگہی اور یکجہتی کی طرف بلانے کے لئے تشریف لائے۔
ایران میں شیعہ اور سنی، اس سے پہلے کہ وہ مختلف مسالک سے منسلک ہوں، دو مشترکہ حقیقتوں میں شریک ہیں:
پہلی حقیقت یہ کہ سب کے دل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آپؐ کے اہل بیت (علیہم السلام) کے حبدار اور سب انہی کے گرویدہ ہیں، اور
دوسری یہ کہ سب خود کو ایرانی سمجھتے ہیں۔
اسلامی ایران، قبائل اور مسالک کی برادرانہ بقائے باہمی کی سرزمین ہے۔
آج ایران میں شیعہ اور سنی کا اتحاد کوئی وقتی نعرہ نہیں، بلکہ قومی مضبوطی کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد اور ملک کی سلامتی اور ترقی کے بڑے سرمایوں میں سے ایک سرمایہ ہے، جس کا واضح مظہر پہلی، ـ دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں میں ـ غیر ملکی اور خونخوار دشمن کے مقابلے میں ـ عزیز ایران کے تمام مسالک اور مذاہب کی استقامت ہے۔
آج عالم اسلام کو ایک تاریخی انتخاب کا سامنا ہے
حالیہ برسوں میں خطے کی تبدیلیوں نے عیاں کیا ہے کہ مسلمان قومیں اور ریاستیں، اس حقیقت کو، پہلے سے زیادہ، سمجھ پائی ہیں کہ غیر ملکی طاقتیں اور اسلام کے دشمن نہ تو خطے کی قوموں کے لئے پائیدار امن فراہم کر سکتے ہیں، اور نہ ہی بنیادی طور پر ایسے امن کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہ امن جو دور دراز کی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت پر مبنی ہو، کمزور، زدپذیر اور غیریقینی ہے، لیکن وہ امن جو مسلمان قوموں کی مرضی اور خطے کے ممالک کے برادرانہ تعاون پر استوار ہو، پائیدار، باوقار اور دیرپا ہو سکتا ہے۔
آج اس بیداری کے آثار نئے علاقائی معاہدوں، انتظامات اور تعاون کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ نئے علاقائی معاہدے اور انتظامات ایک نئے مرحلے کے آغاز کی نوید ہو سکتے ہیں؛ جہاں مسلمان پڑوسی اغیار کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کریں اور تھکا دینے والی مسابقت کے بجائے 'تعاون اور بھائی چارے کے راستے کا انتخاب کریں۔
مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا ثمرہ، خاص طور پر حالیہ پیشرفتوں کے دوران، دشمن کو شکست کا مزہ چکھانا اور استکبار کو اس کے موقف اور عزائم سے پیچھے دھکیل کر پے در پے کامیابیاں حاصل کرنا تھا۔
حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے، ہفتہ وحدت کے موقع پر پوری عظیم ایرانی قوم، سنی اور شیعہ بھائیوں اور بہنوں، اور پورے عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
امید ہے کہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی ولادت با سعادت کے فیض سے، عالم اسلام ـ پہلے سے کہیں زیادہ ـ اپنی مشترکہ حقیقت کی طرف لوٹ آئے، مسلمان قوموں کے درمیان بھائی چارے کے ہاتھ مزید مضبوط ہوں، اور ہمارا خطہ اتحاد، آزادی، سلامتی اور اسلامی عزت کے ایک نئے عہد کا آغاز دیکھے۔ وہ عہد جس میں مسلمانوں کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھی جائے اور کوئی غیر ملکی طاقت مسلمان بھائیوں کے درمیان جدائی کی دیوار نہ بنا سکے۔
اسپیکر مجلس شورائے اسلامی
محمد باقر قالیباف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ