29 اگست 2026 - 21:35
ایران پر جارحیت 'ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی'  ریپبلکنز کو  شدید خدشات

ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع چار دن سے سے پانچ ہفتوں تک جاری رہے گا، لیکن اس تنازع کو اب چھ مہینے گذر چکے ہیں اور ریپبلکن تزویراتی ماہرین پریشان ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ، وسط مدتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے گرد جاری تنازعات نے ریپبلکن ووٹرز کو مایوس کر دیا ہے، وہی لوگ جنہوں نے ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس بھیجا تھا اور مقصد یہ تھا کہ وہ افراط زر کو قابو میں رکھے اور امریکہ کو بیرونی تنازعات سے دور رکھے، کیونکہ اس نے یہی وعدے دیئے تھے۔

مضمون کا جامع خلاصہ:

ریپبلکنز کو تشویش ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ، جسے ابتداً چند ہفتے کا تنازع بتایا گیا تھا مگر اب چھ ماہ گذر چکے ہیں، وسط مدتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ جنگ ان ہی ووٹروں کو مایوس کر رہی ہے جنہوں نے ٹرمپ کو مہنگائی کنٹرول کرنے اور امریکہ کو بیرونی جھگڑوں سے دور رکھنے کے لئے منتخب کیا تھا۔

بلومبرگ کے مطابق، ریپبلکن اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ اس جنگ کو خود ٹرمپ نے شروع کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ بالکل  بے فکر دکھائی دیتا ہے، جبکہ اس ناجائز اور ناپسندیدہ جنگ نے اس کی اور ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت گھٹا دی ہے۔

ایران پر جارحیت 'ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی'  ریپبلکنز کو  شدید خدشات

سروے رپورٹس بتاتی ہیں کہ عوام مہنگائی اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں، اور تجزیہ کاروں کے خیال میں اگر ٹرمپ یہ ماحول انتخابات تک بہتر نہ کر سکے تو ریپبلکنز دونوں ایوانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، جس کے بعد ڈیموکریٹس جنگ اور ٹرمپ اور اس کی کابینہ کے بارے میں تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔

گوکہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کردی لیکن ایران ان کی توقع کے برعکس، پسپا نہیں ہؤا اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال مزید خراب کر دی۔

ایران پر جارحیت 'ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی'  ریپبلکنز کو  شدید خدشات

حالیہ مہینوں میں عوام کا رجحان ٹرمپ، جنگ اور ریپبلکن امیدواروں سے ہٹتا جا رہا ہے، ڈیموکریٹس پوری دلچسپی سے انتخابات کے میدان میں آئے ہیں جبکہ ریپلکن رہنما خاموش ہیں مگر انتخابات کے ممکنہ نقصان سے ڈرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مشیروں کو امید نہیں ہے کہ جنگ کی صورت حال یا پٹرول کی قیمتیں انتخابات سے پہلے بہتر ہو سکے گی، اور ٹرمپ کے بار بار دعوؤں کے باوجود ـ کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور قیمتیں کم ہوں گی، ـ پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ آبنائے بند ہے اور قیمتيں بڑھ رہی ہیں۔

ادھر ٹرمپ نے اپنی وہمیات کی دنیا سے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرکے سروے رپورٹوں کو جعلی قرار دیا اور اور ہزارویں بار فتح کا دعویٰ کیا، مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی جنگی جارحیت کے نتائج اب خود ریپبلکنز کے گلے پڑ گئے ہیں۔

ایڈیٹر ایمی والٹر نے موجودہ صورت حال کا سنہ 2006 کے عراق جنگ کے بعد کے تجربے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار بھی ریپبلکنز کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ٹیکساس اور آئیووا جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی اس جماعت کے انتخابی انجام کو متنازعہ ریاستوں کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی ٹرمپ کی جنگ سے ناخوش ہیں، اور اس کی مقبولیت 33 فیصد تک گر چکی ہے، جو اس کی دوسری مدت صدارت کے دوران کی کم ترین سطح ہے۔

ایران پر جارحیت 'ٹرمپ کی سب سے بڑی غلطی'  ریپبلکنز کو  شدید خدشات

ادھر خود ریپبلکنز کے درمیان بھی جنگ کی حمایت مارچ کے 77 فیصد سے گھٹ کر 69 فیصد رہ گئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ عوام کا رویہ بدلنے کا امکان نہیں ہے، اور ریپلکن پارٹی ایران کے ساتھ جنگ کو مرکزی مسئلہ بنا رہی ہے، خاص طور پر وسط مغرب میں جہاں ایندھن کی قیمتیں اہم ہیں۔

ڈیموکریٹک سروے میں 96 فیصد ڈیموکریٹس ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہیں، جبکہ 71 فیصد ووٹرز بشمول 48 فیصد ریپبلکنز مانتے ہیں کہ جنگ نے ملک کی داخلی صورت حال کو خراب کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ ٹرمپ کے دو بڑے وعدوں ـ یعنی نئی جنگوں سے بچنا اور قیمتوں کو کم کرنا ـ سے متصادم ہے۔ کینٹکی کے نمائندے تھامس میسی نے اسے "اب تک کی سب سے بڑی اور مہنگی غلطی" قرار دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد رضا جعفری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha