بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی || ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی شدت کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے فریم ورک کے اندر محض ایک نیا اقدام نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس اقدام کو ایک کثیر جہتی فریم ورک میں دیکھنا چاہئے جو سیاسی اور اقتصادی دباؤ سے شروع ہؤا، براہ راست جنگ تک جا پہنچا، اور اب، مہینوں کے تنازع کے بعد، ایک بار پھر 'پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے اوزار' کی طرف پلٹ گیا ہے۔
حالیہ رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فی الحال، کم از کم عارضی طور پر، اپنی حکمت عملی کا وزن فوجی حملوں سے اقتصادی پابندیوں کی طرف موڑ رہی ہے۔
ایران کے خلاف پابندیاں یقیناً کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ پچھلی چند دہائیوں کے دوران، امریکہ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اپنے تقریباً تمام اقتصادی آلات استعمال کئے ہیں۔ تیل اور مرکزی بینک پر پابندیوں سے لے کر مالی پابندیوں اور ثانوی پابندیوں [یعنی ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے ممالک کے خلاف پابندیوں] تک۔ اس لئے جو بات آج اہمیت رکھتی ہے وہ ایران کے خلاف پابندیوں کی واپسی نہیں ہے؛ بلکہ یہ امریکہ ہے جو ایک مہنگی اور ناکام جنگ کا سامنا کرنے کے بعد میدان جنگ سے پابندیوں کی طرف واپس چلا گیا ہے۔
مضمون کا خلاصہ:
ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کی شدت میں اضافہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پرانی حکمتِ عملی ہے جو ایک مہنگی اور ناکام جنگ کے بعد دوبارہ استعمال کی جا رہی ہے۔
امریکہ نے پہلے سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالا، پھر براہِ راست جنگ کا آغاز کیا، مگر کئی مہینوں کی لڑائی کے باوجود کوئی فیصلہ کن نتیجہ حاصل نہ کر پایا؛ نہ ایران کے جوہری معاملے کا حتمی فیصلہ ہو سکا، نہ ایران کو امریکی مرضی ماننے پر مجبور کیا جا سکا، اور آبنائے ہرمز کا مسئلہ بھی ابھر آیا، امریکہ نے آبنائے ہرمز کے لئے بھی ناکام جنگ لڑی، اور نتیجہ الٹا نکلا اور مار بھی پڑی۔
مغربی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کا مسئلہ تعطل کا شکار اور امریکی فوج فرسودگی کا شکار ہو گئی ہے۔ امریکی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ امریکی جنگی ذخائر میں کمی اور ٹرمپ پر اندرونی سیاسی دباؤ اس تبدیلی کی اہم وجوہات ہیں۔
چنانچہ واشنگٹن کے سامنے دو ہی راستے تھے: جنگ جاری رکھنا اور فوجی اخراجات بڑھانا، یا جنگ سے پہلے والے اوزار یعنی پابندیوں کی طرف پلٹ جانا۔ ٹرمپ نے فی الحال دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
امریکہ جنگ کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بھی نہ کھول سکا!
نئی بات یہ ہے کہ امریکہ کے سامنے اب ـ جنگ کے اعلان کردہ بنیادی اہداف کو چھوڑ کر ـ آبنائے ہرمز کا معاملہ آ کھڑا ہؤا ہے، جو جنگ کی وجہ سے پیدا ہؤا اوراس کے لئے جنگ لڑی گئی مگر جنگ سے بھی حل نہ ہو سکا۔ واشنگٹن اب کسی وسیع تر جنگ کے بغیر یہ آبی گذرگاہ کھولنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی دعوے (جیسے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا دعوی وغیرہ) دراصل اس کوشش کا حصہ ہیں کہ آبنائے پر کنٹرول کا ایک نیا بیانیہ بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: امیر حمزہ نژاد
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ