28 اگست 2026 - 21:56
ٹرمپ، جنگ سے پابندیوں کے پرانے ہتھکنڈے کی طرف واپس کیوں مڑا؟ - 2

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ٹرمپ کی پابندیوں کی مہم ایرانیوں کے لئے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک پرانا اور گھسا پٹا نسخہ ہے جو ایک مہنگی مسلط کردہ اور شکست خوردہ جنگ کے بعد بہت معنی خیز ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی || ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی شدت کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے فریم ورک کے اندر محض ایک نیا اقدام نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس اقدام کو ایک کثیر جہتی فریم ورک میں دیکھنا چاہئے جو سیاسی اور اقتصادی دباؤ سے شروع ہؤا، براہ راست جنگ تک جا پہنچا، اور اب، مہینوں کے تنازع کے بعد، ایک بار پھر 'پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے اوزار' کی طرف پلٹ گیا ہے۔

دوسرا اور آخری حصہ:

پابندیوں کی طرف واپسی جنگ میں ناکامی کا اعتراف

چنانچہ پابندیوں میں تیزی کو جنگ کے 'ناکام مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے'، 'اوزارِ کار کی تبدیلی' کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ امریکہ معاشی دباؤ بڑھا کر ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے، مگر یہ ایک چکر ہے: معاشی دباؤ → سیاسی دباؤ → فوجی دھمکی → جنگ → ناکامی → دوبارہ معاشی دباؤ اور دوبارہ وہی چکر۔ اس چکر سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جارحانہ جنگ کے اعلان کردہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہی، کیونکہ اگر جنگ کا ہدف ایران کے اندازوں اور منصوبوں کو تبدیل کرنا تھا، تو اب پابندیوں کی طرف واپسی اس ناکامی کا عملی اظہار ہے۔

امریکہ جنگ میں ناکامی کے بعد، اب پابندیوں کے ذریعے ایران پر زیادہ اخراجات بڑھا کر مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتا ہے! مگر یہ وہی پرانی تدبیر ہے جو جنگ سے پہلے بھی ـ عشروں سے ـ آزمائی جا چکی تھی اور مطلوبہ نتائج پر منتج نہیں ہو پائی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اس بات کی عکاس ہے کہ جنگ کا راستہ ایران کے خلاف کارگر ثابت نہیں ہؤا اور امریکہ مجبوراً اپنی پرانی حکمتِ عملی کی طرف لوٹ رہا ہے۔

مضمون کا آخری پیراگراف:

ایک منصوبے کی ناکامی یا 'چال کی تبدیلی'؟

تزویراتی نقطہ نظر سے مہینوں کی جنگ کے بعد آلات اور اوزاروں کی تبدیلی ایک اہم علامت ہے۔

اپنے اہداف کے حصول کے لئے، واشنگٹن نے سب سے پہلے معاشی دباؤ آزمایا۔ پھر فوجی دباؤ اور براہ راست جنگ میں کود پڑا، اور اب وہ معیشت کی طرف لوٹ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہرمز کا مسئلہ اختلاف کے اہم محوروں میں سے ایک ہے - جو کہ جنگ سے پہلے 'ایک مسئلہ' نہیں تھا، ایران نے جنگ اور امریکیوں کی عہدشکنیوں کی بنا پر بند کر دیا ـ اور اسے کھولنے کے لئے فوجی کوششیں بھی ہوئیں لیکن یہ فوجی کوششیں ایک پائیدار سیاسی حل میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔

اس نقطہ نظر سے، نئی پابندیوں کو ایک نئے منظر نامے کے آغاز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے، بلکہ جنگ کے ذریعے فیصلہ کن نتیجہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پرانے منظر نامے میں امریکہ کی واپسی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔

ٹرمپ اب وہ چیز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو وہ طاقتِ نظامی کے ذریعے حاصل نہ کر سکے، یعنی معاشی دباؤ اور دباؤ میں شدت کی دھمکی کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ـ اس مورچے سے جس میں وہ خود کو برتر پوزیشن میں دیکھتا ہے ـ کہ واشنگٹن اسے اپنی برتر حیثیت سمجھتا ہے ـ اور مذاکرات کو آبنائے ہرمز اور دیگر اختلافات کے حل کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

تاہم موجودہ حالات میں اس واپسی کا مطلب فوجی میدان میں اپنے مقاصد کے حصول میں امریکہ کی ناکامی اور نا اہلی ہے جسے امریکہ شدید سیاسی پروپیگنڈے سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے!

امریکہ پہلی بار ایک جنگ میں، شکست کھا گیا ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس کو چھپانے کے لئے اتنی تگ و دو ہو رہی ہے، لیکن یہ سب سورج کو انگلی سے چھپانے کی لاحاصل کوششوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha