بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ خطے کے موجودہ واقعات 7 اکتوبر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے۔ 7 اکتوبر کا واقعہ (اور معرکۂ طوفان الاقصیٰ) ایک فطری انسانی جواب تھا اُس صورتحال کے سامنے جو خطے کی طرف لائی گئی تھی، اور یقیناً یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو خطے کے حق میں رقم ہؤا۔
لیکن اس سوال کا جواب شہید سید حسن نصراللہ نے 2020 میں الحاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے ساتویں دن دیا تھا:
"کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ خطے کے موجودہ واقعات 7 اکتوبر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے۔ 7 اکتوبر ایک فطری انسانی جواب تھا اُس صورتحال کے سامنے جو خطے کی طرف لائی گئی تھی، اور یقیناً یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو خطے کے حق میں رقم ہؤا۔"
تین سال بعد، خطے میں امریکہ کے کام کا نتیجہ یہ تھا: "ناکامی کے بعد ناکامی، بے بسی کے بعد بے بسی، اور سرگردانی کے بعد سرگردانی"۔ "شام، لبنان، یمن، افغانستان، عراق اور ایران میں اُن کا منصوبہ کسی بھی کامیابی تک نہ پہنچا" اور وہ فلسطین پر "صدی کا سودا (Century Deal)" مسلط نہ کر سکے۔
پھر امریکیوں نے کہا: "چلو ایک نئے مرحلے اور نئی پالیسی کی طرف چلتے ہیں۔" یہیں سے خطے میں دو منصوبوں کی جنگ شروع ہوئی۔ ایک منصوبہ، امریکہ اور اسرائیل کا مغربی ایشیا کے خطے پر تسلط کا منصوبہ ہے۔ آیئے لبنان، عراق، شام، خلیج فارس، یمن وغیرہ کی تفصیلات سے قطع نظر، دیکھ لیں؛ ایک منصوبہ موجود ہے جس کا نام ہے: اسرائیل کو مضبوط کر کے اور صدی کا سودا کرکے امریکہ اور اسرائیل کا اس خطے، مسلمانوں کے مقدس مقامات، تیل، گیس اور ہر ملک کے موجودہ وسائل پر مسلط ہونا؛ وہ ہمارے تیل، گیس، پانی اور وسائل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک منصوبہ ہے۔
وہ اسے کس طرح انجام دینا چاہتے ہیں؟ الحاج قاسم کا قتل کوئی عام دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا ۔۔۔ یہ خطے میں امریکہ کے ایک نئے عمل کا آغاز تھا۔
3 جنوری 2020 کو انہوں نے خطے میں ایک نئی قسم کی نئی جنگ شروع کر دی
(بعد میں المیادین سے گفتگو میں شہید سید حسن نصر اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ہے کہ وائٹ ہاؤس میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ سعودی پیسے کی مدد سے قتلوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے اور میں بھی قتلوں کی فہرست شامل ہوں۔)
اُنہیں امید تھی کہ اس اقدام سے مزاحمتی قوتیں کمزور ہو جائیں گی اور مزاحمتی قوتوں کا ایک دوسرے سے اور ایران سے مضبوط تعلق کمزور ہو جائے گا۔ اُنہیں امید تھی کہ ایران ڈر جائے گا، خوفزدہ ہو جائے گا، پیچھے ہٹ جائے گا وغیرہ۔
دوسری طرف سے، دوسرا منصوبہ بھی مزاحمت، آزادی، حقِ حکمرانی، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے اور خودمختاری کا تحفظ کرنے کا منصوبہ ہے، اور یہ کہ ہماری قوموں کے وسائل ہماری قوموں کے لئے ہوں اور ہمارے مقدس مقامات ہماری امت کی امانت کے طور پر محفوظ رہیں۔
ہمارا پروگرام ہمارے خطے سے امریکہ کی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہے۔ اڈوں، بحری جہازوں اور امریکی فوج کے تمام افسروں اور سپاہیوں کو ہمارے خطے، ہمارے ملکوں اور ہماری سرزمینوں سے نکال باہر کرنا ہے۔
درحقیقت آج (جنوری 2020) ہم ان دو منصوبوں کے درمیان جنگ میں ہیں۔ کچھ لوگ اِس طرف ہیں اور کچھ اُس طرف۔ کچھ لوگ بھٹکے ہوئے بھی ہیں۔ تو اسی درمیان 3 جنوری کا واقعہ (حاج قاسم کا قتل) پیش آتا ہے۔
اگر امریکیوں کو خطے سے نکالنے کا مقصد حاصل ہو جائے، تو صایونی بھی اپنے سوٹ کیس باندھ کر چلے جائیں گے، اور شاید ہمیں اسرائیل سے جنگ کی بھی ضرورت نہ پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کمال خُجستہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ