لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
دوسری قسط | ٹرمپ ایرانی انتقام سے خوفزدہ؛ وصیت بھی کر دی
امامِ شہیدِ امت کے انتقام کے لئے ایرانی عوام کا سنجیدہ مطالبہ اور قاتل ٹرمپ سے انتقام کے لئے انعام کے اعلان نے اسے خوفزدہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایرانی عوام کے انتقام کے خوف سے اپنی وصیت کا اعلان کر دیا۔
-
ٹرمپ ان ٹربل؛
پہلی قسط | ٹرمپ ایرانی انتقام سے خوفزدہ؛ وصیت بھی کر دی
امامِ شہیدِ امت کے انتقام کے لئے ایرانی عوام کا سنجیدہ مطالبہ اور قاتل ٹرمپ سے انتقام کے لئے انعام کے اعلان نے اسے خوفزدہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایرانی عوام کے انتقام کے خوف سے اپنی وصیت کا اعلان کر دیا۔
-
مکتب سلیمانی؛
خطے میں امریکی ترتیب کا زوال شہید مکتبِ سلیمانی کا نتیجہ ہے، سپاہ پاسداران
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے شہید لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی کی برسی اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے یوم ولادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا: استعماری نظام کی سیاسی و سیکیورٹی طاقت کے گھِس جانے اور علاقے اور دنیا میں امریکی ترتیب کے زوال کی علامتیں، مکتبِ شہید سلیمانی کی پائیدار تأثیر اور محاذ مزاحمت کے مجاہدین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
-
مکتب سلیمانی؛
الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ + تصاویر
لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے چھ سال بعد، ان کا نام نہ صرف ایک بہادر کمانڈر کی یادآوری ہے بلکہ سمندر اور آسمان میں ایران کی دفاعی طاقت کی علامت بھی ہے۔
-
مکتب سلیمانی؛
مکتبِ سلیمانی کے بارے میں دس نکات
انقلاب کے دونوں امام ایسے نظام کے قیام و تاسیس کے مقام پر ہیں۔ اس نظام کی بقاء اور دوام و استقلال کا پوشیدہ راز، قومی جہاد کے تمام میدانوں میں شہید الحاج قاسم سلیمانی جیسے سپاہیوں کی موجودگی ہے۔
-
مزاحمتی محاذ کی کامیابی، قرآنی پیشگوئیوں کے نمایاں طور پر سچ ثابت ہونے کا اظہار ہے
حجتالاسلام سید مہدی نے قم میں مسابقاتِ قرآن کریم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں مزاحمتی محاذ کی مسلسل کامیابیاں، خصوصاً اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ ناکامی، قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہیں اور رہبر انقلاب آیتاللہ خامنهای کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہیں۔
-
ابنا کے ساتھ انٹرویو؛
شیعہ سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے / 12 دن کے دفاع مقدس نے تشیع کی طاقت و عظمت میں اضافہ کیا، علامہ سید ناظر عباس نقوی
انھوں نے کہا: آپ 15 سال یا 20 سال پہلے پرانے اخبار اٹھائیں گے تو اخبار کی ہیڈنگ ہوتی تھی کہ شیعہ نے سنی کو مار دیا سنی نے شیعہ کو مار دیا پاکستان میں فرقہ واریت ہو رہی ہے اس فرقہ واریت کو بے نقاب کرنے میں بڑی جدوجہد ہوئی بڑی قربانیاں دی گئیں؛ اج الحمدللہ کوئی بھی اخبار اٹھائیں گے تو یہ نہیں ہوگا کہ شیعہ نے سنی کو یا سنی شیعہ کو مار دیا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب دہشت گردی ہے اور ہم نے یہ پریکٹس کی ہم نے تمرین کرائی لوگوں کو لوگوں کو باور کروایا کہ شیعہ سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ایک ساتھ جمع ہیں محبتیں ہیں ایک ساتھ بیٹھتے ہیں ایک دوسرے کے مدارس میں جاتے ہیں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرتے ہیں یہ جو گروہ ہے پاکستان کے اندر یہ دہشت گردوں کا ٹولہ ہے اور یہ کسی مسلک کی نمائندگی نہیں کرتا؛ الحمدللہ۔