سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے شہید لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی کی برسی اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے یوم ولادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا: استعماری نظام کی سیاسی و سیکیورٹی طاقت کے گھِس جانے اور علاقے اور دنیا میں امریکی ترتیب کے زوال کی علامتیں، مکتبِ شہید سلیمانی کی پائیدار تأثیر اور محاذ مزاحمت کے مجاہدین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے چھ سال بعد، ان کا نام نہ صرف ایک بہادر کمانڈر کی یادآوری ہے بلکہ سمندر اور آسمان میں ایران کی دفاعی طاقت کی علامت بھی ہے۔
انقلاب کے دونوں امام ایسے نظام کے قیام و تاسیس کے مقام پر ہیں۔ اس نظام کی بقاء اور دوام و استقلال کا پوشیدہ راز، قومی جہاد کے تمام میدانوں میں شہید الحاج قاسم سلیمانی جیسے سپاہیوں کی موجودگی ہے۔
حجتالاسلام سید مہدی نے قم میں مسابقاتِ قرآن کریم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں مزاحمتی محاذ کی مسلسل کامیابیاں، خصوصاً اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ ناکامی، قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہیں اور رہبر انقلاب آیتاللہ خامنهای کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہیں۔
انھوں نے کہا: آپ 15 سال یا 20 سال پہلے پرانے اخبار اٹھائیں گے تو اخبار کی ہیڈنگ ہوتی تھی کہ شیعہ نے سنی کو مار دیا سنی نے شیعہ کو مار دیا پاکستان میں فرقہ واریت ہو رہی ہے اس فرقہ واریت کو بے نقاب کرنے میں بڑی جدوجہد ہوئی بڑی قربانیاں دی گئیں؛ اج الحمدللہ کوئی بھی اخبار اٹھائیں گے تو یہ نہیں ہوگا کہ شیعہ نے سنی کو یا سنی شیعہ کو مار دیا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سب دہشت گردی ہے اور ہم نے یہ پریکٹس کی ہم نے تمرین کرائی لوگوں کو لوگوں کو باور کروایا کہ شیعہ سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ایک ساتھ جمع ہیں محبتیں ہیں ایک ساتھ بیٹھتے ہیں ایک دوسرے کے مدارس میں جاتے ہیں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرتے ہیں یہ جو گروہ ہے پاکستان کے اندر یہ دہشت گردوں کا ٹولہ ہے اور یہ کسی مسلک کی نمائندگی نہیں کرتا؛ الحمدللہ۔