بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سنہ 2001 میں عالمی تجارتی مرکز پر حملے کے بعد، اس وقت کے امریکی صدر نے ـ حملوں میں ملوث افراد اور حملوں کے محرکات کے بارے میں کسی بھی تحقیق سے پہلے ـ پورے عالم اسلام کے خلاف موقف اپنایا اور اپنی زیر زمین پناہگاہ سے ایک پیغام جاری کرکے صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔ سنہ 2023 میں حماس نے طوفان الاقصی کا معرکہ شروع کیا تو امریکی صلیبی عیسائیت بھی یہودی انتہاپسندی کے ساتھ مل کر اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی۔ 2025 میں ایران کے خلاف جنگ میں یہودی اور عیسائی انتہاپسندی عروج کو پہنچی اور فوج کو صلیبی جنگ یا روم اور ایران کی ہزاروں سالہ پرانی تاریخ پڑھائی جانے لگی اور اب نئی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ امریکی فوجیوں کے گھرانوں تک بھی پھیلایا گیا ہے۔
* عالم اسلام میں غلامانہ مغربی ذہنیت کے حامل لوگ ہمیشہ یہ کہتے اور لکھتے ہیں کہ امریکہ اور مجموعی طور پر مغرب میں اتنا سیکولرزم اس حد تک غلبہ رکھتا ہے کہ وہاں کوئی مذہبی اور دینی نظریہ موجود ہی نہیں ہے، اور یہی ان کی ترقی کا راز بھی ہے!! حالانکہ اس سلسلے میں بالکہ ناخواندہ ہیں یا پھر مغربیت نے انہیں اندھا بہرا کر دیا ہے اور ان کا واحد ہنر مغرب زدگی اور مغرب نوازی ہے۔
* اب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) فوجی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اسکولوں میں نام نہاد مغربی تہذیب کے حوالے سے ایک تعلیمی کورس متعارف کرا رہی ہے، جس میں مسیحیت اور کلاسیکی تعلیمات پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ یہ اقدام پیٹ ہیگستھ کی طرف سے تقریباً 160 اسکولوں کو پینٹاگون کے زیر انتظام زیادہ حب الوطنی کی اقدار اور کلاسیکی نقطہ نظر کے حامل اسکولوں میں تبدیل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
* مگر اتنا شور مچا ہے اور یہ کتابیں اتنی تحریف شدہ ہیں کہ خود امریکیوں کی صدائے اعتراض بلند ہو گئی ہے، اور ناقدین کا ماننا ہے کہ اس کورس کی نصابی کتب تاریخ کو اس طرح مسخ کر رہی ہیں کہ مغربی تہذیب کو عیسائیت سے جوڑ دیا گیا ہے، اسلام کو غیر معمولی طور پر پرتشدد مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور مسیحی تشدد (جیسے صلیبی جنگوں) کو کم اہمیت دی گئی ہے!
* یہ خبر ان مغرب زدہ لوگوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جو مسلسل مذہب اور معاشرے میں مذہبی عقائد کے مقام کی تذلیل کرتے ہیں! وہ لوگ جو ہمیشہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مغربی حکومتوں ـ خاص طور پر امریکہ میں نظریئے اور مذہب ـ کا کوئی مقام نہیں ہے، مگر آج شواہد اور قرائن اس قدر وسیع اور واضح ہیں کہ ان معاملات کو چھپایا نہیں جا سکتا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ