3 ستمبر 2026 - 14:01
امریکی جارحیت نے ایرانی قوم کو ایک پرچم تلے متحد کر دیا ہے، جان میئر شیمر

شکاگو یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر جان میئر شیمر کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی جارحیت نے حکومت کو کمزور کرنے کے بجائے ایرانیوں میں "پرچم تلے صف آرائی" کا اثر پیدا کر دیا ہے اور وجودی خطرے کے احساس نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو متحد کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بین الاقوامی تعلقات کے نظریہ ساز اور شکاگو یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے [امریکی] پروفیسر جان میئر شیمر نے اپنے ایک نئے انٹرویو میں کہا: "امریکی ناکہ بندی ایران پر دباؤ ڈالتی ہے، لیکن ایرانی پہلے ہی ایسی صورت حال کے لئے تیار تھے۔"

انھوں نے کہا: "جب آبنائے ہرمز کھلا تھا، تو انہوں نے بڑی تعداد میں جہازوں کو تیزی سے علاقے سے باہر نکالنے اور بڑے پیمانے پر ایرانی تیل کو سمندر میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی تاکہ وہ اسے فروخت کر سکیں۔"

میئر شیمر کے مطابق، "زیادہ تر اندازوں کے مطابق، ایران کے پاس سمندر میں اتنا تیل ہے کہ وہ کم از کم اگلے مارچ تک اپنی آمدنی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ: "کیا امریکہ اس ناکہ بندی کو اس وقت تک جاری رکھ سکتا ہے اور کیا ایران اس دوران دباؤ کم کرنے کے دیگر راستے تلاش نہیں کر لے گا۔"

ان کا کہنا تھا کہ: "میں اس صورت حال میں ایران پر بھروسہ کرتا ہوں، امریکہ پر نہیں۔"

میئر شیمر نے مزید کہا: "مجھے کوئی ایسی کوئی نشانی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے کہ ایران کی حکومت گر رہی ہے۔ یہ استدلال کہ 'بس اقتصادی دباؤ جاری رکھا جائے تو حکومت ہتھیار ڈال دے گی' مہینوں سے دہرایا جا رہا ہے۔ نیز یہ بھی کہا گیا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ ہم نے زمینی حملے کے علاوہ تقریباً تمام ممکنہ حکمت عملیاں آزما لی ہیں، اور کسی بھی حکمت عملی کا کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلا۔"

انھوں نے  اپنے انٹرویو کے دوران ایران کی فوجی صلاحیت پر روشنی ڈالی اور کہا: "جنگ شروع ہونے سے پہلے، امریکہ کے پاس خلیج فارس میں فوجی اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تھا،" لیکن "ان اڈوں کو یا تو شدید نقصان پہنچا ہے یا وا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اور امریکہ کو اپنی فوجی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ اردن، اسرائیل اور یورپ منتقل کرنا پڑا ہے۔" یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے پاس قابلِ ذکر فوجی طاقت موجود ہے۔"

جان میئر شیمر نے کہا: "ایران کی زیادہ تر میزائل اور ڈرون سائٹس اب بھی فعال اور سرگرم عمل ہیں اور ایران کی میزائل پیداواری صلاحیت بھی برقرار ہے۔ یہاں تک کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر، ایران کے پاس اب پہلے سے زیادہ میزائل ہیں۔"

میئر شیمر نے ایران کے خلاف امریکی-صہیونی مسلط کردہ جنگ اور رہبر شہید، فوجی کمانڈروں اور سرکاری عہدیداروں کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "اس اقدام نے فطری طور پر "پرچم تلے صف آرائی" کا اثر پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔

انھوں نے تیسری مسلط کردہ جنگِ کے بعد ایران میں قوم پرستی کے جذبے کی مضبوطی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "جب ہم امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والی اموات اور تباہی پر ایرانی عوام کے ردعمل کی بات کرتے ہیں، تو دیکھا جا سکتا ہے کہ اس صورت حال نے بہت سے ایرانیوں کو آخرکار حکومت کی حمایت کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ میری رائے میں، بہت سے ایرانی جانتے ہیں کہ امریکہ ان کے لئے ایک وجودی خطرہ (Existential threat) ہے۔ یہی بات بہت اہمیت رکھتی ہے۔"

بین الاقوامی تعلقات کے اس نظریہ ساز نے آخر میں اس جنگ کے نتائج کا پیشگی اندازہ لگانے کو عمل کو "مشکل" قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ اس حقیقت کی انتہائی واضح مثال ہے کہ یہ امریکہ کے لئے انتہائی اہم تزویراتی ناکامی ہے۔ اگر ہم امریکہ کی موجودہ پوزیشن اور ان اہداف کو دیکھیں جو اس نے جنگ کے آغاز میں متعین کئے تھے، تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امریکہ اب تک کی جنگ میں شکست کھا گیا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha