بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گوکہ ٹرمپ اور دہشت گرد سینٹکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بحری جہاز اس اسٹراٹیجک آبی راستے سے گذر سکتے ہیں، سپاہ بحریہ کے کمانڈر کے مطابق امریکہ کا 13 ارب ڈالر کا طیارہ بردار جہاز اپنی زدپذیری کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے 700 تا 800 کلومیٹر کے فاصلے تک پسپا ہو گیا ہے اور ایرانی مجاہدین کی زد میں واقع علاقوں کے قریب آنے کی جرأت نہیں رکھتا۔
امریکی جنگی جہاز؛ طاقت کا مظاہرہ یا آپریشنل کمزوری
یہ صورتحال امریکی جنگی جہازوں کے بارے میں امامِ شہیدِ انقلاب کی اس تنبیہ کی یاد دلاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا: "جنگی [بحری] جہاز یقیناً ایک خطرناک مشین ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جنگی جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔"

امریکہ نے ہمیشہ خطے میں اپنے طیارہ بردار جہازوں اور فوجی سازوسامان کو طاقت کے مظاہرے اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے؛ جبکہ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ تصادم کی صورتحال میں معاملہ صرف جہازوں کی تعداد اور ہتھیاروں کی طاقت کا نہیں، بلکہ مخالف فریق کی میزائل اور عملی صلاحیت کے سامنے ان کی کمزوری اور زدپذیری کی سطح فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔

امریکی دعوؤں کو امریکہ کی عملی صلاحیت کی کسوٹی پر پرکھنا
فوجی امور کے ماہر 'سہراب یزدان پناہ' کہتے ہیں کہ اگر واشنگٹن دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جہازرانی کی سلامتی کی ضمانت دے سکتا ہے تو اس کے جنگی جہاز اس آبی راستے سے بہت دور، کیوں تعینات ہوئے ہیں؟
آبنائے ہرمز توانائی کی منتقلی اور سمندری تجارت میں اپنی تزویراتی حیثیت کی وجہ سے خطے کی سلامتی کے فارمولے میں سب سے اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ ایسی صورتحال میں ماہرین کے مطابق امریکی بیڑے کی آبنائے ہرمز سے پسپائی، بحری آمدورفت کی صورتحال کے بارے میں واشنگٹن کے متضاد موقف کے ساتھ، یہ سوال عوام کے سامنے رکھتی ہے کہ کیا بحری جہازرانی کی سلامتی فراہم کرنے کا دعویٰ اسے حقیقتاً آپریشنل کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ