اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، اس معاملے پر بیرونِ ملک سب سے نمایاں ردعمل ترکی کی جانب سے آیا، جو آذربائیجان کا اتحادی، دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ترک صدر کے سینئر مشیر اوکتائے سرال نے ان پابندیوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے باکو سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’اپنی غلطی فوری طور پر درست کرے‘‘۔ ترکی کی سب سے بڑی سیکولر جماعت کے رہنما کمال قلیچدار اوغلو نے بھی آذربائیجان پر زور دیا کہ وہ حجاب کے معاملے میں ترکی کی سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے۔
اسی سلسلے میں ترکی کے یورپی شہر استنبول میں مسلمان شہریوں نے آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے احتجاجی اجتماع کیا اور نعرہ لگایا: حجاب مسلمان عورت کی شناخت ہے۔
ترکی کی معروف سعادت پارٹی کے سربراہ محمود آریکان نے بھی آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ انہوں نے ترکی میں 28 فروری کے واقعات اور فوجی بغاوت کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے حجاب پر پابندی کو ضمیر پر گہرا زخم قرار دیا۔
اس کے برعکس، آذربائیجان کی حکمراں جماعت ینی آذربائیجان نے ان تنقیدوں پر ردعمل دیتے ہوئے ملک کے سیکولر تشخص پر زور دیا اور ترک حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ جماعت نے خبردار کیا کہ حجاب کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ یوں آذربائیجان کے حکام نے بھی غیر رسمی سیاسی ذرائع سے انقرہ کے ردعمل کا جواب دیا۔
آپ کا تبصرہ