اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبدالرحمن السید، جو ماضی میں شہر ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ رہ چکے ہیں، نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں ہیلی اسٹیونز کو شکست دی، جنہیں آیپک کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کی کئی بااثر شخصیات، جن میں چک شومر اور گریچن وائٹمر بھی شامل ہیں، کی حمایت حاصل تھی۔
رپورٹ کے مطابق آیپک نے عبدالرحمن السید کی کامیابی روکنے کے لیے 5 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کیے، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔
عبدالرحمن السید امریکا کی جانب سے صہیونی حکومت کی غیر مشروط فوجی امداد کے ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط عسکری امداد کے خاتمے اور امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال پر سخت نگرانی کے حامی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی عوام کے ایک حصے میں صہیونی حکومت کی غیر مشروط حمایت کے خلاف رائے تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے۔
عبدالرحمن السید نومبر میں ہونے والے حتمی انتخاب میں سابق ریپبلکن رکن مائیک راجرز کے مدمقابل ہوں گے۔ اگر وہ کامیاب ہوئے تو وہ امریکا کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔
دریں اثنا، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی اطلاع دی ہے کہ فلسطینی نژاد امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے ریاست مشی گن کے بارہویں انتخابی حلقے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
آپ کا تبصرہ