بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کمانڈر انچیف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل فَدَوی نے کہا: 2026 میں حالات مختلف ہیں کیونکہ امریکہ 47 سال تک بالواسطہ جارحیتوں کے بعد پہلی بار براہ راست میدان جنگ میں آیا ہے۔
۔۔۔۔۔
• ہم نے اپنے فرائض پر عمل کیا اور اللہ نے اپنا وعدہ نبھایا۔ امریکی بھی اس مسئلے کو بظاہر سمجھ گئے ہیں۔ جنگی حالات میں ہماری صورت حال روز بروز بہتر ہو رہی ہے اور یہ صورت حال امریکیوں کو ستا رہی ہے۔ وہ کسی وقت ایران کی فوجی صلاحیت کے خاتمے کی بات کرتے تھے اور آج جدید حیرتوں کا شکار ہیں۔
ایران اور امریکہ کی دفاعی حکمت عملیوں میں فرق
• "المؤمن کل شیء؛ (مؤمن سب کچھ ہے)۔" اللہ کے وعدوں پر یقین اور معصومین (علیہم السلام) کی تعلیمات پر یقین و اطمینان، ہمیں طاقتور بناتا ہے۔ ہم نے اپنے فرائض بہترین طریقے سے سرانجام دیئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے وعدے کے مطابق، باطل کے خلاف حق کے محاذ کی مدد فرمائے گا۔
ٰ
• سنہ 1980 کے عشرے میں دفاع مقدس کے دوران ہماری فوجی طاقت بہت محدود تھی اور ہماری کشتیوں پر نصب شدہ ہتھیار 107 ایم ایم راکٹ ہؤا کرتا تھا، لیکن آج ہم مختلف ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری میں خودکفیل ہیں۔ ہمارے میزائل ٹاؤن اس بات کا ثبوت ہیں، اور ہم روز گذشتہ روز سے زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں۔
امریکہ کی غلطیاں اور ایران کی صلاحیتوں کے مقابلے میں انفعالیت
• امریکی فضائیہ طاقتور ہے لیکن چونکہ امریکہ 'شیطان' ہے، اور اللہ حق کا حامی ہے لہٰذا اس سے بہت فاش غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ میناب شہر میں گرلز پرائمری اسکول پر ٹاماہاک میزائل سے حملہ ان غلطیوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا آج امریکہ سے نفرت کرتی ہے۔
• سپاہ پاسداران نے 21 رمضان کی شب غیر معمولی آپریشن کیا جس نے امریکہ اور صہیونیوں کو حیران کر دیا۔
امریکی طاقت کے مقابلے میں ایران کی غیرمتناسب جنگ کی حکمت عملی کی برتری
• امریکی فوجی بجٹ دنیا کے تمام ممالک کے فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہے، اس کی فوجی پیداوار بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کی فوجی طاقت کا ارتکاز بحریہ پر ہے جو زمینی اور فضائی طاقت کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے؛ لیکن اس کے باوجود ایران کی غیر متناسب جنگ کی حکمت عملی نے امریکہ کو خلیج فارس اور پورے خطے میں مفلوج کر دیا ہے۔
• اللہ تعالیٰ سختیوں میں اپنے بندوں کو تنہا نہيں چھوڑتا یہ اس کا وعدہ ہے؛ دنیا نے ہم پر حملہ کیا ہے امریکہ اور اس کے تمام تر ساتھی ـ خفیہ اور اعلانیہ طور پر ـ ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ بجائے خود اللہ کے وعدے کا عملی مظاہرہ ہے، کہ ایک طرف کفر کا محاذ ہے اور دوسری طرف ہم اکیلے کھڑے ہیں، لیکن اللہ نے اپنے وعدے پر عمل کیا ہے۔ آج ٹرمپ جنگ بندی کے درپے ہے، کیونکہ اس جنگ نے امریکہ اور دوسرے علاقوں کی معیشت اور ساکھ پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں۔
• دنیا کے لوگ اور دوسرے مذاہب کے پیروکار اس اسلامی نظام کی عظمت کا ادراک و اعتراف کرتے ہیں جو 47 برسوں سے امریکہ کے سامنے ڈٹ کرکھڑا ہے۔
• امریکی صدر نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس استکباری ملک نے 47 برسوں سے اس نظام کے خلاف لڑ رہا ہے لیکن حتیٰ ایک چھوٹی سی کامیابی بھی حاصل نہیں کر سکا ہے۔
• جنگ میں مارا جانا اور شہادت پانا ایک فطری امر اور جنگ کا لازم و ملزوم ہے۔ کسی بھی جنگ میں کبھی بھی ایسا نہ تھا کہ جنگ ہوگئی ہو اور صرف ایک فریق قتل کا متحمل ہؤا ہو۔ ہمارے لئے دونوں حالتوں میں ـ خواہ شہید ہو جائیں خواہ فاتح ہو جائیں ـ "فوز عظیم" (عظیم کامیابی) ہے۔
• امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) جیسی عظیم ہستیاں بھی شہادت پا گئی ہیں۔ شہادت کی مصیبت کے بارے میں ہمارا ادراک ابھی مکمل نہیں ہؤا ہے، جیسا کہ شیعیان اہل بیت(ع) نے عرصۂ دراز کے بعد امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کی مصیبت کی عظمت کا ادراک کر لیا اور ایک ہزار سال سے ان کی شہادت کے لئے عزاداری کرتے اور خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ ہم بھی وقت گذرنے کے بعد شہادت کے حقیقی معنوں کا ادراک کریں گے۔
• آج ہمارے میزائلوں کے ذریعے استکباری اور صہیونی ٹھکانوں کی تباہی بھی اللہ کے وعدوں کی سچائی اور استکباری طاقتوں کے مقابلے میں مقاومت کی فتح و کامیابی کا مظہر ہے۔
• کچھ امریکیوں کو ہماری فورسز نے زندہ پکڑ کر قیدی بنایا ہے جو مغربی ایشیا میں امریکیوں کی زدپذیری اور کمزوری اور انتشار کی علامت ہے۔ ایران ایک امت اور امت کی نمائندگی کرنے والی طاقت کے عنوان سے عراق، یمن اور دوسرے خطوں میں مقاومت سے الگ، عمل کرتا ہے۔ اور امریکیوں کی قید کی خبر بہت زیادہ ممکن ہے۔ امریکی مغربی ایشیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ خود ان کی زد پذیری کا سبب ہے، وہ یمن اور بحرین کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، بحرین نے انہوں نے اپنا اڈہ شیعیان اہل بیت(ع) کے بیچ قائم کیا ہے، اور ان کی قید کا امکان بہت زیادہ ہے۔
• اگلے دنوں میں اس حوالے سے خبریں آ سکتی ہیں۔ ہم اس سے پہلے بھی امریکیوں کو خلیج فارس میں قید کرتے رہیں ہیں۔ ہم نے انہیں اس خطے میں دو مرتبہ قید کر لیا، جس وقت انہوں نے سرخ لکیریں عبور کر لیں۔ برطانویوں نے بھی ایک بار انتہا رسواکن اور شرمناک انداز سے ہتھیار ڈال دیئے۔ جزیرہ فارسی کے پانیوں میں ان کے ہینڈزاپ ہونے کا منظر جاسوسی کے گھونسلے (نام نہاد سفارت خانے) میں ان کے ہتھیار ڈال کر سرتسلیم خم کرنے کی یاد تازہ کر دی۔
دفاع مقدس اور خلیج فارس میں امریکیوں کی شکست
• آٹھ سالہ جنگ کے آخری ڈیڑھ سالہ عرصے میں امریکیوں کو خلیج فارس ميں عظیم شکست کا سامنا کرنا پڑا؛ ان کا ایک ایک ارب ڈالر کی لاگت سے تیارکردہ بحری جہاز تیاہ ہؤا۔ "سیموئل بارابیلز جہاز سنہ 1988ع میں خلیج فارس میں تباہ ہؤا اور امریکیوں کی حفاظت میں خلیج فارس سے گذرنے والے جہازوں کے قافلے بھی نیست و نابود ہو گئے۔ سنہ 1887 اور سنہ 1988 میں ہمارے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل امریکی جہازوں کو لگے اور وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔
• آج 2026 ہے، ہماری صلاحیتیں سنہ 1887 اور سنہ 1988 سے کہیں زیادہ ہیں۔ امریکی انتہائی خوفناک صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں، ہمیں اس قسم کے مزید مناظر کی توقع رکھنا چاہئے۔ امریکی طیارہ بردار جہاز اور دوسرے جنگی جہاز خلیج فارس میں مداخلت کے لئے آئے ہیں لیکن ایرانی ساحلوں سے ایک ہزار دور کھڑے ہیں اور قریب آنے کی جرات نہیں کر پا رہے ہیں۔
امریکی خباثت اور فضائی صلاحیت کا سہارا
• ہمارے خوف سے امریکیوں کی پسپائی اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور امریکیوں کی بے بسی کی علامت ہے، وہ خود کو سوپرپاور سمجھتے ہیں، لیکن 1000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک فرار ہو گئے ہیں اور اپنی فضائی طاقت کا سہارا لئے ہوئے ہیں تاکہ اپنی خباثت و رذالت کا ثبوت دیں، میناب میں پرائمری اسکول پر حملہ کرتے ہیں، بینکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ میں اس بینک کے قریب موجود تھا جسے انہوں نے نشانہ بنایا۔ وہ غیر فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنا نام "سوپر پاور" رکھا ہے۔
• یہ ان کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں پوری دنیا میں بے نقاب کرنا چاہتا ہے۔ وہ تہران ک ریفائنری کے ذخائر کو نشانہ بناتے ہیں جو ایک فوجی ٹھکانہ نہیں ہے۔ ایک بالکل غیر پیشہ ور اور ابتدائی قسم کی فوج بھی اس قسم کے ہلکے اقدامات نہیں کیا کر سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ