بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عالم عرب کے سینئر صحافی عبدالباری عطوان نے کہا:
ایک سوال پوچھتے ہیں: بتایئے سوپر پاور کون ہے؟
میرے خیال میں سوپر پاور ـ بطور خاص مغربی ایشیا میں ـ ایران ہے۔
ایران ہی ہے جو تیل کی قیمتیں متعین کر رہا ہے، ایران ہے جو گیس کی قیمتیں متعان کر رہا ہے، ایران ہی ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج اوپر جائے، یا نیچے گرے۔ ایران فیصلہ کرتا ہے کونسا ایئرپورٹ کھلا رہے اور کونسا ایئرپورٹ بند رہے۔ ایران فیصلہ کرتا ہے کہ کونسی فضائی حدود محفوظ ہيں اور کونسی غیر محفوظ ہی اور کونسی ایئر کمپنی پرواز کرے اور کونسی کمپنی اتر آئے۔ حتی کہ افراط زر بھی ایران کے ہاتھ میں ہے کہ افراط زر کہاں تک بڑھے یا گھٹے۔
یہی بات بین الاقوامی جہازرانی کے بارے میں ہیں۔
آبناؤں پر کس کا کنٹرول ہے؟ اس وقت آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب بند ہیں، بحیرہ عرب بند ہے۔
ایران ہے جو فیصلہ کرتا ہے نہ کہ ٹرمپ۔ ٹرمپ ایک کنارہ کش شخص بند گیا ہے، یہ شخص ہذیان بکتا ہے اور مطلقا نہیں جانتا کہ کہتا کیا ہے؟
اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین دنوں سے گذر رہا ہے، اسرائیل کی پوری طاقت تباہ ہو چکی ہے۔
نام نہاد تل ابیب کبریٰ میں پورے پورے محلے کھنڈر بن گئے ہیں، اونچی اونچی عمارتیں میزائل لگنے سے پوری کی پوری زمین بوس ہو گئی ہیں۔
السید الامام، السید الشہید علی الخامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا: "یہ جنگ علاقائی ہوگی اور پھیل جائے گی۔"
یقینا فتح کی آمد آمد ہے اور محور مقاومت اور اس امت میں تمام شریف انسان فاتح و کامیاب ہونگے۔
جس امت نے ٹرمپ اور اسرائیل سے "نہ" کہا اور مغرب سے ـ جو اس جنگ کی حمایت کرنا چاہتا ہے ـ نہ کہا، وہ کامیاب ہو کر رہے گی۔
تمہارے پاس سر تسلیم خم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، تم ہی وہ ہو جنہیں جھکنا اور ہتھیار ڈالنا چاہئے۔
تم نے اس جنگ کا آغاز اور تمہیں یقینا یقینا یقینا بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ