12 مارچ 2026 - 02:25
حصۂ اول | ہم نے اپنی نئی دفاعی صلاحیتوں کی رونمائی نہیں کی ہے، بریگیڈیئر جنرل فَدَوی

کمانڈر انچیف سپاہ پاسداران کے مشیر بریگیڈیئر جنرل فَدَوی نے کہا: ہمارے پاس مختلف النوع میزائل ہیں، جن کی رونمائی نہیں ہوئی ہے، ہمارے پاس ایسے تارپیڈوز اور آبدوز میزائل ہیں جن کی رفتار 100 میٹر فی سیکنڈ ہے، امریکہ 15 برسوں سے 20 ارب ڈالر لاگت سے بھی اس قسم کا تارپیڈو اور میزائل بنانے میں کامیاب نہیں ہو پایا ہے۔ ہم نے ابھی تک اس صلاحیت سے کام نہيں لیا ہے، ضرورت ہوگی تو اسے بروئے کار لائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کمانڈر انچیف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مشیر بریگیڈیئر جنرل فَدَوی نے کہا: 2026 میں حالات مختلف ہیں کیونکہ امریکہ 47 سال تک بالواسطہ جارحیتوں کے بعد پہلی بار براہ راست میدان جنگ میں آیا ہے۔

• شیطان بزرگ کی نئی جنگ کا مقصد انقلاب اسلامی کے رہبر و امام کو نشانہ بنانا اور حکومت کا خاتمہ تھا۔

• جو شخص میدان کے اگلے مورچوں میں لڑتا ہے اور نوجوانی ہی سے شہادت کی آرزو رکھتا ہے جب شہید ہوتا ہے تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس اقدام کا داغ ہمیشہ کے لئے دشمن کے ماتھے پر رہے گا۔

• انقلاب اسلامی کے تیسرے امام و رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی علمی اور انتظامی صلاحیتیں بے مثل ہیں، آپ حکمرانی ـ سیاست اور عسکری امور سے اقتصاد، سائنس اور ٹیکنالوجی ـ پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور انقلاب اسلامی کے عمل کو درست انداز سے آگے بڑھانے کے لئے بہت اہم اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔ اور ان کا انتخاب بہترین حالات میں انجام پایا جو مجلس خبرگان کی حکمت اور اللہ کی توفیق کا عملی ثبوت ہے۔

• انقلاب اسلامی اپنے پہلے مرحلے میں امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی قیادت میں کامیاب ہؤا، انقلاب اسلامی کا دوسرا مرحلہ امام خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کی قیادت میں جاری رہا۔ آج انقلاب اسلامی کے تیسرے مرحلے میں تیسر امام میدان میں آئے ہیں اور یہ مشن زیادہ تیزرفتاری اور زیادہ طاقت سے جاری رہے گا یہاں تک کہ یہ پرچم امام زمانہ (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

• معصوم (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق، مؤمن کے پاس سب کچھ ہے اور کافر کے پاس کچھ نہیں ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے جو مؤمنین کی جدوجہد ـ حتیٰ کہ بڑی طاقتوں کے سامنے ـ نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ آج عشروں کی خفیہ اور اعلانیہ جنگ کے بعد امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس 47 سالہ طویل جنگ سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے ہیں؛ اور یہ حقیقت وعدہ الٰہی کا مظہرِ اتمّ ہے کہ مؤمنین کی نصرت کی ضمانت دی جا چکی ہے۔

• آج ہمیں اپنے پرانے دشمن کا سامنا ہے، جو برسوں سے ہمارے خلاف لڑتا رہا ہے، دفاع مقدس کے دوران، 87 ممالک صدام کے حامی تھے، لیکن براہ راست دشمن بظاہر صدام تھی لیکن آج خود شیطان بزرگ امریکہ اس جنگ میں ہمارے آمنے سامنے ہے۔

• دشمن ہم سے ایک صدی قبل سائنس اور عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں اترا تھا اور اس کے پاس اچھی خاصی بری، بحری اور فضائی طاقت ہے لیکن اس ظاہری برتری کے باوجود یہ طاقت آج ایرانی قوم کے ایمان، بصیرت اور اللہ پر یقین و توکل کے سامنے عاجز اور بے بس ہے۔

• امریکہ کا یہ دعویٰ کہ ایران کی میزائل صلاحیت گھٹ چکی ہے، سفید جھوٹ ہے۔ وہ خود خوب جانتے ہیں کہ ہماری میزائل طاقت نہ صرف کم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی درستگی اور شدت و جدت میں زبردست اضافہ ہؤا ہے۔ آج ہمارے ذہین میزائل بہت بھاری وار ہیڈز کے ساتھ انتہائی درست نشانہ بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے دفاعی نظام کا خاتمہ کر چکے ہیں اور دشمن کے ٹھکانوں کو یکے بعد دیگرے تباہ کر رہے ہیں۔ ہمارے کمانڈروں نے اعلان کیا ہے ہلکے وارہیڈز کا دور گذر چکا اور ایک ٹن وزنی وارہیڈز سے کم وارہیڈز استعمال نہیں ہونگے۔ جو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ہماری دفاعی تزویر میں معیاری تبدیلی آئی ہے۔

• دشمن مسلسل ناکامیاں سہنے کے بعد اب جنگ بندی کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور اگر اپنے مشن میں کامیاب ہوتے تو جنگ بندی کی بات نہ کرتا۔ امریکہ جنگ کا خاتمہ کرنے کے درپے ہے، حالانکہ ہمارا انقلابی فریضہ ہے کہ اپنی دفاعی اور فوجی قوت میں اضافہ کریں اور یقینا ہم پسپا نہیں ہونگے۔

• ہمارے سینے پر یہ آیت کریمہ نصب ہے: "وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ" جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا مشن ہے کہ اپنی طاقت میں مسلسل اضافہ کریں۔ جرات کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم شب و روز اپنی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کا یہ مشن مسلسل جاری رہے گا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریرہ غیر متناسب جنگ کی حکمت عملی سے امریکہ کو شکست دے رہی ہے

• ہم غیرمتناسب جنگ کے ذریعے، کم از کم لاگت سے امریکہ کو شکست دیں گے۔

• میں سنہ 1984 سے سپاہ پاسداران کی بحریہ سے منسلک رہا، 1987-1988 امریکیوں کا سامنا کرنے والا سال تھا۔ ہم عراق کے خلاف کربلا - 5 کاروائی میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں 86 امریکی بحری جہاز جنگ میں مداخلت کے لئے خلیج فارس میں داخل ہوئے، لیکن اس بار یہ تقابل مختلف تھا، امریکہ کا کوئی جہاز خلیج فارس میں نہ آسکا اور جو تھے وہ بھی بھاگ گئے۔ ہم آیت کریمہ: "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ؛ (اور جنہوں نے ہماری راہ میں جدوجہد کی، انہیں ہم اپنی راہوں پر لگاتے ہیں اور یقینا اللہ اچھے کردار والوں کے ساتھ ہے)، کی روشنی میں میدان میں آئے اور امریکہ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

• پینٹاگون کے ایک اہلکار نے مئی 1987ع‍ میں (جبکہ سپاہ پاسداران کی بحریہ کا آپریشن مکمل ہؤا تھا) اس خطے میں امریکیوں کی شدید انفعالیت کی طرف اشارہ کیا تھا اور اعتراف کیا تھا کہ "خلیج فارس کی طرف بھیجے جانے والے امریکی بحری جہاز نہ صرف اپنا مشن انجام دینے سے عاجز ہیں بلکہ حتی کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ سے بھی بے بس ہیں۔"

• اس غیر متناسب جنگ کا نتیجہ یہ ہؤا کہ آج خلیج فارس میں ایک امریکی جہاز بھی موجود نہیں ہے، چہ جائے کہ وہ اطراف کے پانیوں میں تعینات ہو سکیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ایمان و تدبیر کی مدد سے دنیا کی بڑی طاقتوں پر غلبہ پایا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha