بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انٹریسٹنگ انجنئیرنگ نے چینی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ:
- چین کے فوجی محققین نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے گروپوں (نیوی گروپس) پر حملے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا ہے جو بڑے پیمانے پر، مربوط میزائل حملوں کے استعمال پر انحصار کرتے ہیں۔
- چینی فوجی محققین نے اس منصوبے کی بنیاد پر تجویز دی ہے کہ ایک یا زیادہ میزائلوں پر انحصار کرنے کے بجائے، بڑے پیمانے پر اور مربوط میزائل حملوں کو امریکی طیارہ بردار گروپوں کے دفاعی نظام کو لبریز کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس منظر نامے میں، میزائلوں کی ایک لہر طویل فاصلے سے بیک وقت اہداف پر فائر کی جاتی ہے تاکہ انٹرسیپٹنگ نظام کو تمام خطرات سے نمٹنے کا موقع نہ ملے۔
- تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہيں ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں کو چین کے ساحل سے مزید دور، بشمول گوام کے جزیرے کے علاقے میں تعینات کیا جائے تو وہ بیجنگ کے جارحانہ نظام کی پہنچ سے دور رہ سکیں۔
- گوام بحرالکاہل میں امریکہ کے اہم ترین اسٹریٹجک اڈوں میں سے ایک ہے اور مشرقی ایشیا میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
- یہ رپورٹ ایسے حالات میں شائع ہوئی ہے جب چین اور امریکہ حالیہ برسوں میں فوجی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی شعبوں میں وسیع مقابلے کی طرف بڑھتے آئے ہیں۔
- تائیوان کا مسئلہ، بحیرہ جنوبی چین اور خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی کو دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کا اہم ترین محور سمجھا جاتا ہے۔
- ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مطالعات کی اشاعت کا مطلب حقیقی آپریشن کی تیاری نہیں بلکہ یہ تزویراتی اور تسدیدی پیغامات دے رہی ہے۔
- بیجنگ یہ واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکی فوجی اثاثے خطرات سے محفوظ نہیں ہیں، خواہ وہ سرزمین چین سے کافی فاصلے پر ہی کیوں نہ ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ