بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی ناعاقبت اندیشانہ مہم جوئی کے آغاز سے چند ہی دن بعد کہا جا رہا ہے کہ اب تک 70000 امریکی فوجی اور غیر فوجی افراد اس خطے سے بھاگ چکے ہیں۔
عراق کے سیدالشہداء(ع) بریگیڈز کے سیکریٹری جنرل نے جنگ اور مقاومت کے حملوں کے خوف سے ہزاروں امریکیوں کے فرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مقاومتی تحریکوں نے قابض امریکیوں کے خلاف اپنی جنگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
عراق کی مقاومتی تحریکوں میں سے ایک، سیدالشہداء(ع) بریگیڈز کے سیکریٹری جنرل ابو آلاء الولائی نے جنگ اور مقاومت کے حملوں کے خوف سے ہزاروں امریکیوں کے فرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ لوگ انتہائی تلخ یادوں کے ساتھ اس خطے سے فرار ہو گئے ہیں اور یہ یادیں کبھی بھی ان کی جان نہیں چھوڑیں گے۔
انھوں نے کہا: عراقی مقاومت کے مجاہدین نے کل ہی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والا ایک امریکی طیارہ مار گرایا۔
امریکی سینٹکام نے اس طیارے کی تباہی اور عملے کے کم از کم 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
عراق میں مقاومت کی کاروائیوں میں شدت آنے کے بعد ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت اور کئی دوسروں کے اربیل میں زخمی ہونے کی خبریں بھی ہیں۔
اٹلی نے اعلان کیا کہ اس نے عراقی کردستان سے اپنے 100 فوجی نکال لئے ہیں۔
واضح رہے کہ عراقی کردستان میں 300 اطالوی فوجی تعینات ہیں۔
الولائی نے کہا: ہم سنہ 2003 سے قابض امریکی فوجیوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور بچ کر چلے جانے والے امریکی فوجیوں کو بھی ایسی تلخ یادیں ستا رہی ہیں۔
انھوں نے کہا: اس زمانے میں ان امریکی فوجیوں میں سے بہت کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا: گذشتہ عشروں میں مغربی ایشیا میں اجنبی فوجیوں کا داخلہ آسان تھا لیکن آج ان کا داخلہ بہت مشکل اور ان کا انخلاء دشمن کے لئے بہت مہنگا پڑتا ہے۔
اس عراقی کمانڈر نے اپنے بیان کے آخر میں امریکیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا: عراق کی اسلامی مقاومت جنگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر چکی ہے۔ یہ مرحلہ ایک نیا قدم ہے اور ہم تسدید (Deterrence) اور دباؤ کے نئے دور میں داخل ہوئے ہیں اور اس کے بعد، عراق کی سرزمین میں قابضوں کی موجودگی ہر دن پچھلے دن سے زیادہ مہنگی پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ