بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سابق امریکی وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے چیف "لیون پانیٹا" نے کہا:
- ٹرمپ کے ساتھ تین ہفتوں کے جنگ کے بعد، مخمصے میں الجھ گیا ہے اور دنیا کو کمزور پیغامات بھیج رہا ہے۔
- قومی سلامتی کے اہلکار ابتدا ہی سے بخوبی آگاہ تھے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرکے توانائی کا بحران پیدا کر سکتا ہے۔ اب بالکل وہی منظرنامہ عملی صورت اپنا رہا ہے، جس نے ٹرمپ کو 'نکلنے کی حکمت عملی کے بغیر، خوابوں کی دنیا میں چھوڑ رکھا ہے۔
- اس کو بڑے واقعات کی نوعیت کے بارے میں سادہ اندیشی سے کام لینے کا شوق ہے۔ یہ کہ وہ کوئی بات کہہ دے، اور مسلسل دہرا دے اور توقع رکھے کہ حقیقت کا جامہ پہنے گی، یہ بچوں کا کام ہے، نہ وہ کام جو ایک صدر کو انجام دینا چاہئے۔
- آج ہمیں ایران میں ایک پہلے سے زیادہ مضبوط، طاقتور نظام حکومت اور سابق رہبر معظم کے بجائے ایک جواں تر اور زیادہ بنیاد پرست رہبر معظم کا سامنا ہے۔ چنانچہ ایران کے رہبر معظم کے قتل کا نظریہ بھی درست ثابت نہیں ہؤا۔
- میناب کے پرائمری اسکول پر امریکی حملے کا سوال ہے تو اگر امریکہ میں کوئی اور صدر ہوتا تو وہ اس غلطی کو قبول کر لیا اور اس واقعے کے بارے میں معافی مانگتا۔ ٹرمپ یہ کام نہیں کرتا۔ یہ دنیا والوں کو امریکی ایک تصویر بھیجا ہے، جو اس بھونڈی تصویر کے عین مطابق ہے جو کبھی لوگ امریکہ کے بارے میں قائل تھے۔
- صورت حال بہت دشوار ہے لیکن ٹرمپ کے سوا کوئی بھی، اس عہدے کا ذمہ دار نہیں ہے جس پر اس وقت وہ خود قابض ہے۔
ادھر کوئنسی انسٹی ٹیوٹ نے اعلان کیا: مشرق وسطی سے نکلنے کا وقت آن پہنچا ہے، ٹرمپ کے پاس جنگ سے نکلنے کی فرصت ختم ہو رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ