14 جون 2026 - 00:00
ایران نہ شکست کھائی، نہ پسپا ہؤا، اور نہ ہی کمزور ہؤا، بلکہ اس نے شاندار فتوحات حاصل ڈاکٹر غریب آبادی

نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور نے آج رات 12 روزہ جنگ کے ایک سال گذرنے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران نے نہ شکست کھا‏ئی، نہ پسپا ہؤا، اور نہ ہی اس کا عزم کمزور ہوا، بلکہ اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف شاندار فتوحات حاصل کیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور ڈاکٹر کاظم غریب آبادی نے آج رات (ہفتہ) 13 جون و 12 روزہ جنگ کے آغاز کی پہلی سالانہ تقریب میں کہا: ایک سال پہلے، آج کی طرح کے دن کو علی الصبح، جب امریکی-صہیونی دشمن نے گمان کیا کہ وہ چند حملوں سے ایک قوم کا ارادہ توڑ سکتے ہیں۔

اس دن کچھ نام ہمیشہ کے لئے ایرانی تاریخ میں زندہ جاوید ہو گئے، جن میں یہ نام شامل ہیں: شہداء لیفٹیننٹ جنرل محمد حسین باقری، لیفٹیننٹ جنرل غلام علی رشید، لیفٹیننٹ جنرل حسین سلامی، لیفٹیننٹ جنرل علی شادمانی، لیفٹیننٹ جنرل سید عبدالرحیم موسوی، لیفٹیننٹ جنرل محمد پاکپور، میجر جنرل امیر علی حاجی زاده، سرلشکر غلام رضا محرابی، میجر جنرل مهدی ربانی، میجر جنرل محمد کاظمی، میجر جنرل علیرضا تنگسیری، میجر جنرل مجید خادمی، میجر جنرل عزیز نصیرزاده، میجر جنرل علی محمد نائینی اور سپاہ پاسداران اور فوج کے دیگر شہید افسران اور شہید وزراء اور سائنسدان جنہوں نے اپنی زندگی ایران کی ترقی کے لئے وقف کر دی، شہید ڈاکٹر طهرانچی، ڈاکٹر عباسی، ڈاکٹر ذوالفقاری، ڈاکٹر مینوچہر، ڈاکٹر فقہی، ڈاکٹر عسگری، ڈاکٹر برجی اور...

 انھوں نے مزید کہا: صہیونی ریاست جو اپنی بقا کے لئے ایک آزاد ملک کے کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل کی محتاج ہے، طاقت کو میدان میں نہیں، بلکہ بے بسی، جارحیت اور جرائم میں تلاش کرتی ہے۔

انھوں نے نشاندہی کی: ان کی شہادت ایران کی مظلومیت کی دستاویز اور اس قوم کے حقانیت کی علامت ہے جس نے طاقت، قتل اور جبر کے سامنے سر خم نہیں کیا۔

غریب آبادی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنے پیغام میں لکھا: ایک سال گذر گیا؛ ایران نے شکست نہیں کھائی، نہ پیچھے ہٹا، اور نہ ہی اس کا عزم و ارادہ کمزور ہؤا، بلکہ اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف شاندار فتوحات حاصل کیں۔

انھوں نے مزید کہا: شہداء کا خون، کمانڈروں اور سائنسدانوں کی قربانیاں، اور رہبرِ شہید اور ایران کی عزت و عظمت کے علمبردار کی حکیمانہ تدبیروں کا ثمرہ ایک ایسا ایران ہے جو ماضی سے زیادہ مضبوط، زیادہ باخبر اور زیادہ پرعزم ہے۔ ہمارے تمام شہداء کے نام، امامِ شہید سے لے کر فوجی اور سیکیورٹی کمانڈروں، عام لوگوں اور میناب کے طلباء تک، قوم کے دلوں میں زندہ ہیں؛ نہ صرف غم کی یاد کے طور پر، بلکہ ایران کی طاقت، آزادی اور مستقبل کے لئے ایک عہد کے طور پر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha