بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صہیونی آبادکار کی حالت نازک ہے، صہیونی آبادکار اپنے سرغنوں پر امن و امان اور سلامتی کے قیام میں ناکامی پر الزام لگا رہے ہیں جو نہ صرف ایرانی حملوں کے سامنے بالکل بے بس ہیں بلکہ حزب اللہ لبنان کے حملوں کے سامنے بھی مکمل طور پر عاجز ہیں۔
یہودی آبادکار کہتے ہیں کہ وہ آگ کے محاصرے میں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہودی عوام تباہی سے دوچار ہیں جبکہ اسموٹرچ سمیت صہیونی حکام ـ ان کے بقول ـ خیر خیریت سے خفیہ ٹھکانوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ گوکہ کچھ اطلاعات کے مطابق صہیونی حکام بھی چندان خیریت سے نہیں ہیں اور ان میں سے کئی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن کر فی النار ہو چکے ہیں۔
ایک آبادکار "اورنا پرتص" نے کہ ایک صہیونی نامہ نگار سے کہا ہے کہ "حالات بہت نازک ہیں، ہر لمحے یا ایران سے یا پھر لبنان سے میزائل آ رہے ہیں، ہر لمحے پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا پڑ رہا ہے پناہ گاہ سے نکلتے ہی دوبارہ سائرن بجنے لگتا ہے اور دوبارہ دبکنا پڑتا ہے، ہم شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔"
اس کا کہنا تھا: ہم سونا اور آرام کرنا بھول گئے ہیں، آنکھیں جھلس رہی ہیں، ہر دھماکہ ہماری زندگی چھین لیتا ہے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس پرامن کہلانے والی سرزمین میں حتی کہ میرے پوتے نواسے، اس صورت حال سے دوچار ہونگے۔"
صہیونی ذرائع کہتے ہیں کہ یہودی آبادکاروں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ کچھ عرصے کے لئے جنگ بندی قائم ہو تاکہ وہ مقبوضہ فلسطین سے بھاگ کر اپنے اجداد کے مسکن کی طرف واپس پلٹ جائیں۔
پرتص نے خونخوار یہودی وزیر ـ جس نے غزہ پر ایٹم بم گرانے کی تجویز دی تھی ـ سے مخاطب ہوکر کہا: "اسموٹرچ کے ہمارے یہاں آنا چاہئے، اس کو بھی دھماکوں کی آوازیں سننا چاہئیں؛ اس کو بھی دیکھنا چاہئے کہ ہم کس طرح جی رہے ہیں اس صورت حال میں۔ لیکن بہرحال وہ تو آئے گا نہیں اور ہم یہاں ہلاک ہو رہے ہيں۔ اقتصادی لحاظ سے بھی اور نفسیاتی لحاظ سے بھی صحت کے لحاظ سے بھی۔"
اس رپورٹ کے مطابق صہیونیوں کے کمزور طبقوں کی حالت کچھ زیادہ ہی افسوسناک ہے، زیادہ تر گھروں میں پناہ گاہیں نہیں ہیں۔
عنات داردری نامی یہودی آبادکار نے کہا کہ "حالات غیر معمول ہیں۔ جو لوگ یہاں نہیں ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ ہماری کیا صورت حال ہے۔ لگتا ہے کہ ہم میدان جنگ میں ہیں، دھماکے ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج کے طیاروں کی آوازیں، ایران اور لبنان سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے دھماکے، دن رات سائرن کی آوازیں، سننا، ایک منٹ بھی خاموشی نہیں ہے۔
داردری نے کہا: سائرن بجتا ہے تو بھاگنے کے لئے کافی وقت نہیں ملتا، سائرن بجتے ہی دھماکہ بھی ہوتا ہے۔ ہم بعض اوقات پہلے دھماکے کی آواز سنتے ہیں اور اس کے بعد سائرن کی آواز آنے لگتی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
راحیل لوی نامی آبادکار نے کہا: اگر پہلے فلسطین میں امن کی بحالی کی تھوڑی سے امید تک تو وہ بھی چلتی بنی ہے اور ہم مزید اپنے حکام کے جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ