اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کی سات بڑی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع نے واشنگٹن کو واضح کامیابی دینے کے بجائے بھاری اقتصادی، سیاسی اور عسکری نقصانات سے دوچار کیا۔
رپورٹ، جو لندن میں تعینات سینئر صحافی ایوانکا کاتاسوا نے تیار کی، کے مطابق اس جنگ کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
1. جنگی اہداف کے حصول میں ناکامی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیز اور فیصلہ کن فتح کا وعدہ کیا تھا، تاہم دو ماہ بعد بھی نہ جنگ مکمل طور پر ختم ہوئی اور نہ ہی کوئی واضح اسٹریٹجک کامیابی حاصل ہو سکی۔
2. عوام پر معاشی دباؤ
جنگی اخراجات نے عام امریکی شہریوں کو متاثر کیا۔ پٹرول، فضائی سفر اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ مہنگائی کی شرح بھی بڑھ گئی۔
3. سفارتی کمزوری اور اثر و رسوخ میں کمی
ماہرین کے مطابق امریکہ کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور جنگ کے دوبارہ آغاز کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
4. اندرونی مقبولیت میں کمی
سروے کے مطابق صدر کی مقبولیت کم ہو کر تقریباً 37 فیصد رہ گئی، جو عوامی عدم اطمینان کو ظاہر کرتی ہے۔
5. عالمی ساکھ کو نقصان
اس جنگ نے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو متاثر کیا، جبکہ چین نے خود کو امن کے حامی کے طور پر پیش کرنے کا موقع حاصل کیا۔
6. توانائی کے شعبے میں کمزوری
امریکی معیشت اب بھی تیل پر زیادہ انحصار کرتی ہے، خاص طور پر نقل و حمل کے شعبے میں، جبکہ متبادل توانائی پر سرمایہ کاری ناکافی رہی ہے۔
7. ایشیا میں عسکری پوزیشن کمزور
مشرق وسطیٰ میں مصروفیت کے باعث امریکہ کو اپنی فوجی طاقت کا ایک حصہ ایشیا سے منتقل کرنا پڑا، جس سے چین کے مقابلے میں اس کی دفاعی پوزیشن متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ نہ صرف متوقع نتائج دینے میں ناکام رہی بلکہ اس نے امریکہ کو کئی محاذوں پر کمزور بھی کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ