بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اب جبکہ 40 دن کی جنگ کے بعد جنگ بندی ہو گئی ہے، جنگ کے میدان کی دھول وقتی طور پر بیٹھ گئی ہے، تو میدانِ جنگ میں خاموشی کے باعث آہستگی سے تیسری جارحانہ جنگ کے علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر پڑنے والے نتائج عیاں ہو رہے ہیں:
1- امریکی-صہیونی دشمن کی اسٹریٹجک شکست
دشمن کا ان اہداف میں سے کسی ایک کو بھی حاصل نہ کر پانا ـ جن کا اس نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اعلان کیا تھا، نظام کی تبدیلی سے لے کر ملکی تقسیم تک، ـ دشمن کی اسٹریٹجک شکست کو عیاں کرتا ہے۔ حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شہادت سے اسلامی ایران میں حکمرانی کا ڈھانچہ بکھر جائے گا اور یہ ان کی جارحیت کا اعلان کردہ مقصد تھا۔
2- نیتن یاہو اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ
نیتن یاہو کے ان منصوبوں کی ناکامی ـ جن میں اس نے 2 سے 3 دن میں ایران کے خاتمے کی پیش گوئی کی تھی، ـ کی وجہ سے ڈیموکریٹ پارٹی اور یہاں تک کہ کچھ ریپبلکن حکام کی تنقید عملی طور پر وائٹ ہاؤس کی طرف پلٹ کر آئی۔
3- علاقائی اور بین الاقوامی اداکاروں کا کردار
موٹے دماغ کے حامل اور انتہائی دیر سے حقائق کا ادراک کرنے والے علاقائی عرب حکمران ناسمجھی کے باوجود، اس جنگ کے دوران، کسی حد تک سمجھ گئے [ہونگے] کہ اپنی سلامتی کے لئے امریکہ پر انحصار محض ایک سراب ہے۔ ملک کے شمال مغرب اور جنوب مشرق کے دہشت گرد ٹولوں کے لئے بھی ثابت ہؤا کہ وہ اپنی دہشت گردانہ کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرکے، اپنی کمزور کارکردگی کو اونچی قیمت پر نہیں بیچ سکتے۔ یورپی یونین، جو امریکہ کا روایتی اتحادی ہے، نے بھی اس عرصے میں وائٹ ہاؤس کے فیصلوں کی اعلانیہ پیروی کرنے سے گریز کیا۔
4- نیٹو کی یقینی کو لاحق وجودی خطرہ
نیٹو تنظیم لازمی طور پر باضابطہ علیحدگی سے نہیں، بلکہ "اعتماد کی فرسودگی" اور "اندر سے خالی ہونے" کے ذریعے ٹرمپ کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے جس کا بنیادی محرک مغربی ایشیا میں ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی کے ساتھ یورپ کا تعاون کرنے سے انکار ہے، گوکہ برطانیہ نے ظاہری دعوؤں کے برعکس، اپنے اڈے امریکیوں کےحوالے کرکے اس جارحیت میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔
5- وائٹ ہاؤس کے فیصلہ سازی میں اختلاف
تقریباً 10 اعلیٰ امریکی جرنیلوں کی برطرفی اور وزیر جنگ ہیگستھ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اختلافات کے باہمی اختلافات کا منظر عام پر آنا بھی، اس اختلاف کی علامت بن گیا ہے۔ ٹرمپ کی الجھن اور اپنے ہی دائیں بائیں ہاتھوں اور اہم حامیوں پر طعن و تشنیع بھی اسی تناظر میں تجزیہ طلب ہے۔
6- امریکی فوجی طاقت کی فرسودگی
رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ کے اسٹریٹجک ہتھیار جیسے تھاڈ اور ٹوماہاک میزائل بالترتیب 50 فیصد اور 30 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ علاقائی ممالک میں موجود دفاعی نظاموں کی تباہی اور اسٹریٹجک لڑاکا طیاروں کی تباہی نے بھی امریکہ کی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔
7- امریکہ کی تسدیدی (ڈیٹرنس) طلسم کی شکست
دوسری جنگ عظیم کے بعد ـ خصوصاً سرد جنگ کے دور کے بعد ۃ امریکہ ایک 80 سالہ اسٹریٹجک ڈیٹرنس تک پہنچ گیا تھا یہاں تک کہ کوئی بھی فوج اس کے خلاف لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ایران نے اس جنگ میں پہلی بار نہ صرف امریکی فوج کے ڈیٹرنس کے طلسم کو توڑا بلکہ اس کے اسٹریٹجک اثاثوں کو بھی بلا تامل نشانہ بنایا اور خطے میں اس کے 17 بڑے فوجی اڈوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اسرائیل کو بھی عظیم نقصانات سے دوچار کیا جو شدید سنسرشپ کی وجہ سے فی الحال درپردہ ہے۔
8- ایران کی برداشت کی صلاحیت میں اضافہ
اس جنگ کے دوران ایران کی فوجی طاقت میزائل، ڈرون اور بحری صلاحیتوں نے دوست اور دشمن دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ شہید امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی پیشگوئی کے مطابق، عوام کی بعثت (اٹھ کھڑا ہونا) اور معاشرے کی برداشت جو پچھلے دو ماہ کے دوران سڑکوں پر اتحاد کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے، ایک ایسا معاملہ ہے جو نہ صرف دشمن کے حسابات میں شامل نہیں تھا، بلکہ اس نے اختلاف پیدا کرنے اور اندر سے خاتمے کی شیاطین کی حکمت عملی کو بھی ناکام بنا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈآکٹر حسن عابدینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ