بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی || ٹرمپ نے بہت عجیب الفاظ میں ایرانیوں کی توہین کی ہے اور کہا ہے: "ایران روئے زمین کے سب سے زیادہ شرپسند لوگ ہیں۔ وہ نوزائیدہ بچوں کے سر قلم کرتے ہیں اور عورتوں کے جسموں کو کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیتے ہیں۔" گوکہ یہ الفاظ اس نے ایران کےجزیرہ قشم میں پانی صاف کرنے والے نظام پر بمباری کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے بھاگنے کے لئے ادا کئے لیکن اس کی ہرزہ سرائیوں کے اس حجم کا سبب اس سے کہیں گہرا، لگتا ہے۔

حالیہ ایام میں امریکی مفادات پر ایران کی کاری ضربوں کے بعد، ٹرمپ کی کوئی بات کسی جانی پہچانی منطق کی پیروی نہیں کرتیں۔ اس نے ایک مرتبہ ایرانی افواج سے کہا کہ وہ ہتھیار ڈالیں!! اور اس کے بعد زیادہ سے زیادہ ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد بولا کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے!!
گویا سمجھ گیا ہے کہ حالات اچھے نہیں ہیں
سی آئی کے سابق ڈائریکٹر جان برینن (John John Brenon) نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے انتہائی تلخ موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمجھ گئے ہیں کہ میدان جنگ بہت آشفتہ حال اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔ وہ جس قدر محسوس کرتا ہے کہ اس کی توقعات صحیح طریقے سے آگے نہیں بڑھ رہی ہیں تو اس کا لہجہ اتنا ہی تند ہو جاتا ہے اور زیادہ شدت سے نمائشی الفاظ زبان پر لاتا ہے۔"
کہا جاتا ہے کہ برینن نے یہ موقف، ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے بارے میں ٹرمپ کے موقف کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی ـ میدان کی صورت حال ایرانی افواج کے ہاتھوں امریکی مفادات کی تباہی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایرانی افواج سے کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالیں۔
جان برینن در حقیقت سمجھتا ہے کہ "جب حالات کا کنٹرول ٹرمپ کو ہاتھ سے نکلتا ہے، وہ زیادہ دھمکیاں دینے لگتا ہے۔" اور جو حقیقت ہم ان دنوں خطے میں دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سلطنت کی ہیبت ریزہ ریزہ ہو گئی ہے اور اس سلطنت کی بری طرح تذلیل ہوئی ہے۔
مسٹر پریزیڈنٹ شکست سے جان چھڑانے کے لئے تگ و دو کر رہا ہے
الجزیرہ نے حال ہی میں، میدان جنگ کے حقائق اور ایرانیوں کی مزاحمت کے مقابلے میں ٹرمپ کی تذلیل کے بارے میں لکھا ہے: "امریکی صدر ـ اپنی توقعات کے برعکس ـ تیزرفتار کامیابی حاصل نہ کر سکا، اور اب ایران کے ساتھ اپنی کامیابی کے اعلان کے لئے کوئی سبیل نکالنے کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔"
ٹرمپ اور اس کے مالک نیتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ جنگ تین دن کے مختصر عرصے میں ختم ہوگی لیکن جنگ طویل ہو گئی اور اسرائیلی ریاست کو زبردست تھپڑ رسید ہونے اور دوسری طرف خطے میں عشروں کے دوران اربوں ڈالر کی لاگت سے بننے والے امریکی اڈوں کی وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہوئے، پوری دنیا میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ہیبت ریزہ ریزہ ہو گئی اور سب سے زیادہ اہم اور دردناک ـ ممکنہ ـ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے فورا بعد امریکی سلطنت شکست و ریخت کا شکار ہو سکتی ہے اور یہ تمام وہ حقائق ہیں جو ٹرمپ اور اس کے نادان مشیروں کو شدت سے ستا رہے ہیں۔
اسی حوالے سے مڈل ایسٹ آئی نے اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا کہ "ایران کے ساتھ جنگ امریکی سلطنت کے حتمی زوال کی رفتار تیز تر کر سکتی ہے۔
مڈل ایسٹ آئی نے مزید لکھا: "ایران کے خلاف شروع کردہ امریکی جنگ، واشنگٹن کی خطرناک ترین مہم جوئی کے طور پر ابھر سکتی ہے، اور یہ کسی بھی بڑی طاقت کا حتمی انجام ہے جو اپنی حدود سے گذر جاتی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضا محمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ