بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
اٹلانٹک نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ حساس مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور واشگٹن میں ہونے والی خفیہ میٹنگوں سے خبر آئی ہے کہ کہ نائب صدر جے ڈی وینس جنگ اور امریکی ہتھیاروں کی صورت حال کے بارے میں وزارت جنگ (پینٹاگون) کی رپورٹوں کو بہت زیادہ مشکوک سمجھتا ہے۔
وینس کہتا ہے کہ پینٹاگون نے امریکی میزائل کے ذخائر کے خالی ہونے کے بارے میں حقائق کو ٹرمپ سے چھپایا ہے۔
وینس اور اس جیسے دوسرے امریکی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے اسلحے کے ذخائر خالی ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر چین تائیوان پر، شمالی کوریا جنوبی کوریا پر یا روس یورپ پر حملہ کرے دفاعی اقدامات ناممکن ہو سکتے ہیں۔
کابینہ میں اختلافات، حقیقت یا ٹی وی تشہیر؟!
اٹلانٹک لکھتا ہے: گوکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین (Dan Caine) خوش فہمی سے دوچار ہیں اور ایران کی فوجی طاقت وسیع پیمانے پر تباہ کی گئی ہے اور امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخائر نامحدود ہیں، وینس نے بلاواسطہ طور پر ان معلومات کو مشکوک قرار دیا ہے اور اس کے کچھ معاونین کے خیال میں ہیگستھ کی فراہم کردہ معلومات گمراہ کن ہیں۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق امریکی اہلکار نے کہا ہے: "ہیگستھ کسی وقت ٹی وی میزبان تھا اور اس کا ٹی وی تجربہ باعث بنا ہے کہ "وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ٹرمپ کیا سننا پسند کرتا ہے، اور وہ بھی حقائق کے بجائے وہی کہتا ہے جو ٹرمپ پسند کرتا ہے۔"
ادھر امریکی ذرائع نے اپنے بقول خفیہ اداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی دو تہائی فضائیہ محفوظ ہے اور جنگ کے دوران بھی ایرانی فضائیہ نے امریکی اثاثوں پر انتہائی کامیاب حملے کئے ہیں۔ تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت بھی برقرار ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے دعویٰ تھا کہ اس نے ایران کی بحریہ کو تباہ کر دیا ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی بحریہ آج تک بدستور کاروائیاں کر رہی ہے۔ ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران کی بحری قوتیں، جہازوں کو روک رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں ان سے ٹول ٹیکس لے رہی ہے، جو ٹرمپ کے ایرانی بحریہ کے خاتمے کے دعوے سے متصادم ہے۔ اور ایران کی زمین اور فضا پر امریکی کنٹرول زمینی حقیقت کے بجائے محض ایک سفارتی خواب ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کے اسلحے کے ذخائر نصف ہو چکے ہیں اور وہ مزید اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنے سے عاجز ہے۔
دو ریٹائرڈ فوجیوں "وینس اور ہیگستھ" کے مابین تضادات
اٹلانٹک لکھتا ہے کہ اگرچہ وینس اور ہیگستھ دونوں جزوی افسران کے طور پر عراق میں حاضر رہے ہیں لیکن ان دونوں کے سیکھے ہوئے اسباق مختلف ہیں: ہیگستھ جنگ کا ڈھول پیٹتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے جنگ کے پہلے 5 دنوں میں عراق کے خلاف جنگ سے دو گناہ زیادہ گولہ بارود گرایا ہے جبکہ وینس مستقل اور دائمی جنگوں کے خاف ہے اور کہتا ہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں دھوکہ کھایا ہے۔
پینٹاگون میں طاقت کی رسہ کشی
اٹلانٹک کے مطابق، کشیدگی ٹرمپ حکومت کی دوسری تہہوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ ڈین ڈرسکول (Daniel P. Driscoll) فوج کا وزیر اور وینس کا قریبی دوست ہے اور ہیگستھ کا مخالف ہے۔ ہیگستھ نے کئی امریکی جرنیلوں کو برطرف کیا ہے جو ڈین ڈرسکول کے قریبی رفقائے کار تھے۔
وینس نے (وزیر جنگ کے بجائے) فوج کے وزیر ڈرسکول کو امن مذاکرات کے لئے کیئف بھی دیا جس سے ٹرمپ کابینہ کے ان دو سینئر ارکان کے درمیان جھگڑا مزید عیاں ہؤا۔
جنگ بندی میں توسیع اور غیر یقینی کامیابی
اٹلانٹک نے لکھا ہے: ہیگستھ کے حتمی اور تیزرفتار فتح کا وعدے کے برعکس، جنگ اب ایک "پیچیدہ اور مہنگی الجھن" کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے اسلام آباد جانے کی تیاری کی تھی کیونکہ [مبینہ طور پر] اس خاص موقع پر ایران مذاکرات کے لئے تیار ہے، لیکن ٹرمپ نے اس کا دورہ منسوخ کیا اور غیر معینہ مدت تک جنگ بندی میں توسیع کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ