2 مئی 2026 - 15:48
ایران جنگ ٹرمپ کے اتحاد کو توڑ رہی ہے/ ضروری نہیں کہ MAGA  کا مطلب 'America First' ہی ہو

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے متعلق تازہ ترین پیش رفتوں اور اس کے نتائج کے سلسلے میں، فارن پالیسی کے تجزیاتی رپورٹ کا خلاصہ جس میں ٹرمپ کے ٹرمپ کے اتحاد میں دراڑ کے بارے میں بتایا گیا ہے:

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے ساتھ جنگ کے فیصلے نے، محض ایک سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ ٹرمپ کے 2024 کے اتحاد کی تعمیر میں ایک اندرونی شگاف پیدا کر دیا ہے۔ یہ شگاف "MAGA Republicans" اور "America First" کے حقیقی علمبرداروں کے درمیان تفریق کی صورت میں ابھر آیا ہے۔

Hard MAGA Base سے (تقریباً 90 فیصد حمایت کے ساتھ) ظاہر ہوتا ہے کہ "ذاتی طور پر ٹرمپ" اس حصے کے لئے یکجہتی کا مرکز بنا ہؤا ہے، چاہے جنگ ان لوگوں کی "اولین ترجیح" نہ بھی ہو۔

لیکن America First کے نظریئے سے  یہ وفاداری، بطور خارجہ پالیسی کے ایک 'نظریئے کی پابندی' کے مترادف نہیں ہے۔ بلکہ یہ زیادہ "یک شخص پر مرکوز" ہم آہنگی ہے۔

تصوراتی انحراف (conceptual dissociation) کا نقطہ: MAGA ≠ America First

جنگ کے نقاد (دائیں بازو کے اندر سے) خود کو America First کے تحت قرار دیتے ہیں اور جنگ کو، قومی مفادات کی اپنی تشریح، سے متصادم سمجھتے ہیں۔

یہ شگاف ایک علمی (معرفت شناسانہ) انحراف کے طور پر ظاہر ہوتا ہے:

ماگا اسپیکٹرم MAGA Spectrum ← راہنما سے وفاداری

امریکہ فرسٹ اسپیکٹرم ← عدم مداخلت اور داخلی ترجیحات کی بنیاد پر پالیسی کی جانچ

"وسیع تر اتحاد" کا بکھر جانا:

ٹرمپ کا انتخابی اتحاد صرف MAGA نہیں تھا۔ بلکہ اس میں یہ لوگ بھی شامل تھے:

• جامعات میں تعلیم نہ حاصل کرنے والے ووٹرز

• نوجوان ریپبلکنز

• متبادل میڈیا کے نوجوان ووٹرز (جیسے  Joe Rogan اور Theo Von کے سامعین و ناظرین)

• متزلزل دایاں بازو

یہی وہ طبقے ہیں جنہوں نے جنگ کو "ٹوٹا ہوا وعدہ" قرار دیا ہے اور ٹرمپ کے لئے ان کی حمایت کی سطح تقریباً ایک چوتھائی تک گر چکی ہے۔

عوامی رائے کی حرکیات:

• تقریباً دو تہائی امریکی جنگ کے خلاف ہیں

• غالب تشویش: معاشی اثرات / ایندھن کی قیمتیں

• صرف ریپبلکنز کی طرف مائل ایک تہائی جنگ کے حامی ہیں

← اس کا مطلب ہے کہ یہ دراڑ نہ صرف پارٹی کے اندر ہے، بلکہ اتحاد اور معاشرے کے درمیان تعلق میں بھی ابھر آئی ہے۔

ٹرمپ اداراتی طور پر آخری دور کا (lame-duck) صدر ہے اور اس کے نتیجے میں وہ مؤثر پابندیوں سے عاری ہیں، لیکن سیاسی طور پر وہ اپنے اتحاد میں کٹاؤ کا شکار ہے۔

یہ کٹاؤ، خاص طور پر "کم وفادار" طبقوں میں، وعدوں کے ڈھانچے (2024 کے انتخابات) کے ساتھ جنگ کی عدم مطابقت کا براہ راست نتیجہ ہے۔

مستقبل کے افق پر: یہ دراڑ ریپبلکن ٹرمپی اتحاد کی ـ اس کے جانشینوں کے لئے ـ عدم منتقلی کا باعث ہے۔ ممکن ہے کہ ٹرمپ کے تمام تر اقدامات برسوں تک ریپبلکنز کے لئے وبال جان بنے رہیں گے اور انہیں برسوں تک ٹرمپی کرتوتوں کی وضاحت کرنا پڑے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فرورہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha