بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عرب دنیا کے نامور تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور محور مقاومت نے امریکہ کے لئے عَرْصَۂ حَیات تَنگ کر دیا ہے اور مغربی ایشیا سے امریکی فوجیوں کا فرار اس وقت شروع ہو چکا ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
خطرے کی گھنٹی جو بائیڈن کے مشیر نے بجائی
عطوان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں امریکہ کے بیشتر اڈے، بالخصوص خلیج فارس میں، امریکی دفاعی نظاموں کی ناکامی کی وجہ سے ایرانی حملہ آور میزائلوں اور ڈرونِز کے حملوں میں مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے حالیہ دور میں اردن میں امریکی فضائی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے بڑھ گئے ہیں تاکہ اردن میں امریکی اڈے خلیج فارس میں امریکی اڈوں کا متبادل نہ بن سکیں۔
عطوان کے مطابق، جو بائیڈن انتظامیہ کے مشیر "مائیکل فوکس" (Michael Fuchs) پہلا شخص تھا جس نے خطرے کی گھنٹی بجائی۔
فوکس نے نے "فارن افیئرز" میگزین میں ایک نوٹ شائع کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے خلاف جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمت عملی کی شکست کو آشکار کر دیا اور اس حقیقت کو نمایاں کر دیا کہ امریکی فوجی موجودگی اب سلامتی اور استحکام کی ضمانت نہیں دیتی، بلکہ بحرانوں کو گہرا کرنے کا سبب بنی ہے۔ لہٰذا اس موجودگی کے مکمل خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔"
بائیڈن کے مشیر نے مزید لکھا: «ایران میں جنگ امریکہ کے لئے ایک معاشی المیہ ہے۔ 11 ستمبر 2001 کو نیویارک پر القاعدہ تنظیم کے حملے کے بعد افغانستان اور عراق میں ـ یعنی مشرق وسطیٰ کی جنگوں نے ـ امریکی خزانے پر 8 ٹریلین ڈالر کا بوجھ ڈالا، تین ملین امریکی فوجی اور ٹھیکیدار ان جنگوں میں شریک ہوئے، 15 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے اور 1.8 ملین فوجی اور ریٹائرڈ مختلف معذوریوں سے دوچار ہوئے۔"
امریکہ فرانس اور برطانیہ کی سلطنتوں کے راستے پر چل گامزن ہے
عطوان نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ امریکہ شکست کھا چکا ہے اور مشرق وسطیٰ کے علاقے سے فرار کے لئے اپنے سوٹ کیس باندھنا شروع کر چکا ہے؛ اس کا سبب ٹرمپ کی حماقت، نیز یہ اہم مسئلہ کہ اسرائیلی ریاست ـ بالخصوص اس ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ـ کے احکامات کے سامنے ٹرمپ کا ہتھیار ڈالنا ہے۔ امریکہ بالکل اسی راستے پر گامزن ہے جس پر برطانیہ اور فرانس کی سلطنتیں گامزن رہیں اور چلتے چلتے تاریخ کے صفحات میں ناپید ہو گئیں۔ امریکیوں کے اس فرار کی علامات عراقی کردستان اور اس سے قبل شام سے شروع ہوئیں، اور اگلا اور قریب الوقوع قدم عراق اور خلیج فارس کے علاقے سے فرار ہے۔
امریکی افواج کو مار بھگانے اور علاقے میں ان کے اڈوں کی تباہی کا اعزاز ایران اور محور مقاومت اور ان کے اتحادیوں کو حاصل ہے۔ ایرانیوں اور محور مقاومت کے دیگر مجاہدین نے استقامت اور شہادت تک جنگ جاری رکھنے کے نظریئے کی پیروی کی، اور ہتھیار، ماورائے صورت (Supersonic) بیلستک میزائل اور ریننگ وار ہیڈز (Raining warheads) کی تیاری میں خود کفالت حاصل کی اور اسے مہنگے لڑاکا طیاروں کا متبادل بنا دیا۔

انھوں نے آخر میں کہا ہے: امریکہ کا عظیم فرار (The Grear Escape) علاقے سے شروع ہو چکا ہے، ٹرمپ نے وہمیات (جنہیں راقم 'ٹرمپیات' کا عنوان دیتا ہے) سے دستبردار ہو چکا ہے اور اس کی [سیاسی] حیات کا خاتمہ بہت قریب ہے۔ اسرائیل کئی محاذوں میں الجھا ہؤا ہے جس سے وہ ذلت آمیز شکست کا متحمل ہوئے بغیر نہیں نکل سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ