19 اکتوبر 2026 - 17:58
حضرت زینب سلام اللہ علیہا فضائل و کمالات کے ائینہ میں

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی ممتاز ترین خواتین میں سے ایک اور صبر، شجاعت، ایثار اور علم کا بے مثال نمونہ ہیں۔ آپ نہ صرف ایک مؤمنہ اور شجاع خاتون کی حیثیت سے معروف ہیں بلکہ اپ نے ایک مفسرِ قرآن، معلمہ اور صاحبِ خطابت شخصیت کے طور پر بھی اسلامی اقدار کی حفاظت میں بے نظیر کردار ادا کیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا||
تحریر: سید اشھد حسین نقوی 
حضرت زینب سلام اللہ علیہا، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی، تاریخِ اسلام کی عظیم اور ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں۔ آپ عفت، عبادت، صبر، صداقت، شجاعت اور دیگر بلند انسانی و اخلاقی صفات سے آراستہ تھیں۔ اپنے اعلیٰ فضائل و مناقب کی بدولت آپ نے تاریخِ اسلام میں ظالموں اور ستمگروں کے خلاف جدوجہد کرنے والی خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ایک منفرد اور بلند مرتبہ نمونۂ عمل کی حیثیت حاصل کی۔ اس مضمون میں ہم نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی اخلاقی و الٰہی عظمت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کوشش کی ہے تاکہ اس عظیم خاتونِ اسلام کی شخصیت سے مزید اگاہی و واقفیت حاصل ہوسکے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا تعارف

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی ممتاز ترین خواتین میں سے ایک اور صبر، شجاعت، ایثار اور علم کا بے مثال نمونہ ہیں۔ آپ نہ صرف ایک مؤمنہ اور شجاع خاتون کی حیثیت سے معروف ہیں بلکہ اپ نے ایک مفسرِ قرآن، معلمہ اور صاحبِ خطابت شخصیت کے طور پر بھی اسلامی اقدار کی حفاظت میں بے نظیر کردار ادا کیا۔

آپ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تیسری اولاد اور پہلی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی ولادت پانچ یا چھ ہجری قمری، ۵ جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا اسمِ مبارک ’’زینب‘‘ یعنی باپ کی زینت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منتخب فرمایا کیونکہ جناب جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ پروردگار کی جانب سے رسولِ گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس نام اگاہ گیا تھا۔(۱)

متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ جناب زینب(س) کی ولادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی نومولود بچی کو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے پاس لے کر آئیں اور آپ سے درخواست کی کہ اس بچی کا کوئی نام تجویز فرمائیں۔ امام علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ’’میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبقت نہیں لے سکتا۔‘‘ اس وقت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تھے، انحضرت(ص) سفر سے واپسی کے بعد جب حضرت فاطمہ زہراء(ع) کے گھر تشریف لائے اور حضرت(ع) نے اپ سے نام رکھنے کی درخواست کی تو مرسل اعظم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’میں بھی اپنے پروردگار سے سبقت نہیں لے سکتا۔‘‘ اسی دوران امینِ وحی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے، اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچایا اور عرض کیا: ’’اے رسولِ خدا! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نومولود بچی کا نام زینب رکھ دیجئے۔‘‘ (۲)

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے القاب

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام میں ایک بلند مرتبہ اور بے مثال شخصیت کی حامل ہیں۔ اسی وجہ سے منابع و مآخذ میں آپ کی نمایاں خصوصیات کو بیان کرنے کے لیے متعدد القاب ذکر کئے گئے ہیں۔ یہ القاب آپ کی روحانی اور معنوی عظمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں سے چند اہم القاب یہ ہیں:

- عقیلۂ بنی ہاشم

- عارفہ

- موثقہ

- نائبۃ الزہرا

- عقیلۃ النساء

- امینۃ اللہ

- عابدۂ آلِ علی

- عالمۂ غیر معلّمہ

- فاضلہ

- کاملہ

مزید دیگر القاب بھی آپ کے لیے نقل کئے گئے ہیں۔(۳)

آپ کا ایک مشہور لقب ’’ام المصائب‘‘ ہے کیونکہ آپ نے اپنی زندگی میں بے شمار مصائب و آلام برداشت کئے اور صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ان مصائب میں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت، والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت، والد بزرگوار امام علی علیہ السلام کی شہادت، بھائی امام حسن علیہ السلام کی شہادت، واقعۂ کربلا اور بالآخر کوفہ و شام میں اسیری شامل ہیں۔

رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت، والدہ کی بیماری اور شہادت، والد گرامی امام علی علیہ السلام کی شہادت، امام حسن علیہ السلام کی شہادت، کربلا کا دردناک واقعہ اور کوفہ و شام کی اسیری، ان تمام مراحل میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے مصائب کے بھاری بوجھ کو برداشت کیا۔(۴)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیات اور خاندان

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی سترہ ہجری قمری میں اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر سے ہوئی۔ عبداللہ بن جعفر تاریخِ اسلام کی ممتاز اور محترم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ خاندانِ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی کرم نوازی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ ان دونوں عظیم شخصیات کا ازدواجی رشتہ، اخلاص، دینداری اور ایثار و فداکاری پر مبنی تھا۔ تاریخِ اسلام کے معتبر مآخذ میں اس شادی کا ذکر موجود ہے۔(۵)

اس مبارک ازدواجی زندگی کا ثمرہ پانچ اولادیں تھیں؛ چار بیٹے، جن کے نام علی، عون، محمد اور عباس تھے، اور ایک بیٹی، جن کا نام ام کلثوم تھا۔ (۶) حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے عون اور محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ یہ قربانی اس عظیم خاتون کے اخلاص، تسلیم و رضا اور راہِ حق میں ایثار و فداکاری کی بلند ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایسی عظیم شخصیت ہیں جن کی انفرادی، اجتماعی اور دینی زندگی کے مختلف پہلو مسلمانوں کے لیے بے مثال نمونۂ عمل ہیں۔ اپنے عظیم والدین کی اعلیٰ تربیت کے زیرِ سایہ آپ نے ایمان، علم، تقویٰ اور شجاعت کے بلند ترین مراتب حاصل کئے۔ مصائب کے مقابلے میں صبر و استقامت، ولایت کے حریم کا دفاع اور حق کی حفاظت آپ کی درخشاں خصوصیات میں سے چند ہیں۔ آپ کی زندگی اور سیرت نہ صرف تاریخِ اسلام بلکہ پوری تاریخِ بشریت میں ثابت قدمی، فداکاری اور صبر کی روشن مثال کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اخلاقی فضائل

حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسلام کی ممتاز ترین خواتین میں سے ہیں اور تقویٰ، شجاعت، صبر اور علم کا نمونہ ہیں۔ آپ کی بلند شخصیت کے تمام انسانی اور الٰہی پہلو نمایاں ہیں اور آپ نے تاریخِ اسلام میں ایک بے مثال کردار ادا کیا۔ آپ کے اخلاقی فضائل صرف انفرادی زندگی تک محدود نہیں تھے بلکہ آپ کے معاشرتی رویّے اور عظیم ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بھی نمایاں طور پر ظاہر ہوتے تھے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی اہم اخلاقی خصوصیات میں پختہ ایمان، زہد، بردباری، فداکاری، شجاعت اور علم شامل ہیں۔ ان فضائل میں سے ایک نمایاں ترین فضیلت آپ کی عبادت اور شب بیداری ہے، جو آپ کے بلند روحانی مقام کی عکاسی کرتی ہے۔

عبادت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا خالص بندگی اور عبادت میں اخلاص کا نمونہ تھیں۔ آپ نے بچپن ہی سے بندگی اور تقوے کے ماحول میں تربیت پائی اور شب بیداری و تہجد آپ کی روحانی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔ یہاں تک کہ نقل کیا گیا ہے:

’’حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا راتوں کو عبادت میں مشغول رہتی تھیں، اپ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی تہجد ترک نہیں کیا۔ عبادت میں مسلسل مشغولیت ہی کے باعث، آپ کو ’عابدۂ آلِ علی‘ کا لقب دیا گیا۔‘‘ (۷) یہ لقب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نفس کی تربیت، روحانی مجاہدہ اور بارگاہِ الٰہی میں قرب حاصل کرنے کے لیے کتنی محنت کی۔

آپ کی بندگی اور خداوندِ متعال سے معنوی وابستگی کا عروج واقعۂ عاشورا اور اس کے بعد کے حالات میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ اس زمانے میں بے شمار رنج و مصائب برداشت کرنے کے باوجود آپ ایک لمحے کے لیے بھی عبادت اور مناجاتِ پروردگار سے غافل نہ ہوئیں۔ جسمانی کمزوری کی انتہا کے باوجود بھی آپ واجب اور مستحب نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتی رہیں۔

چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام نے آپ کی عبادت کے بارے میں فرمایا: ’’میری پھوپھی زینب(س) اپنی تمام واجب اور مستحب نمازیں کوفہ سے شام کے سفر کے دوران ادا کرتی تھیں۔ بعض منزلوں پر دن رات کی شدید بھوک اور کمزوری کے باعث آپ بیٹھ کر نماز پڑھتی تھیں کیونکہ آپ اپنے حصے کا کھانا بچوں میں تقسیم کردیتی تھیں۔ اس قوم کی جانب سے ہم میں سے ہر ایک کو دن رات میں صرف ایک روٹی دی جاتی تھی۔‘‘ (۸)

امام حسین علیہ السلام کی اپنی بہن سے آخری وداع کے موقع پر بھی آپ کی عبادت کی عظمت نمایاں ہوتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ’’میری بہن! مجھے اپنی نمازِ شب میں فراموش نہ کرنا۔(۹) یہ وصیت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی روحانی عظمت اور بارگاہِ پروردگار میں آپ کی دعاؤں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے ایک دوسری روایت نقل ہوئی ہے: ’’اور میری پھوپھی زینب(س)، اس رات بھی اپنی عبادت گاہ میں کھڑی خداوندِ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد و استغاثہ کر رہی تھیں۔ اس رات ہم میں سے کسی کی آنکھ نیند سے آشنا نہ ہوئی اور ہمارے نالہ و شیون کی آواز بھی بند نہ ہوئی۔‘‘ (۱۰)

یہ روایات ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے لیے عبادت محض ایک مذہبی عمل نہیں تھا بلکہ یہ صبر، ثابت قدمی اور مصائب کے مقابلے میں ایمان کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی تھا۔ آپ کی عبادت خالص بندگی اور خالقِ یکتا سے دائمی رابطے کی بے مثال تصویر پیش کرتی ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا علم اور سخنوری

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی ان ممتاز خواتین میں سے ہیں جنہیں نہ صرف اخلاقی فضائل بلکہ علم، فصاحت اور بلاغت میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوشِ تربیت میں پرورش پائی اور ان دونوں عظیم ہستیوں کے علم و معرفت سے فیض حاصل کیا۔ ایسے علمی و روحانی خاندان میں تربیت پانے کے نتیجے میں آپ قرآن، احکامِ دین اور معارفِ الٰہی کی گہری معرفت رکھنے والی خاتون بنیں۔ آپ کا وسیع علم، قوتِ بیان اور خطابت کی صلاحیت اس امر کا سبب بنی کہ تاریخِ اسلام کے فیصلہ کن لمحات میں آپ ایک توانا خطیب اور مدافعِ حق کی حیثیت سے سامنے آئیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی فصاحت و بلاغت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے دیگر فضائل میں آپ کی سخنوری، فصاحت، بلاغت اور علم بھی شامل ہیں۔ آپ نے سخنوری اور فصاحت اپنے والدینِ گرامی سے ورثے میں پائی تھی۔ بازارِ کوفہ، دربارِ یزید اور عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ آپ کی گفتگو میں ایسے الفاظ اور اسلوب دکھائی دیتے ہیں جو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے خطبات سے مشابہت رکھتے ہیں۔

آپ کے خطبات ایسے حالات میں ادا ہوئے جب آپ پیاس، بھوک اور بے خوابی کے علاوہ بے شمار روحانی صدمات اور غموں سے دوچار تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی سرپرستی اور سفر کی تھکن برداشت کرنے کی ذمہ داری بھی آپ کے کاندھوں پر تھی۔
بشیر بن خزیم اسدی سے نقل کیا گیا ہے: ’’جس دن یہ قافلہ داخل ہوا، میں نے دیکھا کہ زینب سلام اللہ علیہا موجود ہیں۔ اس دن میں نے زینب سے زیادہ فصیح، توانا اور مؤثر خطیب کسی عورت کو نہیں دیکھا، اس کے باوجود کہ ان کے پورے وجود سے حیا و شرم جھلک رہی تھی۔ گویا وہ خطابت میں اپنے بزرگ والد علی علیہ السلام کے مکتب کی تربیت یافتہ شاگرد تھیں۔ ‘‘(۱۱)

اگرچہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہایت سخت حالات میں، اسیری اور بے وطنی کی کیفیت میں، بغیر کسی پیشگی تیاری کے گفتگو کر رہی تھیں، لیکن آپ کے خطبات اس قدر مؤثر تھے کہ لوگوں کے دلوں میں اتر گئے اور انہیں غفلت کی نیند سے بیدار کر دیا۔

’’حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے خطابت کی مشق اور کسی قسم کی خصوصی تعلیم کے بغیر، بھوک، پیاس، تھکن اور غم کی حالت میں، اسیری اور بے وطنی کے دوران ایسی گفتگو فرمائی جس نے لوگوں کے ضمیر کو بیدار کردیا۔ آپ کے کلمات سن کر مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کی گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہو گئیں۔‘‘ (۱۲)

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا علم

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا علم و معرفت آپ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ہے، جو آپ کے خطبات میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ آپ نے کوفہ اور دربارِ یزید میں قرآنِ کریم کی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حقائق کو واضح کیا۔

’’کوفہ میں آپ کے خطبات اور یزید سے ملاقات کے دوران آپ کی گفتگو، جس میں قرآن کی آیات سے استدلال کیا گیا تھا، آپ کے علم و دانش کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘ (۱۳)

امام زین العابدین علیہ السلام نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علم کے بارے میں آپ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے زینب! بحمدللہ، آپ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی، اور ایسی دانا ہیں جنہوں نے کسی سے علم حاصل نہیں کیا۔‘‘ (۱۴) اسی وجہ سے آپ کا ایک لقب ’’عالمۂ غیر معلّمہ‘‘ بھی ہے۔ یہ لقب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بلند علمی مقام کی عکاسی کرتا ہے؛ ایسا علم و معرفت جو محض انسانی تعلیم و تربیت تک محدود نہ تھا بلکہ اہلِ بیت علیہم السلام کی علمی و روحانی میراث اور سرچشمۂ وحی سے وابستگی کا مظہر تھا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی علمی قوت اور خطابت نے تاریخ کے انتہائی دشوار حالات میں حقائق کو آشکار کیا اور تحریکِ حسینی کا پیغام دنیا تک پہنچایا۔ دربارِ یزید میں آپ کے پرعزم اور پُراثر کلمات نے ظلم و استبداد کی حکومت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور تاریخِ اسلام پر گہرے اثرات مرتب کئے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر و استقامت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام میں صبر، استقامت اور ثابت قدمی کی ایک عظیم مثال ہیں۔ آپ نے زندگی کے تمام مراحل میں، خواہ وہ بچپن کا زمانہ ہو یا اپنے برادرِ گرامی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے دشوار حالات، صبرِ جمیل کا مظاہرہ کیا۔

آپ کا صبر محض خاموشی کے ساتھ مصائب برداشت کرنے کا نام نہ تھا بلکہ یہ ایسا باشعور صبر تھا جو بصیرت، تدبیر اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے ساتھ وابستہ تھا۔ سخت ترین حالات میں بھی آپ نے کمزوری یا مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیا اور دین و اسلامی اقدار کے تحفظ کی راہ میں ثابت قدم رہیں۔

واقعۂ عاشورا میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر و استقامت کا سب سے نمایاں مظہر، روزِ عاشورا کے مصائب اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کو برداشت کرنا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے عزیز ترین افراد کو شہید ہوتے دیکھا؛ امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے لے کر اپنے فرزندوں اور امام کے وفادار اصحاب کی شہادت تک، ہر سانحہ آپ کے سامنے پیش آیا۔ اس کے باوجود آپ نے نہ صرف ہمت نہیں ہاری بلکہ مستحکم ایمان اور معرفتِ الٰہی سے لبریز قلب کے ساتھ ان مصائب کو برداشت کیا اور پیغامِ عاشورا کی وضاحت و تبلیغ کی اپنی عظیم ذمہ داری بخوبی ادا کی۔

’’صبر و بردباری کے اس عظیم الٰہی جوہر کے بلند مقام کے لیے یہی کافی ہے کہ جب آپ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے نورانی اور خون آلود پیکر کے پاس کھڑی ہوئیں تو آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کیا: اے پروردگار! ہماری طرف سے اس مختصر قربانی اور اپنے راستے میں شہید ہونے والے کو قبول فرما۔‘‘ (۱۵) یہ کلمات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مشیتِ الٰہی کے سامنے تسلیم و رضا اور حکمتِ پروردگار پر ان کے گہرے ایمان کی انتہا کو ظاہر کرتے ہیں۔

ظلم اور دشمنوں کی تحقیر کے مقابلے میں استقامت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صرف مصائب کے مقابلے میں ہی صبر و استقامت کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ دشمنوں کی توہین اور تحقیر کے سامنے بھی ثابت قدم رہیں۔ مجلسِ ابن زیاد میں جب اس نے طنزیہ کلمات کے ذریعے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ذلیل کرنے اور آپ کے دکھوں میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کی تو آپ نے حکمت، وقار اور عزت سے بھرپور جواب دیا۔
ابن زیاد نے آپ سے کہا: ’’تم نے اپنے بھائی اور اپنے خاندان کے ساتھ خدا کے معاملے کو کیسا پایا؟‘‘ اس جملے کے ذریعے وہ دراصل پیش آنے والے مصائب کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرانا اور طنزیہ انداز میں آپ کو اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صبر و استقامت کے ساتھ جواب دیا: ’’میں نے خوب صورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ‘‘(۱۶) یہ جواب نہ صرف مشیتِ الٰہی کے سامنے آپ کی تسلیم و رضا کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آپ کے ایمان کی قوت، حقیقتِ عاشورا کی گہری معرفت اور بلند بصیرت کا بھی مظہر ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی نگاہ میں کربلا کا واقعہ شکست نہ تھا بلکہ حق کی باطل پر عظیم فتح تھی، جس کا ثمرہ قیامِ حسینی کی تاریخ میں بقا اور سوئے ہوئے ضمیروں کی بیداری کی صورت میں ظاہر ہوا۔

آپ کا صبر و استقامت صرف مصائبِ عاشورا کو برداشت کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ کی پوری زندگی بردباری، ایثار اور راہِ خدا میں ثابت قدمی کے مظاہر سے عبارت تھی۔ انتہائی دشوار حالات میں بھی آپ نے ہمت نہیں ہاری بلکہ مضبوط عزم کے ساتھ پیغامِ عاشورا کی تبلیغ اور حقائق کی وضاحت کا سلسلہ جاری رکھا۔

آپ کا صبر، شعور، مقصد، الٰہی اقدار کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد سے وابستہ تھا۔ یہی نمایاں خصوصیت آپ کو ان تمام انسانوں کے لیے بے مثال نمونۂ عمل بناتی ہے جو حق و عدالت کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا، کربلا کی قہرمان خاتون، تاریخِ اسلام میں شجاعت، صلابت اور روحانی قوت کی بے مثال، مثال ہیں۔ آپ کی شجاعت صرف میدانِ کربلا تک محدود نہ تھی بلکہ اپنے زمانے کے طاغوتوں، یعنی ابن زیاد اور یزید، کے سامنے بھی نمایاں ہوئی۔

آپ کی پرورش ایسے عظیم والد، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، کی آغوش میں ہوئی جو شجاعت اور دلیری کا مظہر تھے، اور ایسی عظیم والدہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، کی تربیت میں ہوئی جو دفاعِ حق میں صلابت و استقامت کی مثال تھیں۔ ایسی تربیت نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اس قابل بنایا کہ آپ نے زندگی کے ہر مرحلے، خصوصاً واقعۂ کربلا اور دورانِ اسیری میں، ظلم و ستم کے سامنے شجاعت کے ساتھ قیام کیا اور حق کا دفاع فرمایا۔

ابن زیاد کے مقابلے میں شجاعت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت کی نمایاں مثالوں میں حاکمِ کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے آپ کے فیصلہ کن اور پُراثر کلمات شامل ہیں۔

اس وقت امام حسین علیہ السلام کے اہلِ خانہ اسیر تھے اور دشمن غرور و تکبر کے ساتھ اپنی طاقت کا اظہار کر رہا تھا۔ ایسے حالات میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا پورے وقار اور استقامت کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور اپنے مضبوط کلمات کے ذریعے ابن زیاد کی مصنوعی ہیبت کو پاش پاش کردیا۔

جب ابن زیاد نے خاندانِ رسول کو تحقیر کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا: ’’تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے عزت بخشی اور ہمیں ہر طرح کی آلودگی سے پاک رکھا۔ بے شک صرف فاسق ہی رسوا ہوتا ہے اور بدکار ہی جھوٹ بولتا ہے اور وہ ہم نہیں، بلکہ ہمارے سوا کوئی اور ہے۔ ‘‘(۱۷)

یہ کلمات اس وقت ادا کیے گئے جب ابن زیاد اقتدار کے عروج پر تھا اور اہلِ بیت علیہم السلام اسیری اور دشمن کے محاصرے میں تھے۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کسی خوف کے بغیر پورے اقتدار اور شجاعت کے ساتھ خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی شناخت یاد دلائی اور دشمن کو رسوا کردیا۔

آپ کا یہ موقف نہ صرف آپ کی بے مثال جرأت کا ثبوت تھا بلکہ اس کے ذریعے قیامِ عاشورا کی حقیقت بھی مزید واضح ہوئی۔

دربارِ یزید میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت کا ایک اور درخشاں منظر شام میں یزید بن معاویہ کے دربار میں سامنے آیا۔

اس وقت یزید خود کو میدان کا فاتح سمجھ رہا تھا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو ذلیل و خوار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا غیر معمولی شجاعت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی ہوئیں اور اپنے کلمات کے ذریعے اس کی حقیقی شخصیت کو لوگوں کے سامنے آشکار کردیا۔

ایک روایت میں نقل ہوا ہے: ’’جب ہمیں یزید بن معاویہ کے سامنے بٹھایا گیا تو ابتدا میں اس نے ہم پر ترس کھایا اور نرمی و مہربانی سے پیش آیا۔ اسی دوران شام کا ایک سرخ رنگت والا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے امیرالمؤمنین! اس لڑکی کو مجھے عطا کر دیجئے۔ اس کی مراد میں تھی کیونکہ میں خوب صورت لڑکی تھی۔ میں خوف زدہ ہوگئی اور گھبرا گئی۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ ایسا کر گزرے گا چنانچہ میں نے اپنی بڑی بہن کا دامن تھام لیا۔ میری بہن نے اس شامی سے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا اور ملعون ہو گئے! یہ حق نہ تمہیں حاصل ہے اور نہ اسے یعنی یزید کو۔ یزید ان باتوں سے سخت غضب ناک ہوا اور کہنے لگا: تم نے جھوٹ کہا، خدا کی قسم! اگر میں چاہوں تو ایسا کر سکتا ہوں۔ میری بہن نے فرمایا: خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں۔ تمہارے خدا نے تمہیں یہ حق نہیں دیا مگر یہ کہ تم ہمارے دین اور ملت سے خارج ہوجاؤ۔ یزید غصے میں آکر بولا: تم مجھ سے اس طرح بات کرتی ہو؟ تمہارے والد اور بھائی بھی دین سے خارج ہو گئے تھے! میری بہن نے جواب دیا: خدا کے دین! میرے والد، میرے بھائی اور میرے نانا کے دین ہی کے ذریعے تم، تمہارے نانا اور تمہارے والد ہدایت پا سکے تھے۔‘‘ (۱۸)

یہ تاریخی مکالمہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت اور استقامت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ دشمن کے دربار میں اسیری کی حالت میں موجود تھیں لیکن پوری جرأت اور بے خوفی کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام کی حقانیت کا دفاع کیا اور یزید کی حکومت کی مشروعیت کو چیلنج کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت صرف خطبات تک محدود نہ تھی بلکہ آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں نمایاں تھی۔ مصائب کے سامنے ثابت قدم رہنا، مشکلات میں صبر کرنا، اسیرانِ اہلِ بیت کے قافلے کی ذمہ داری سنبھالنا اور واقعۂ عاشورا کے بعد لوگوں کی رہنمائی کرنا، سب آپ کی بے مثال شجاعت کے مظاہر ہیں۔

آپ نے صرف میدانِ جنگ ہی میں نہیں بلکہ فکری اور اعتقادی محاذ پر بھی ایک عظیم مجاہد کی طرح ظلم و ستم کے خلاف قیام کیا اور اپنے کلمات سے طاغوتی حکومت کی بنیادوں کو ہلا دیا۔

آج بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شجاعت ان تمام انسانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے جو حق طلبی کی راہ پر گامزن ہیں۔ آپ نے ثابت کیا کہ سخت ترین حالات میں بھی ایمان، استقامت اور شجاعت کے ذریعے حق کا دفاع اور ظلم کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ایثار و فداکاری

حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام میں ایثار و فداکاری کی ایک بلند مثال ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی میں بارہا ذاتی حقوق اور راحت و آسائش کو قربان کیا اور بلند الٰہی مقاصد کے حصول اور ولایت کی حمایت کے لیے بے مثال فداکاریاں انجام دیں۔ آپ کی یہ صفت واقعۂ کربلا اور اسیریِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دوران سب سے زیادہ نمایاں ہوئی۔

امام حسین علیہ السلام کی حمایت اور قیامِ عاشورا میں ایثار

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی مدد و نصرت کے لیے اپنی تمام دنیاوی وابستگیوں کو قربان کردیا۔ آپ نے مدینہ میں اپنا گھر اور شوہر چھوڑا اور مستقبل کی دشواریوں سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود اس راستے پر قدم رکھا جو مصائب و آلام سے بھرا ہوا تھا۔ اس سفر میں آپ کی سب سے بڑی فداکاری یہ تھی کہ آپ نے اپنے دو عزیز فرزندوں، محمد اور عون کو راہِ خدا میں قربان کردیا۔

تاریخ میں نقل ہوا ہے: ’’آپ کے ایثار کی انتہا روزِ عاشورا اس وقت نمایاں ہوئی جب آپ اپنے دونوں فرزندوں، محمد اور عون، کو شہادت کے لیے امام حسین علیہ السلام کے پاس لے کر آئیں۔‘‘ (۱۹) یہ اقدام نہ صرف اپنے زمانے کے امام سے آپ کی محبت اور وفاداری کی علامت تھا بلکہ اس ایثار و فداکاری کا نمونہ بھی تھا جو آپ نے اپنے عظیم والدین، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، سے ورثے میں پایا تھا۔

دورانِ اسیری میں ایثار

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا ایثار صرف میدانِ کربلا تک محدود نہیں تھا۔ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کے بعد جب اسیرانِ اہلِ بیت کا قافلہ کوفہ اور شام کی جانب روانہ ہوا، تب بھی آپ نے ایثار و فداکاری کو اپنے کردار کا بنیادی اصول بنائے رکھا۔ ’’آپ واقعۂ کربلا میں اپنے حصے کا پانی بچوں کو دے دیتی تھیں اور کوفہ سے شام کے راستے میں اسیری کے دوران، بھوک اور پیاس کے باوجود اپنے حصے کا کھانا بچوں میں تقسیم کر دیتی تھیں۔‘‘(۲۰)

یہ عمل ایک ایسی شفیق ماں کی ایثار و فداکاری کا مظہر ہے جو مصائب کی انتہا میں بھی دوسروں کے آرام و سکون کی فکر کرتی تھی اور سخت ترین حالات میں بھی دوسروں کو خود پر مقدم رکھتی تھی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی ایثار و فداکاری کے ذریعے محبت، وفاداری اور قربانی کی ایک بے مثال تصویر پیش کی۔ زندگی کے تمام مراحل، بالخصوص کربلا اور اسیری کے دوران، آپ نے اپنی راحت اور حتیٰ کہ اپنے عزیز ترین افراد کی قربانی دے کر حق اور بلند الٰہی مقاصد کی حفاظت کی۔ آج بھی آپ کا ایثار ان تمام انسانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے جو حق طلبی اور مزاحمت کی راہ پر گامزن ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیا و عفت

حیا و عفت بہترین اخلاقی صفات میں سے ہیں، جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت میں انتہائی بلند درجہ پر جلوہ گر تھیں۔ اس عظیم خاتونِ اسلام نے اپنی زندگی کے تمام مراحل میں عفت و پاک دامنی کو برقرار رکھا اور اپنے لباس و کردار میں حیا و عفتِ علوی و فاطمی کی عملی تصویر پیش کی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا حجاب اور عفاف اس قدر بلند اور ممتاز تھا کہ تاریخِ اسلام میں آپ کو مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک بے مثال نمونۂ عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مدینہ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عفت و حیا

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے عظیم والد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تربیت کے زیرِ سایہ عفت و حیا کا ایسا بے مثال مقام حاصل کیا کہ گھر کے ماحول میں بھی آپ کی یہ صفت نمایاں تھی۔

نقل کیا گیا ہے: ’’جب آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتیں تو آپ کی قبرِ مبارک کے اطراف میں موجود شمعیں اور چراغ بجھا دیے جاتے، تاکہ کہیں کوئی آپ کا سایہ نہ دیکھ لے۔ ‘‘(۲۱)

یہ طرزِ عمل حیا و عفاف کی حفاظت کے سلسلے میں آپ کی غیر معمولی حساسیت اور اہتمام کو ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ آپ یہ بھی پسند نہیں کرتی تھیں کہ نامحرموں کی نگاہ آپ کے سائے پر پڑے۔

یحییٰ مازنی، جو اس زمانے کے ایک بزرگ عالم تھے اور برسوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پڑوس میں رہے، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عفت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ’’میں مدتوں مدینہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں رہا اور میرا گھر حضرت علی علیہ السلام کی صاحبزادی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے گھر کے قریب تھا۔ خدا کی قسم! کبھی میری نگاہ ان پر نہیں پڑی اور نہ ہی کبھی ان کی آواز میرے کانوں تک پہنچی۔

جب وہ اپنے جد بزرگوار رسولِ گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لیے جانا چاہتیں تو رات کے وقت گھر سے باہر تشریف لے جاتیں۔ امام حسن علیہ السلام ان کے دائیں جانب اور امام حسین علیہ السلام ان کے بائیں جانب ہوتے جبکہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ان کے آگے چلتے تھے۔ جب وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کے قریب پہنچتیں تو حضرت علی علیہ السلام آگے بڑھ کر چراغ کی روشنی کم کردیتے تھے۔ ایک مرتبہ امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار سے اس عمل کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ کوئی تمہاری بہن زینب کی طرف نگاہ نہ کرے۔‘‘ (۲۲)

روزِ عاشورا تک حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا عفاف

حضرت زینب سلام اللہ علیہا عفت و پاک دامنی کی بے مثال شخصیت تھیں۔ آپ نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جیسے عظیم والدین کی آغوش میں تربیت پائی۔ آپ حجاب اور اپنی عزت و کرامت کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کرتی تھیں کہ نقل کیا گیا ہے: ’’زینب حجاب و عفاف میں اپنے زمانے کی یگانہ شخصیت تھیں۔ اپنے والد اور بھائیوں کے زمانے میں روزِ عاشورا تک کسی مرد نے انہیں نہیں دیکھا تھا۔‘‘ (۲۳) یہ توصیف اسلامی، اخلاقی اقدار اور حجاب کے سلسلے میں آپ کی غیر معمولی پابندی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ عفت و حیا روزِ عاشورا تک برقرار رہی لیکن اس کے بعد دشمنوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیر کرکے ان کی الٰہی کرامت کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی بے مثال شجاعت اور استقامت کے ذریعے وقار و متانت کو برقرار رکھا اور تاریخ میں اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت و عزت کی پیامبر بن گئیں۔

دورانِ اسیری میں حیا و عفت

واقعۂ عاشورا کے بعد جب اہلِ بیت علیہم السلام کو اسیر بنایا گیا تو دشمنوں نے توہین و تحقیر کے ذریعے اس خاندان کی بلند شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سخت ترین حالات میں بھی اپنی عفت و حیا کو برقرار رکھا۔

نقل کیا گیا ہے کہ کوفہ اور شام میں بیڑیوں، زنجیروں اور دشمنوں کے محاصرے کے باوجود آپ نے کبھی بے پردگی اختیار نہیں کی اور حجاب کے تقاضوں کا خیال رکھا۔ دربارِ یزید میں جب دشمن اہلِ بیت علیہم السلام کی توہین پر آمادہ تھے تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی تحقیر آمیز نگاہوں اور گستاخانہ رویّے کے جواب میں شجاعت و اقتدار کے ساتھ فرمایا: ’’اے یزید! کیا یہ انصاف ہے کہ تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواتین اور بیٹیوں کو اسیروں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے اور ان کی حرمت کو پامال کرے ‘‘؟!

یہ کلمات ظاہر کرتے ہیں کہ مصائب کی انتہا میں بھی آپ کی عفت و حیا مجروح نہیں ہوئی اور آپ نے اپنی اور دیگر اسیرانِ اہلِ بیت کی عزت و کرامت کے تحفظ پر زور دیا۔ یہ کہنا بجا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام میں عفت و حیا کی ایک درخشاں مثال ہیں۔ مدینہ میں آپ کا طرزِ عمل، کربلا کے واقعات اور اس کے بعد کے حالات، سب اس عظیم خاتون کے بلند اخلاقی و اسلامی مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آپ کی عفت و حیا نہ صرف مسلمان خواتین کے لیے نمونۂ عمل ہے بلکہ ان تمام انسانوں کے لیے بھی ایک سبق ہے جو عزت، کرامت اور پاک دامنی کے خواہاں ہیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے حجاب اور عفت کی حفاظت کرکے تاریخ میں خواتین کی عزت و کرامت کا پیغام دیا اور ثابت کیا کہ حیا، عفت اور وقار کمزوری نہیں بلکہ انسان کی روحانی قوت اور عظمت کی نشانیاں ہیں۔

اختتامی کلمات

اس مضمون میں ہم نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے بعض فضائل و خصوصیات، مثلاً عبادت، علم و سخنوری، صبر و استقامت، شجاعت، ایثار و فداکاری اور حیا و عفت کا ذکر کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ان تمام اخلاقی صفات میں ممتاز اور بلند مرتبہ تھیں۔ آپ کے القاب بھی ان فضائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ کا لقب ’’عابدہ‘‘ آپ کی عبادت اور شب بیداری کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ’’عالمہ‘‘ اور ’’عالمۂ غیر معلّمہ‘‘ آپ کے علم و معرفت اور قوتِ بیان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ’’عصمت اللہ‘‘ کا لقب آپ کی پاکیزگی، عفت اور حیا کو نمایاں کرتا ہے جبکہ ’’صابِرہ‘‘ کا لقب ان غموں، مصائب اور روحانی تکالیف کے مقابلے میں آپ کے صبر و استقامت کو ظاہر کرتا ہے جن کا سامنا آپ کو روزِ عاشورا اور واقعۂ کربلا کے دوران کرنا پڑا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے ان القاب اور فضائل کے ذریعے تاریخِ اسلام کے تمام مسلمانوں کو فداکاری، ایثار، قربانی اور مصائب پر صبر کا درس دیا۔

اس مضمون کو تحریر کرنے کا مقصد کربلا کی اس عظیم خاتون کے فضائل سے مزید آگاہی حاصل کرنا اور ان کی سیرت سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی لینا ہے۔ امید ہے کہ اس تحریر کے مطالعے سے آپ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی اور ان کی نمایاں خصوصیات سے مزید واقف ہوں گے اور ان کے اخلاقی و الٰہی فضائل سے اپنی زندگی میں استفادہ کرسکیں گے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1. زینب کبری، ص 137 ـ 138. شریف‌القرشی، السیده زینب، ص 39.

2. مجلسی، ۱۴۰۳ھ، جلد ۴۳، صفحہ ۵۸

3. جزائری، الخصائص الزینبیه، ص 52 ـ 53.

4. امین، اعیان‌الشیعه، ج7، ص 137.

5. زینب کبری عقیله بنی هاشم، حسن الهی، ص 76.

6. ابن‌الاثیر، اسد الغابه، ج6، ص 133.

7. جعفرالنقدی، زینب کبری بنت الامام، ص 61.

8. محلاتی، ذبیح‌الله، ریاحین‌الشریعه، ج3، ص 61. جزایری، سید نورالدین، خصائص زینبیه، ص 120.

9. نقدی، جعفر، زینب کبری (س)، ص 62.

10. نقدی، جعفر، زینب کبری (س)، ص 62. هاشمی خطیب، علی بن حسین، عقیله بنی هاشم، ص 14.

11. طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اهل اللجاج، ج2، ص 29.

12. علامه مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج45، ص 108.

13. کحاله، اعلام النساء، ج2، ص 92 ـ 97.

14. وفیات‌الائمه، ص 441.

15. مقتل سید الشهدا و اصحابه، ص 54، محمدی ری شهری. امام حسین بر پایه قرآن، حدیث و تاریخ، ج8، ص 427.

16. بحارالانوار، ج45، ص ص 116.

17. علامه مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص 115.و ص 154.

18. صدق، محمد بن علی، الامالی، ص 231.

19. سپهر، عباس قلی خان، طرازالمذهب مظفری، ص 74.

20. محلاتی، ذبیح‌الله، ریاحین‌الشریعه، ج3، ص 62.

21. وفیات‌الائمه، ص 435 ـ 436.

22. فاطمه زهرا (س)، شادمانی دل پیامبر، ص 862 . وفیات‌الائمه، ص 435 ـ 436.

23. انصاری زنجانی، اسماعیل، الموسوعه الکبری فاطمه الزهرا، ج5، ص 360.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha