بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر حسین محبی نے آج کرج میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جنگِ رمضان، امریکہ کی طرف سے ایک ایسے ملک کے ساتھ جنگ ہے جو 47 سال سے پابندیوں کا شکار ہے، اور ایران کی طرف سے ایک ایسی سپرپاور کے ساتھ جنگ ہے جس نے جنگی آلات کے لحاظ سے دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسداران حسین محبی نے کہا:
• جنگِ رمضان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ادراکی جنگ (Cognitive Warfare) ہے جس کی پشت پر فوجی اوزار ہیں، یعنی دشمن فوجی میدان میں اس لئے لڑ رہا ہے کہ ہمارے عوام کے لئے یہ تصور و ادراک پیدا کرے اور انہیں اس نتیجے پر پہنچائے کہ وہ جیت رہا ہے۔
• ادراکی جنگ کا مطلب ہے انسانی ادراکی نظام، سماجی حقائق کے بارے میں اس کی سمجھ اور شناخت میں خلل ڈالنے کے لئے جنگ، دشمن نے ہمارے عوام کی سماجی حقائق کے بارے میں سمجھ بدلنے کے لئے تمام سائنسی اور نفسیاتی وسائل استعمال کئے ہیں۔
• انسانی ادراکی نظام میں خلل ڈالنے کے کاموں میں سے ایک، 'دماغ کے بافتی خلیوں میں خلل' ڈالنا ہے، اور ادراکی نظام میں خلل ڈالنے کے طریقوں میں سے ایک 'کلامی اور تصویری تشریحات' کا استعمال ہے۔ کلامی بیانات جب بار بار دہرائے جائیں تو ایک قسم کی فہم [اور مسلمہ حقیقت] پیدا کرتے ہیں اور انسانی ادراکی نظام میں خلل ڈالتے ہیں۔
• دشمن نے عوام کے ادراک میں خلل ڈالنے کے لئے پوری کوشش کی تاکہ عوام کی خدمت کرنے والوں کو غدار اور غداروں کو خدمت گزار کے طور پر متعارف کرائے، اس جنگ میں اس نے فوجی ہتھیاروں کے ذریعے یہ خلل پیدا کرنا چاہا۔
جنگِ رمضان میں امریکہ کے اہداف تزویراتی اہمیت سے عاری
• دشمن اپنی کروڑوں ڈالر کے میزائل کو بسیج کے ایک خالی اڈے پر مارتا ہے؛ چاہے خالی نہ بھی ہو، وہاں کتنے افراد ہونگے؟ اس حملے کا کوئی حقیقی فوجی فائدہ نہیں ہے؛ ایک پولیس اسٹیشن جس میں 10-15 افراد ہوں، اس کی کیا تزویراتی اہمیت ہو سکتی ہے کہ اس پر انتہائی مہنگے میزائل برسائے جائیں؟
• عام جنگوں میں یہ رواج نہیں کہ صدر اور ملک کے اعلیٰ ترین ذمہ داران اور عہدیداران کو نشانہ بنایا جائے، لیکن دشمن ایسا کیوں کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہی ملک کے چلانے والے ہیں، اگر انہیں قتل کر دیا تو کوئی نہیں بچے گا اور تم آسانی سے ملک میں داخل ہو سکتے ہو!
• امریکی صدر کہتا ہے کہ ہم نے اقتصادی جنگ کا حکم دیا اور ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی جنگ شروع کی۔ یہ فوجی میدان میں دشمن کی رسوا کن شکست کا ایک غیر ارادی اعلان و اعتراف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ