بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بیلسٹک میزائل "عماد" حالیہ مہینوں میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس فورس کے مؤثر اور اسٹراٹیجک ہتھیاروں میں سے ایک بن گیا ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی میزائل کارروائیوں میں امریکی دشمن کے جرائم کے جواب میں ہونے والی کاروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
امضمون کا جامع خلاصہ:
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے تحت بیلسٹک میزائل "عماد" کو ایک انتہائی مؤثر اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
یہ میزائل متعدد آپریشنز ـ جن میں "وعدہ صادق 4" اور "نصر 2" شامل ہیں ـ میں امریکی فوجی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے بروئے کار لایا گیا۔

تازہ ترین اور اہم ترین کارروائی اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے "موفق السلطی" پر حملہ تھا۔
یہ اڈہ مشرقی اردن میں شام اور عراق کی سرحدوں کے قریب واقع ہے اور گذشتہ برسوں سے امریکی فوج کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں F-15، F-16 جنگی طیارے، MQ-9 ڈرونز، انٹیلیجنس اور جاسوسی کے آلات، فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے، اور اسپیشل آپریشن فورسز تعینات ہیں۔

اس اڈے سے شام، عراق اور پورے خطے میں امریکی فضائی حملے، نگرانی، معلومات جمع کرنے، اور فوجی آپریشنز کی ہدایت کاری کی جاتی ہے۔
مزید برآں، یہ اڈہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کا کلیدی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے، اسی لئے اس پر حملہ محض ایک فضائی تنصیب کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ امریکی کمانڈ، سپورٹ اور آپریشنل نیٹ ورک کو براہِ راست نقصان پہنچانا تھا۔

میزائل "عماد" ایران کے میزائل پروگرام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ ایران کا پہلا مائع ایندھن والا طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جو جدید گائیڈڈ وارہیڈ سے لیس ہے۔

اس میزائل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پرواز کے آخری مراحل میں اس پر لگے چھوٹے پنکھ راستے میں رخ کی اصلاح کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے نشانے کی درستگی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس میزائل کی لمبائی 15/5 میٹر، وزن 17 ٹن، وارہیڈ کا وزن 750 کلوگرام، اور رینج 1700 کلومیٹر ہے۔
یہ کارٹریج بیسڈ لانچ سسٹم کے ذریعے مختصر وقت میں متعدد میزائل داغنے (برسٹ فائر) کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

مختلف کاروائیوں میں "عماد" کا بار بار استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اب محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں، بلکہ میدانِ جنگ میں آزمایا ہؤا اور قابلِ اعتماد ہتھیار بن چکا ہے جسے دشمن کے اہم ترین کمانڈ اور آپریشنل مراکز کو نشانہ بنانے کے لئے ترجیح دی جاتی ہے۔
اس میزائل نے ثابت کیا ہے کہ وہ بہتر درستگی، طویل فاصلے، اور بھاری وارہیڈ کے ساتھ امریکی مفادات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
"عماد" ایران کے دفاعی بازو کی طاقت اور امریکی جارحیت کے خلاف اس کے پختہ عزم کا ایک روشن استعارہ ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ایک واضح اور سخت پیغام ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
عماد میزائل کا نام حزب اللہ کے عظیم کمانڈر شہید عماد مغنیہ سے لیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ