بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف آج صبح ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ عراق کے اعلیٰ حکام اور اس ملک کی سینیئر عہدیداروں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کی بہتری، سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے بغداد پہنچے۔ بغداد میں داخل ہوتے ہی انھوں نے شہید الحاج قاسم سلیمانی اور شہید الحاج ابومہدی المہندس کے مقام شہادت پر حاضر ہو کر ان دونوں عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
قالیباف نے شہداء کے مقام شہادت پر کہا: میں اپنا سفر یہاں سے شروع کر رہا ہوں، یعنی اس جگہ سے جہاں ایران اور عراق کی تاریخ کی دو عظیم ترین شخصیات کو شہید کیا گیا۔ یہ نقطہ علاقے کی تاریخ میں ایک اہم علامت ہے اور دونوں قوموں کے اشتراکات کی نشانی ہے، جہاں ایران اور عراق کے دو ہیروز کا خون ایک ساتھ بہایا گیا۔
اسپیکر مجلس نے کہا: یہ جگہ حق و باطل کی محاذ آرائی کی علامت ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں امریکی دہشت گرد حکومت نے، جو باطل محاذ کا مرکزی مرکز ہے، جب دیکھا کہ مزاحمتی محاذ کی مضبوطی اور توسیع کو نہیں روک سکتی، تو حق محاذ کے دو عظیم مردوں کو شہید کر دیا۔ یقیناً وہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عراق، ایران اور پورے علاقے کو داعش کی شرارتوں سے نجات دلائی، وہی داعش جسے موجودہ امریکی صدر کے اقرار کے مطابق، امریکی حکومت نے تخلیق کیا تھا۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ 'لیکن کیا اس شہادت نے مزاحمت و مقاومت کی طاقت اور اثر و رسوخ کو روک لیا؟' اور کہا بس آپ علاقے کی موجودہ صورت حال پر ایک نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کون جیت رہا ہے؟
قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ سب نے جنگ رمضان میں ایران کی مقاومتی قوت کو دیکھ اور سمجھ لیا، اور کہا: عراق میں بھی مقاومت اس ملک کی طاقت کے عناصر میں سے ایک ہے۔ برسوں گذرنے کے ساتھ، مقاومت کا بیانیہ ایران، عراق اور علاقے کی سرحدوں سے آگے نکل کر عالمی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آج صہیونیوں کی گندی حقیقت اقوامِ عالم پر عیاں ہو چکی ہے اور اسرائیل کو بنی نوع انسان کا دشمن سمجھا جانے لگا ہے۔
اسپیکر مجلس نے زور دے کر کہا: جنگ رمضان کے بعد ہم علاقے کے امن و امان کے نظام میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ نئی علاقائی ترتیب (New Regional Order) کی رو سے، علاقائی امور میں اغیار اور ماورائے علاقہ عناصر کی مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ امریکی افواج علاقے سے باوقار انخلا کے منصوبے کی تلاش میں ہیں، اور صہیونی ریاست کا ہمارے علاقے میں کوئی مستقبل نہیں ہے، اور وہ بحر سے نہر (From the River to the Sea یعنی دریائے اردن سے بحیرہ روم) تک کا خواب تک بھی نہیں دیکھ سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ